خاتون جنت سیدة النساءالعالمین تسکین دل ِرسولِ کریم نجات دہندہ نسوانیت حضرت فاطمہ زہراؓ سیّدہ، زاہرہ، طیّبہ، طاہرہ جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

2017 ,مارچ 20



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک):ام المومنین حضرت عائشہ ؓ وحضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ روزقیامت عرش کی گہرائیوں سے ایک ندا دینے والا آواز دے گا۔ اے محشر والو ! اپنے سروں کو جھکا لو اور اپنی نگاہیں نیچی کرلو تاکہ فاطمہ بنت محمد مصطفی ﷺگزر جائیں ۔پس فاطمہ ز ہراؓ گزر جائیں گی اور آپ کے ساتھ ستر ہزار خادمائیں ہوں گی۔(فضائل الصحابہ احمد بن حنبل ،کنزالعمال ،محب طبری ،تذکرة الخواص ابن جوزی)۔ یہی روایت حضرت ابو ہریرہ ؓسے بھی ہے ۔(خطےب بغدادی ،محب طبری )۔۔

حضرت فاطمہؓ بعثت کے پانچویں سال(بعض روایات میں بعثت سے 5سال قبل )20جمادی الثانی، بروز جمعہ مکہ معظمہ میں رحمت للعالمین کے گھر ام المومنین خدیجة الکبریؓ کی پاکیزہ جھولی میں رحمت بن کرتشریف لائیں۔ فاطمہ کا مطلب ہے نار جہنم سے بچانے والی ۔سیدہ فاطمہ زہراؓ کے کئی القاب ہیں: زہرا، صدیقہ، طاہرہ، راضیہ، مرضیہ، مبارکہ، بتول،محدثہ،سیدة النساءالعالمین وغیرہ، آپ کا لقب "زہراء" دوسرے القاب سے زیادہ مشہور ہے لغت میں زہرا کے معنی تابندہ، اور روشن وغیرہ کے ہیں۔ایسی عظمت والی بی بی کی عظمت و رفعت و توصیف کوبیان یا رقم کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں جس کی طہارت و پاکیزگی قرآن میں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہاہو۔

کاغذ پہ پہلے سورہ مریم کو دم کروں تب فاطمہؑ کی عصمت و عفت رقم کروں(میر انیس) فاطمہؓ صرف خاتون جنت ہی نہیں عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں جن کا احترام وہ رسول اعظم بھی کرتے نظر آتے ہیں جن کی تعظیم ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں پر واجب ہے ۔ حضرت فاطمہ زہرا کو طبقہ نسواں کی نجات دہندہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگاعورت کی تحقیرتذلیل اور توہین کے خاتمہ کےلئے ذات خداوندی نے حضرت فاطمہ زہرؓا کا انتخاب کیا جس معاشرے میں لڑکے باعث افتخار سمجھے جاتے تھے وہاں افضل کائنات نبی کی نسل کا ذریعہ بیٹی کو قراردیا جاتا ہے ۔شہزادی کونین حضرت فاطمہؓ کی آمد نے فرسودہ روایات کی تاریکی کو تنویر سے بدل دیا ۔ کہاں بیٹی کو باعث ذلت سمجھا جاتا تھا اور کہاں کائنات کی شفاعت کرنے والے رسول اللہﷺ نے اپنی خوشنودی اور رضاو ناراضگی کو اپنی بیٹی سے مشروط کردیا۔ اور فرمایا” فا طمہ ؓ میرا ٹکڑا ہے جس نے اس کو غضبناک کیا اس نے مجھ کو غضبناک کیا۔(صحیح بخاری:متفق علیہ)۔۔۔

حضرت ابو بکر ؓ بیان فرماتے ہیں حضرت محمد مصطفےﷺکی خوشنودی آپ کی اولاد کی خدمت اور محبت میں سمجھو۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ تمہارے (اتباع و اقتداءکرنے) کے لئے چار عورتیں ہی کافی ہیں۔ مریم بنت عمران، فرعون کی بیوی آسیہ، خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد۔ (جامع ترمذی:جلد دوم متفق علیہ)۔۔۔

مستدرک علی الصحیحین میں امام حاکم نیشاپوری نقل کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے اپنے مرض موت میں حضرت فاطمہؓ سے فرمایا: بیٹی!کیا تم خو ش نہیں کہ تم امت اسلام اور تمام عالم کی عورتوں کی سردارہو۔۔ یہ حدیث بخاری و مسلم نے بھی نقل کی ہے ۔

آلوسی حدیث نبوی کو یوں نقل کرتے ہیں کہ "ِ فاطمہ بتول ؓ تمام گذشتہ اور آئندہ عورتوں سے افضل ہیں"۔(تفسیرروح المعانی)۔۔۔۔

ابن عباس پیغمبر خدا سے روایت کرتے ہیں چار خواتین اپنے زمانے کی دنیا کی سردار ہیں: مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم زوجہ فرعون ، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ، اور ان کے درمیان سب سے زیادہ افضل حضرت فاطمہؓ ہیں"۔ (الدر المنثور سےوطی)۔۔۔۔

آنحضرت کی حضرت فاطمہ ؓسے محبت کا یہ عالم تھا کہ رسول کریم جب سفر پر روانہ ہوتے تو اپنے اہل و عیال کے لوگوں میں سب سے آخری وقت حضرت فاطمہؓ کو عطا کرتے اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہؑ کے ہاں جاتے(مشکوة شریف:جلد چہارم)۔۔۔

امام فخر الدین رازی کے مطابق رسول خدا کے فرزندان رسول عبد اللہ و قاسم کے انتقال پر رسول کو ابتر کہنے والوں کے طعنے کا جواب بھی حضرت فاطمہ زہرا ؓ ہی تھیں جن سے نبی کی نسل چلی انہوں نے اپنی تفسیرکبیر میں سورہ کوثر کے ذیل میں اس سورہ مبارکہ کے بارے میں متعدد وجوہ بیان کی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ کوثر سے مراد آل رسول یعنی اولاد فاطمہؓ ہے۔ ۔۔۔

امام فخر الدین رازی ؒ کہتے ہیں: یہ سورت رسول اسلام کے دشمنوں کے طعن وعیب جوئی کو رد کرنے کے لئے نازل ہوئی۔ وہ آپ کو ابتر یعنی بے اولاد، جس کی یاد باقی نہ رہے اور مقطوع النسل کوکہتے تھے۔ اس سورت کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت کو ایسی بابرکت نسل عطا کرے گا کہ زمانے گزر جائیں گے لیکن وہ باقی رہے گی۔(تفسیر کبیر)۔۔۔۔اور یقینا ایسا ہی ہے آج دنیا کے کونے کونے میں موجود اولاد رسول یعنی سادات اس امر پر دلالت کرتی ہے جن سے نہ صرف نسل رسول باقی ہے بلکہ پوری دنیا میں تو حیدو رسالت و روحانیت کے پرچم لہرا رہے ہیں جبکہ رسول کو ابتر کہنے والوں کا کوئی نام لیوا نہیں ۔ تاابد باقی ہے اس دنیا میں اولاد ۔۔۔۔۔رسول سورہ کوثر کا زندہ معجزہ ہیں فاطمہ ؓ یہ اللہ کی عطا کردہ عظمت ہی ہے کہ فرشتے بھی نبی کی پیاری بیٹی کی نوکری کرتے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔

جب حضرت فاطمہؓ نما زمیں مشغول ہوتیں توفرشتے ان کے بچوں کا گہوارہ جھلاتے جب وہ قرآن پڑھنے میں مشغول ہوتیں توفرشتے ان کی چکی پیستے ۔آنحضور نے گہوارہ چلانے والے فرشتے کا نام جبریل اور چکی پیسنے والے کا نام اوقابیل بتایا(مناقب شہر آشوب)۔۔۔۔

جب مسجد نبوی میں تمام گھروں کے دروازے بند کر دیئے گئے تو واحد گھر جس کا دروازہ مسجد نبوی میں کھلا رہنے دیا گیا وہ حضرت فاطمہؓ کا ہی تھا۔محدثین بیان کرتے ہیں جس وقت سورہ نور کی یہ آیہ مبارکہ” (خدا کانور) ان گھروں میں روشن ہے جن کی نسبت خدا نے حکم دیا ہے کہ ان کی تعظیم کی جائے اور ان میں اس کا نام لیا جائے) پیغمبر اکرم پر نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم نے اس آیت کو مسجد میں تلاوت کیا ، اس وقت ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا : اے رسول گرامی! اس اہم گھر سے مراد کونسا گھر ہے؟۔۔۔۔۔ پیغمبراکرم نے فرمایا: پیغمبروں کے گھر!حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت فاطمہ ؓ وعلی ؓ کے گھر کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ کیا یہ گھر انہی گھروں میں سے ہے؟۔۔۔۔۔۔پیغمبر اکرم نے جواب دیا: ہاں ان میں سے سب سے زیادہ نمایاں یہی گھر ہے (در المنثور، ج۶ ۔تفسیر سورہ نور، روح المعانی)۔۔۔۔۔۔

حضرت فاطمہؓ وہ عظیم ہستی ہیں جن کے نکاح کی تقریب عرش پر بھی سجائی گئی حضرت انس بن مالک ؓسے مروی ہے کہ رسولﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ حضرت علی سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فاطمہؓ سے تمہاری شادی کردی ہے اور تمہارے نکاح پر چالیس ہزار فرشتوں کو گواہ کے طور پر مجلس نکاح میں شریک کیا گیااور شجر ہائے طوبی سے فرمایا ان پر موتی اور یاقت نچھاور کروپھر دلکش آنکھوں والی حوریں ان موتیوں اور یاقوتوں سے تھال بھرنے لگیں جنہیں (تقریب نکاح میں شرکت کرنے والے )فرشتے قیامت تک ایک دوسرے کو بطور تحفہ دیں گے “(محب طبری الریاض النضرة) “(مستدرک الحاکم )۔۔۔۔۔۔

حضرت بریدہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل نے عرض کیا”یا رسول اللہﷺ آپ اپنی اونٹنی عضباءپر سوار ہوکر قیامت کے روز گزریں گے ؟تو آپ نے فرمایا میں اس براق پر سوار ہوں گا جو نبیوں میں سے خصوصی طور پر مجھے عطا ہوگامیری سواری عضباءپر میری بیٹی فاطمہ سوار ہوگی “(ابن عساکر ،تاریخ دمشق الکبیر،کنز العمال ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاطمہ زہرا اسلام سے قبل عورت ایسے معاشرے میں زندگی بسر کررہی تھی جس میں انسانیت کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا عورت کی ذات کوباعث ننگ و عار سمجھاجاتا تھا قرآن مجید عورت پر روا ظلم و ستم کی تاریکی کا نقشہ کچھ اس انداز میں بیان فرماتا ہے ۔ترجمہ۔۔۔۔۔۔ اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوش خبری دی جائے تو اس کا منہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غمگین ہوتا ہے ۔بیٹی کی خبر کی عار سے قوم سے چھپا پھرتاہے (سوچتا ہے )آیا س کو اپنی ذلت پر رہنے دے یا اس کو خاک میں گاڑ دے (سورہ نحل 58-59)۔۔۔۔۔۔۔

حضرت فاطمہ ہی وہ ہستی ہیں جن کے وجود کو مثال بنا کر اسلام نے عورت کی عظمت کو بیان کیا حضرت فاطمہ عورت کو بخشے گئے مقام اور احترام کا اسلامی سمبل ہیں۔لیکن یہ امر باعث دکھ ہے کہ آج اسلام دشمن قوتیں مادر پدر آزادی کا جھانسہ دے کر عورت کو دوبارہ اسی دلدل میں دھکیلنا چاہتی ہیں خواتین اگر عزت سرخروئی چاہتی ہیں تو شیطانی قوتوں کے جھانسے میں آنے کی بجائے حضرت فاطمہ زہرا ؑ کی سیرت کی پیروی کریں جو مشکلات میں اپنے والد گرامی آنحضور کا سہارا بنیں کبھی کفار کے حملے میں باپ کے ساتھ ساتھ نظر آئیں جنگوں میں اپنے بابا کے زخم صاف کرتی رہیں ،اپنے شوہرکے ساتھ ہر سختی اور تنگی کو خوشدلی سے برداشت کیا کونین کے والی کی پیاری دختر چکیاں تک پیستی رہیں اور اولاد حضرت امام حسن و حسین و حضرت زینب و کلثوم کی ایسی تربیت کی کہ آپ کی اولاد نے تاریخ کے دہارے کو بدل ڈالا۔

چلو سلام کریں ایسے آستانے کو

حسین ؑ پال کے جس نے دیا زمانے کو

خداوند عالم قوم کی ماوں بہنوں بٹیوں کو سیرت فاطمہ زہرا ؑ پر چلنے کی توفیق مراحمت فرمائے ۔آمین بحق طہ و یسین ۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں