حضرت مسیح موعود ؑ کاعشق ِ رسول ﷺ آپ کی اپنی زبانی

2017 ,مئی 5



لاہور(مہرماہ رپورٹ): حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں

1۔     ’’ ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل وتوفیق باری تعالیٰ اس عالم گزران سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفی ؐ خاتم النبیین وخیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدا ئے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔‘‘

                                                (ازالہ اوہام ۔روحانی خزائن جلد 3ص169تا170 )

2۔     ’’وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پر زور دریا سے کمال تام کا نمونہ علماً وعملاً وصدقاً وثباتاً دکھلایا اور انسان کاملؐ کہلایا۔۔ ۔۔۔وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہوگیا وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ختم المرسلین فخر النبیین جناب محمد مصطفی ؐ ہیں۔ اے پیارے خدا اس پیارے نبیؐ پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔‘‘

                                                                   (اتمام الحجہ ۔روحانی خزائن جلد8ص 308)

 3۔     ’’اس قدر بدگوئی اور اہانت اوردشنام دہی کی کتابیں نبی کریم ؐکے حق میں چھاپی گئیں اور شائع کی گئیں کہ جن کے سننے سے بدن پر لرزہ پڑتا اور دل رورو کر یہ گواہی دیتا ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی اوردلی عزیزوں کو جو دنیا کے عزیز ہیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے اور ہمیں بڑی ذلت سے جان سے مارتے اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو واللہ ثم واللہ ہمیں رنج نہ ہوتا اور اس قدر کبھی دل نہ دکھتا جو ان گالیوں اور اس توہین سے جو ہمارے رسول کریمؐ کی کی گئی دُکھا۔‘‘

                                                (آئینہ کمالات اسلام ۔روحانی خزائن جلد5 ص 51تا52)

 4۔     حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اپنے پیارے آقا کا ذکر اپنے اردو منظوم کلام میں کچھ اس طرح کرتے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں:۔

پہلوں سے خوب تر ہے خوبی میں اک قمر ہے
اس  پر  ہر  اک  نظر  ہے  بدر الدجیٰ یہی ہے

وہ آج شاہ دیں ہے وہ تاج مرسلیں ہے
وہ طیب وامیں ہے اس کی ثناء یہی ہے

اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں
وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے

                                      (قادیان کے آریہ اور ہم ۔روحانی خزائن جلد 20 ص 456)

 4۔     ’’ میرا مذہب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ ؐ  کو الگ کیا جاتا اور کل نبی جو اس وقت تک گذر چکے تھے۔سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور وہ اصلاح کرنا چاہتے جو رسول اللہ ؐ نے کی ہر گز نہ کر سکتے ۔ان میں وہ دل اور وہ قوت نہ تھی جو ہمارے نبی ؐ کو ملی تھی ۔اگر کوئی کہے کہ یہ نبیوں کی معاذ اللہ سوء ادبی ہے تو وہ نادان مجھ پر افتراء کرے گا ۔میں نبیوں کی عزت اورحرمت کرنا اپنے ایمان کا جزو سمجھتا ہوں ،لیکن نبی کریم کی فضیلت کل انبیاء پر میرے ایمان کا جزو اعظم ہے اور میرے رگ وریشہ میں ملی ہوئی بات ہے ۔یہ میرے اختیار میں نہیں کہ اس کو نکال دوں۔ بدنصیب اور آنکھ نہ رکھنے والا مخالف جو چاہے سو کہے ہمارے نبی کریم ؐنے وہ کام کیا ہے، جو نہ الگ الگ اور نہ مل مل کر کسی سے ہو سکتا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ۔‘‘

                                                                                      (ملفوظات جلد 1ص420)

 5۔     ’’وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا ۔یعنی انسان کامل کو۔ وہ ملائک میں نہیں تھا ۔نجوم میں نہیں تھا۔قمر میں نہیں تھا۔آفتاب میں بھی نہیں تھا ۔وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا ۔وہ لعل اور یاقوت اور زمرّد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا۔ صرف انسان میں تھا۔ یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفی ؐ ہیں۔‘‘

                                      (آئینہ کمالات اسلام ۔روحانی خزائن جلد 5 ص 160تا161)

6۔     ’’میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمدؐ ہے(ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے اس کے عالی مقام کا انتہاء معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں ۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا ۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی۔اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔ اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضلیت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔‘‘

                                                (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد 22 ص 118تا119)

7۔     ’’ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں ۔یعنی وہی نبیوں کا سردار۔رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفےٰ و احمد مجتبیٰ ؐ ہے۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاربرس تک نہیں مل سکتی تھی۔‘‘

                                                                 (سراج منیر ۔روحانی خزائن جلد 12ص 82)

متعلقہ خبریں