یومِ حجاب

2019 ,اکتوبر 9



میں نے اس کو "حجاب ڈے" کے موقع پر باقی سب ہی بچیوں کے ساتھ سمجھایا تھا۔۔۔ کہ مسلمان لڑکیوں کے لیے بال ڈھانپنا، سکارف لینا کیوں ضروری ہے۔۔۔ وہ سمجھ گئی۔۔۔ اس کی آنکھوں میں "قواریر" کے احساس کی چمک تھی۔۔۔ اور پھر وہ خود میرے پاس آ کر کہنے لگی، "مس میں کل سے سفید سکارف لے کر آیا کروں گی سکول!" میں نے اس کو شاباش دی اور وہ خوشی سے چہکتی اپنی جگہ پر واپس پہنچ گئی۔۔۔۔! اگلے دن پوری کلاس کی بچیوں نے سفید سکارف/حجاب اوڑھ رکھے تھے، سوائے اس کے۔۔۔ مجھے دھچکہ سا لگا۔۔۔۔ میں نے اس کو پاس بلا کر پوچھا کہ کیا ہوا سکارف کا؟ تو وہ خاموشی سے نیچے دیکھتی رہی۔۔۔ اور میں نے اس کو پھر اس کی جگہ پر واپس بھیج دیا۔۔۔ اب کلاس میں روز ایک آدھ سکارف کم ہونے لگا۔۔۔۔ پوچھنےپر، متوجہ کرنے پر بیگ سے نکل کر سر پر پہنچ جاتا۔۔۔۔ لیکن اس کے سیاہ لمبے سلکی بال پونی میں جکڑے ہمیشہ جھولتے رہتے۔۔۔۔ میں نے اس کو کہنا چھوڑ دیا۔۔۔۔ پھر ایک دن اس کی سیش (سفید پٹی) بھی غائب تھی۔۔۔ تو میں نے اس کو بلایا۔۔۔ کہ بیٹا۔۔۔ یہ کیا؟ میں نے سکارف کا کہا تھا، اور آپ کا یونیفارم بھی ادھورا ہو گیا؟ تو بولی کہ مس وہ سیش دھونے والی تھی۔۔ اس لیے آج نہیں لائی۔۔۔ اور پھر خاموش ہو گئی۔۔۔ پاس جو کھڑی تھی، تو میں نے پوچھ لیا، کہ بیٹا آپ کا سکارف لینے کو دل نہیں چاہتا؟ آپ کا دل نہیں چاہتا کہ آپ اللہ کوسب سے زیادہ پیاری لگیں؟ وہ بدستور نیچے نظریں جھکائے زمین پر کچھ تلاش کرتی رہی۔۔۔۔ میں نے اپنا سوال دہرایا، تو تقریباً سرگوشی کے انداز میں بولی، "ٹیچر ماما نے منع کیا ہے، وہ کہتی ہیں کہ کوئی ضرورت نہیں ہے۔" اور یہ سنتے ہی میرے سب الفاظ گم ہو گئے!!! کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔۔۔۔بس اسے واپس اس کی نشست پر بھیج دیا۔۔۔۔!
مجھے کیا کرنا چاہیے؟
(ام الھدیٰ)

متعلقہ خبریں