ایچ آئی وی ایڈز

2020 ,جنوری 31



لاہور(مہرماہ رپورٹ): ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلنے کی بنیادی وجہ افریقہ میں موجود خاص نسل کے بندروں کے ساتھ انسانی تعلقات تھے۔ یہ پھر غیر فطری تعلقات سے انسانوں میں منتقل ہوا اور آج پوری دنیا کے لیے عذاب بنا ہوا ہے۔کرونا کا واٸرس 2002 میں پہلی بار چین میں رپورٹ ہوا تھا۔مگر تب اس پر قابو پالیا گیا تھا ٬ وجہ حرام جانوروں کا گوشت تھا۔ یہ واٸرس اب کی بار زیادہ resistant ہوکر وہان کی گوشت کی منڈی سے پھیلا۔ مجھے چین کی ایسی گوشت منڈی میں جانے کا ذاتی اتفاق ہوا ہے۔ یہ تعفن زدہ غلاظت کا ڈھیر ہوتی ہے جہاں کتے ٬ بلی ٬ سانپ٬ مگرمچھ سے لے کر ہر جانور زندہ مردہ حالت میں دستیاب ہوتا ہے٬ کہیں تو یہ وہیں آپ کے سامنے اسے برے طریقے سے سر میں کرنٹ والا ڈنڈا ماریں گے اور پھر اس کے ٹکڑے کردیں گے۔ چینیوں سے الگ طرح کی بو آتی ہے سو ان کے ساتھ لفٹ میں کھڑے ہونا تک مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ یاجوج ماجوج کی قوم کی طرح سب کھا جاتے ہیں اور یہ کرونا ان پر ایسا ہی عذاب ہے۔ میں چھ ماہ چین رہا اور ہر بار رب سے اپنے مسلمان ہونے اور حلال حرام کی تمیز ہونے پر شکر کرتا رہا۔ کچھ نعمتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا احساس آپ کو تب ہوتا ہے جب آپ اپنی آنکھوں سے دوسروں پر ان کے نہ ہونے کا عذاب دیکھتے ہو۔ معاشرے میں ہم میں سے کتنے مغرب کے آزاد کلچر٬ ہم جنس پرستی ٬ کلب ٬ ڈانس شراب کو عیاشی کا نام دیتے ہیں۔ یہ سب ممنوع ہے۔ حرام ہے اور چین کی گوشت منڈی میں پھیلی تعفن زدہ بو کی طرح بھیانک ہے۔ رب کی فطرت سے جو ٹکرایا رب نے اسے برباد کردیا۔ چین میں پھیلا واٸرس صرف ایک مثال ہے ٬ اگر یہ وہان سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل بھی گیا تو بھی دنیا اس کو ایڈز کی طرح قبول کرلے گی۔ مگر جنہیں رب نے دین میں عقل دی ہے ان کو اس عذاب کی اصل جان کر جینا ہے۔حرام سے پناہ مانگنی ہے۔ حلال کے طالب رہنا ہے۔

متعلقہ خبریں