ہولی۔۔۔رنگ برسیں

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع مارچ 12, 2017 | 07:22 صبح

لاہور(مانیٹرنگ) ہندو برادری آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہولی کا تہوار منائے گی۔ اس موقع پر ہندو برادری کے افراد ایک جگہ جمع ہوتے ہیں جہاں مرد، خواتین، بچے اور بزرگ سب ہی ایک دوسرے کے چہروں پر رنگ ملتے اور پھینکتے ہیں۔ اس روز ہندو برادری کے افراد ایک دوسرے کو تحفے تحائف بھی پیش کرتے ہیں جب کہ گھروں پر تقاریب کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔

 

ہندوؤں کے مذہبی تہوار ہولی کو 'رنگوں کا تہوار' بھی کہا جاتا ہے، ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے دوست اور احباب کو مختلف

رنگ لگا کر اس دن کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

سرخ، پیلے، نیلے اور سبز جیسے خوبصورت رنگوں کا یہ تہوار بچوں اور بڑوں سب کا پسندیدہ تہوار ہے۔

2 روز پر مشتمل ہولی کے تہوار کو ہندو برادری کے افراد ہر سال فروری اور مارچ کے درمیان کی تاریخوں میں مناتے اور ہندو کیلنڈر کے مطابق چاند کے مکمل ہونے پر اس تہوار کا آغاز کیا جاتا ہے۔

تہوار کا آغاز ایک رات قبل آگ جلا کر کیا ہوتا ہے، ہندو برادری کا ماننا ہے کہ وہ اس آگ میں اپنی تمام برائیوں کو جلا کر ختم کرتے ہیں.

اگلے روز موسم بہار کی آمد اور نئی فصل کی آنے کی خوشی میں ہولی کا تہوار منایا جاتا ہے اور رنگوں سے کھیلا جاتا ہے۔

 

ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے مطابق وہ اس روز اپنے چاہنے والوں کے گھر بھی جاتے اور اس دن کی مبارکباد دیتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہولی کھیلتے وقت زیادہ تر افراد سفید رنگ کے لباس کا انتخاب کرتے ہیں۔

پاکستان میں بھی ہندو برادری اس تہوار کو بڑے جوش و خروش سے منا رہی ہے۔

ہندوؤں کے اعتقاد کے مطابق رام ، وشنو کا ساتواں اوتار ہے۔ ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن کے مطابق شمالی ہند کی ایک ریاست ایودھیا (اودھ) پر سورج بنسی خاندان کا ایک کھتری راجا دسرتھ راج کرتا تھا۔ اس کی تین بیویاں تھیں اور چار بیٹے؛ رام چندر ، لکشمن ، شتروگھن اور بھرت تھے۔ رام چندر جی اپنی شہ زوری ، دلیری اور نیک دلی کے سبب پرجا میں بہت ہر دل عزیز تھے۔ ان کی شادی متھلا پوری (موجودہ جنک پور واقع نیپال) کے راجا جنک کی بیٹی سیتا سے ہوئی تھی۔ راجا دسرتھ کی چھوٹی رانی کیکئی نے کسی جنگ میں راجا کی جان بچائی تھی جس پر راجا نے وعدہ کیا تھا کہ اس کے بدلے میں وہ اس کی ایک خواہش پوری کرے گا۔

راجا دسرتھ لب گور ہوا تو اس نے رام چندر کو اپنا جانشین بنانا چاہا ۔ لیکن کیکیئی نے اسے اپنا عہد یا دلایا کہ وہ اس لڑکے بھرت کو اپنا ولی عہد نامزد کرے۔ اور رام چندر جی کو چودہ برس کا بن باس دے دیا جائے ۔ راجا نے رام چندر جی کو کیکئی کی خواہش اور اپنے عہد سے آگاہ کیا تو سعادت مند اور وفا کیش بیٹے نے سر تسلیم خم کر دیا اور جنوبی ہند کے جنگلوں میں چلا گیا۔ اس برے وقت میں اس کی بیوی سیتا اور بھائی لکشمن نے اس کا ساتھ دیا۔

ایک دن لنکا کے بدقماش راجا ، راون کا اس جنگل سے گزر ہوا اور سیتا کو اٹھا کر لے گیا۔ رام چندر جی نے بندروں کے راجا سکریو کی فوج جس کا سپہ سالار ہنومان تھا کی مدد سے لنکا پر چرھائی کی اور راون کو ہلاک کرکے سیتا جی کو رہا کرایا۔ دسہرہ کا تہوار اسی فتح کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس عرصے میں 14 سال پورے ہوگئے تھے۔ رام چندر جی سیتا اور لکشمن کے ہمراہ ایودھیا واپس آگئے ۔ جہاں ان کا سوتیلا لیکن نیک نہاد بھائی بھرت ان کے کھڑاویں تخت پر رکھ کر ان کے نام سے راج کر رہا تھا۔ ان کی آمد کی خوشی میں گھر گھر چراغاں کیا گیا۔ ہولی کا تہوار اسی واقعے کی یادگار ہے۔ ہندو ، رام چندر جی کو وشنو بھگوان کا ساتواں اوتار مانتے ہیں۔ محقیقین تا حال ان کے زمانے کا تعین نہیں کر سکے۔

،

رام