پاکستان میں کتنے لاکھ ویب سائٹس بند کی جارہی ہیں؟ پی ٹی اے نے خاموشی توڑ دی

2019 ,ستمبر 8



اسلام آباد (شفق رپورٹ) پاکستان میں 8لاکھ سے زائد ویب سائٹس بند کردی گئی۔ الیکٹرونک کرائم ایکٹ کی شق 37 کے تحت پی ٹی اے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سماجی اور مذہبی معیار پر پوری نہ اترنے والی ویب سائٹس کو بلاک کر دے اور اب ان ویب سائٹس کو بند کیا جا رہا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کے چیئرمین عامر عظیم باجوہ نے گزشتہ ماہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس کو بریفینگ دیتے ہوئے بھی کہا تھا کہ پاکستان میں فحش مواد پر مبنی 8لاکھ سے زائد ویب سائٹس بلاک کی گئی ہیں جن میں سے 2ہزار384 ویب سائٹس چائلڈ پرونوگرافی کے حوالے سے تھیں۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ وی پی این اور پروکسیز کے ذریعے فحش مواد دیکھا جارہا ہے تاہم پی ٹی اے نے 11ہزار پراکسیز بھی بلاک کردی ہیں۔

انہوں نے بتایا تھا کہ پاکستان اس سلسلے میں انٹر پول سے بھی رابطے میں ہے۔ چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی نے بتایا تھا کہ پاکستان میں فحش مواد اپلوڈ ہونے کے شواہد نہیں ملے ہیں اور وی پی این کی مانیٹرنگ کے لئے بھی پی ٹی اے نیا طریقہ کار لانے کی کوشش کررہا ہے۔ عامر عظیم باجوہ نے بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی نے فحش مواد کی مانیٹرنگ سے متعلق گوگل سے رائے مانگی تھی اور گوگل نے پاکستان کے تمام ذرائع چیک کئے ہیں اور پاکستان میں فحش مواد کی مانیٹرنگ کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ گوگل کی جانب سے پاکستان کو جواب ملا ہے کہ پی ٹی اے کی مانیٹرنگ سخت ہے۔

متعلقہ خبریں