دنیا کی سب سے بڑی حقیقت بھوک

2019 ,نومبر 5



دنیا کی سب سے بڑی حقیقت بھوک ہے۔اس کا ادراک ایک عام زندگی گزارنے والے انسان کو نہیں ہو سکتا۔شاید مجھے بھی نہ ہوتا اگر زندگی مجھے اس مشاہدے سے دو چار نہ کرتی۔یہ 1993 کی بات ہے ملازمت کے سلسلے میں ایک دفعہ اندرون سندھ رھنے کا اتفاق ھوا۔ میں ایک کمپنی کے ساتھ تھا ہم ایک وڈیرے کی فلورمل فٹ کر رھے تھے ھمارا کھانا اس کے گھر سے آتا تھا ھمیں وہاں دوسرا دن تھا منشی کھانا لیکر آیا . ہم نے اسے اپنے ساتھ کھانا کھانے کی دعوت دی لیکن ہمارے لاکھ اصرار کے باوجود وہ راضی نہ ھوا جب ہم نے بہت زیادہ مجبور کیا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ پھر اس نے جو کہانی سنائی بہت انسانیت سوز تھی اس نے بتایا کہ اس کے بیوی بچے کل سے بھوکے ہیں اس کا ضمیر گوارہ نہیں کرتا کہ گھر میں اسکے بیوی بچے تو بھوکے بیٹھے ہوں اور وہ ہمارے ساتھ کھانا کھا لے۔۔۔اس کی بات سنکر یقین جانیے میرے ھاتھ سے نوالہ گر پڑا۔ ھمارے باس بہت اچھے اور ہمدرد انسان تھے جب انہوں نے میری حالت دیکھی تو کھانا کھانے سے ھاتھ روک لیا۔مختصر یہ کہ ھم تین ماہ وھاں رھے رات کا آدھا کھانا ھم اس کے بیوی بچوں کیلیے بھیج دیتے اور آدھے سے اپنی بھوک مٹا لیتے لیکن یہ سوچ آج بھی میرے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے کہ اس ملک کے پسماندہ علاقوں میں غربت کاہنوز یہی عالم ہے۔۔ آج بھی ایک طرف تو لوگ تعیشات زندگی کی دوڑ میں الجھے ہوئے ہیں تو دوسری طرف انسان بنیادی ضروریات زندگی کو ترس رہے ہیں۔کاش ہم انسانیت کی معراج کو پہنچ پائیں
۔مولانا رومیؒ فرماتے ہیں کہ
:’’خدا تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں لیکن میں نے خدا کا پسندیدہ راستہ مخلوق سے محبت کو چنا۔‘‘
بس میری آپ سب سے اتنی درخواست ہے کہ اپنے آس پاس نگاہ ضرور رکھیئے بہت سے لوگ اپنی عزت کا بھرم رکھے ہوئے ہوتے ہیں باوجود روز گار کے ان کی ضروریات زندگی پوری نہیں ہو پا رہی ہوتیں۔خصوصا"اپنے ماتحت کام کرنے والوں کی زندگی پر گہری نگاہ رکھیں کیونکہ جس انسان کے دل میں دوسروں کا درد اور سوچ میں سچائی ہو ایسے انسان کا وجود اللہ کی طرف سے مخلوق کیلئے نعمت سے کم نہیں
بقلم۔۔۔۔افتخار الفی

متعلقہ خبریں