اور جب شہیدوں کی یاد منانا جرم ٹھہرا... تحریر، سید عمیر صولت

2016 ,دسمبر 19



16 دسمبر ہمیں اس عظیم سانحہ کی یاد دلاتا ہے جب ہمارا ایک بازو علیحدہ ہو ا اور بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشہ پر اُبھرا ، یہ اس دن کی بھی یاد دلاتا ہے جب پشاور میں معصوم پھولوں کو کھلنے سے پہلے ہی بڑی بے رحمی کے ساتھ مسل دیا گیا۔ سقوط ڈھاکہ کے عظیم سانحہ کو روکنے کیلئے جہاں دوسری تحریکوں سے وابستہ لوگوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کیں وہیں اسلا می جمعیت طلبہ نے بھی اپنی تحریک سے وابستہ لوگوں کی قربانی پیش کی۔ وہ نوجوان جو معرکہ بدر اور دیگر واقعات میں شہید ہوئے وہ آگے چل کر اس تنظیم کے لیے بڑے مفید ثابت ہو سکتے تھے لیکن اس تنظیم نے اپنے آنے والے کل کی میراث کو وطن کی مٹی پر نچھاور کر دیا ۔
تین روز پہلے جمعہ 16دسمبر کو جب اسی اسلامی جمعیت طلبہ نے جامعہ پنجاب میں سانحہ سقوط ڈھاکہ اور سانحہ پشاور کی یاد میں سیمینار کروانے کی کوشش کی تو انتظامیہ ان پر چڑ ھ دوڑی اور سیمینار کے انتظام کو سبوتاژکردیا۔ انتظامیہ نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ پولیس نے جامعہ کی اعلیٰ ترین ہستی کی سرپرستی میں معصوم طلبہ کی پکڑ دھکڑ اور اُنہیں زدو کوب کرنا شروع کردیا ۔ انتظامیہ کی جانب سے سیمینار رکوانے کی تو جیہ یہ پیش کی گئی کہ اس کی اجازت یونیورسٹی انتظا میہ سے نہیں لی گئی ۔ اب ذرا ان لوگوں سے کوئی پوچھنے والا ہو جب اُ ن نوجوانوں نے مشرقی پاکستان میں اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کی تھیں تو اس کی اجازت اُنہوں نے کسی سے لی تھی؟ وہ تو بس اپنے وطن کی محبت میں قربان ہو گئے اور آج وہ لوگ جنہوں نے اُ ن شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہا تو وہ یونیورسٹی انتظامیہ کی نظر میں مجرم ٹھہرے اور مکتی باہنی کے مظالم کی یاد تازہ کرادی گئی ۔
 جامعہ پنجاب کی انتظامیہ کا یہ وطیرہ ہی بن چکا ہے کہ جب بھی طلبہ کو ئی پروگرام منعقد کروانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کاغیر قانو نی ہو نے کا نوٹس ہر شعبے کے نوٹس بورڈ پر آویزاں نظر آتا ہے خوا ہ وہ طلبہ حقوق کی ریلی ہو یا طلبہ کے لیے کوئی صحت مندانہ سرگرمی ، انتظامیہ کی نظر میں وہ غیر قانونی ہوتی ہے ۔آخر ایسا کیوں ہے کہ جب بھی جامعہ کی اعلیٰ ترین شخصیت کو ہٹانے کی بات ہوتی ہے تو ہنگامہ کیوں بر پا ہو جاتا ہے اور اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف پروپیگنڈہ شروع ہوجاتا ہے ؟۔

 

متعلقہ خبریں