حضرت مجدّد الف ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ

2017 ,نومبر 17



لاہور(علامہ منیر احمد یوسفی):  وِلادتِ باسعادت:

اِمامِ اَولیائے اُمّت حضرت شیخ احمد سرہندی فاروقی ؒ کی ولادتِ باسعادت سرہند شریف پٹیالہ میں ۴۱ شوال المکرم ۱۷۹ھ؁ کو ہوئی۔آپ کے والد کا نام مخدوم شیخ عبدالاحدؒ تھا۔ آپ ابو البرکات کی کنیت شریف بدرالدین کے لقب اور شیخ احمد کے اِسم مبارک سے جانے جاتے ہیں ۔سرکارِ کائنات ؐ کے وصالِ مبارک کے ایک ہزار سال پورے ہورہے تھے کہ حضرت شیخ احمد سرہندی کی ولادت ہوئی۔ حضورنبی کریم ؐ کی بشارت کے مطابق آپ نے مجدّد دین کا لقب پایا۔ دینِ اسلام کی حفاظت اوراحیائے شریعت کاجو عظیم کام آپ نے برصغیر پاک و ہند میں سر اَنجام دیا‘وہ اِسلام کی پوری تاریخ میں ایک خاص اِمتیازی شان رکھتاہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی اِس حوالے سے حدیثِ پاک کی تشریح میں فرماتے ہیں‘ رسول اللہ ؐکا اِرشادِ عظیم ہے کہ ترجمہ:’میری یہ اُمّت کبھی گمراہی پر متفق نہیں ہوگی‘‘۔اورآپ ؐ کایہ اِرشادِ عظیم کہ اللہ تبارک وتعالیٰ جَلَّ مجدہُ الکریم اِس اُمّت کے لیے ہر صدی کے سرے پر اَیسے بندے پیدا فرماتا رہے گا جواِس اُمّت کے دین کو تازہ کرتے رہیں گے۔اِس کی تفسیر دوسری حدیث شریف میںحضور نبی کریمؐ نے اِس طرح اِرشاد فرمائی ہے کہ:’’اِس علم کو ہر پچھلی جماعت میں سے پرہیز گار لوگ اُٹھاتے رہیں گے جو غلو والوں کی تبدیلیاں اور جھوٹوں کی دروغ بیانیاں اور جاہلوں کی ہیر پھیر اُس سے دُور کرتے رہیں گے‘‘۔ قطبِ وقت حضرت مجدّد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ کاسلسلۂ نسب ۱۳ واسطوں سے خلیفۂ ثانی مرادِ مصطفی حضرت سیّدنا عمر بن خطاب ؓ تک پہنچتا ہے۔ آپ نسبتِ فاروقی پر اِظہارِشکرکیا کرتے تھے۔ایک دفعہ شیخ عبدالکبیر یمنی نے بڑی قبیح اوربُری بات کہی جونصِ قطعی کے خلاف تھی توآپ نے حضرت مُلا حسن کشمیری ؒ کی طرف مکتوب صادر فرمایا اورلکھا:’’مخدوم مافقیر را تاب اِستماع این سخناں نیست بے اِختیار رگِ فاروقیم درحرکت می آید‘‘۔ ’’مخدوم گرامی! فقیر اِس طرح کی باتیں سُننے کی تاب نہیں رکھتا۔ میری رگِ فاروقی بے اِختیار حرکت میں آتی ہے‘‘۔ایک دوسرے مکتوب میں جو آپ نے قصبہ سامانہ کے ساداتِ عظام اوراِس قصبہ کے باشندگان اورناموربزرگانِ دین کے نام صادر فرمایا۔ جس میں اُس خطیب کی مذمت کی گئی جس نے عیدِ قربان کے خطبہ میں خلفائے راشدین ؓ کاذکر نسیان یا کسی اور وجہ سے ترک کرنے کی جسارت کی۔

آپ نے حضرت خواجہ باقی باللہ ؒسے اِکتسابِ فیض کیاہے۔سرہند شریف میں کچھ عرصہ قیام فرمانے کے بعد آپ نے لاہور کا سفر کیا۔لاہور اُس وقت دہلی کے بعد علوم و فنون کاسب سے بڑا علمی مرکز تھا، جہاں علمائے کرام اورمشائخِ عظام کی ایک کثیر تعداد نے آپ کاوالہانہ اِستقبال کیا۔ حضرت مجدّد الف ثانی ؒ اَبھی لاہور ہی میں تھے کہ حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہُ العزیز کے اِنتقالِ پُرملال کی خبر ملی تو آپ فوری طور پر دہلی روانہ ہوگئے۔ حضرت خواجہ کی رحلت کا آپ پر بڑا گہرا اَثر ہوا۔ایک اِضطرابی واِضطراری کیفیت میں دہلی کی طرف پلٹ گئے، راستہ میں سرہند پڑتا تھالیکن گھر نہ گئے۔پہلے اپنے مرشدِ زماںؒکے مزار پر حاضر ہوئے۔ مرشد زادوں اوربرادرانِ طریقت سے تعزیت کی اوراُن کے پاس چندروز دہلی میں قیام فرمایااورتربیت واِرشاد کی محفل جو حضرت خواجہ کے اِرتحال سے سونی ہوگئی تھی‘ دوبارہ آباد ہو گئی۔

حضرت مجدّد الف ثانیؒ کچھ روز قیامِ دہلی کے بعد سرہند تشریف لائے اور سلسلۂ دعوت و تبلیغ شروع فرمایا: آپ صرف عوام الناس ہی نہیںبلکہ اَراکینِ حکومت اور اَربابِ حل وعقد کو بھی دعوت و تبلیغ فرماتے تھے۔جلال الدین اکبر نے جب اعلانیہ دعویٔ اُلوہیت کیا اور ملعون بادشاہ فرعون کی طرح تختِ نخوت پر بیٹھ کر خلقت سے سجدہ کروانا چاہا ، حضرت مجدّد الف ثانی ؒنے غیرت میں آکر بادشاہ کے خلاف سخت ناراضگی کا اِظہار کیا۔ آپ نے خانِ خاناں‘خانِ اعظم‘ سیّد حیدر جہاں اورمرتضیٰ خاں وغیرہ کے ہاتھ ‘ جوحضرت مجدّد الف ثانی ؒ کے مرید اور اکبر بادشاہ کے مقربِ خاص تھے۔ان کے ذریعے بادشاہ کو نصیحت آمیز مکتوبات اورکلمات کہلوا بھیجے۔اس پر اِبتدائی کامیابی یہ حاصل ہوئی کہ لوگوں کو یہ اِختیار دیا گیا کہ وہ دینِ محمدی ؐ میں رہیں یا اکبر کے اِختراع کردہ دینِ اِلٰہی میں آجائیں۔جو ملازم لوگوں کو زبردستی بادشاہ کے پاس سجدہ کے لیے لایاکرتے تھے اُنہیں تاکیدًا منع کیاگیا کہ آئندہ کسی کو زبردستی نہ لایا جائے۔

ایک دِن اکبر نے خود ساختہ دینِ الٰہی کے اظہارکے لیے وقت مقرر کیا۔جب یہ خبر حضرت مجدّد الف ثانی ؒ نے سُنی تو فرمایا کہ کشف یوں ظاہر ہوا ہے کہ اِس مقررہ دن میں بادشاہ پر غضبِ اِلٰہی بالضرور نازل ہوگا۔ جب وہ مقررہ دِن آیا تو کافر و مرتد بادشاہ نے اپنے محل کے بالاخانہ میں بیٹھ کر صحن کے نیچے وسیع میدان میں دربارِ عام منعقد کیا۔ایک پُرانی بارگاہ جس میں قائم رہنے کی بھی سکت نہ تھی،اُس کانام بارگاہِ محمد یؐ رکھاگیا۔جبکہ بارگاہِ اکبری میں قسم قسم کے لطیف نفیس اور پُر تکلف کھانے اورمیوے سجائے گئے۔بادشاہ کے بڑے بڑے عہدہ دار بارگاہِ اکبری میں براجمان تھے اورحضرت مجدّد الف ثانیؒ اپنے تمام مریدوںبشمول خانِ خاناں‘ مرتضیٰ خاں‘سیّد حید ر جہاں اور خانِ اعظم وغیر ہ اوربہت سے غریب لوگوں کے ساتھ بارگاہ محمدی ؐکی طرف روانہ ہوئے۔ اس دوران حضرت مجدّد الف ثانیؒ نے ایک شخص کو بھیجا کہ بارگاہِ محمد یؐ کے اردگرد ایک لکیر کھینچ آئے۔اُس شخص نے اَیسا ہی کیا اورمٹھی بھر خاک جو حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہٗ العزیز نے اُسے دی تھی بادشاہ کی طرف پھینکی۔ اِس کے پھینکتے ہی شمال کی طرف سے ایک آندھی اُٹھی جس نے اکبری بارگاہ کو تہہ و بالا کر دیا۔ خیمے اور سائباں اہلِ بارگاہ کے سروں پرپڑے حتیٰ کہ جس بالاخانہ پر بادشاہ بیٹھا تھا اُس کے کواڑ بادشاہ کے سرپرلگے اور سات زخم آئے۔ اکبر اس واقعہ میں زخمی ہونے کے سات روز بعد اکبر بعد زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا اورہزارہا لوگ حضرت مجددؒکے مرید ہوگئے ۔

اکبر کے بعد جہانگیر تخت نشین ہوا۔ حضرت مجدّد الف ثانیؒ اس کے اَرکانِ سلطنت اور اُمرائے دربار کے نام بھی اِصلاحِ احوال اور حمایتِ اسلام میں خطوط لکھتے رہے ۔جہانگیر کا وزیرِ بے تدبیر آصف جاہ مخالفانِ دین اور منافقان سے مل کر حضرت مجدّد الف ثانی کے بارے میں ترکیب استعمال کرتا تھا۔ ایک مرتبہ بادشاہ کے بلانے پرآپ دربار میں تشریف لائے مگر سجدہ نہ کیا۔ بادشاہ نے ناراض ہوکر آپ کو گوالیار کے قلعہ میںنظر بند کرنے کاحکم دے دیا۔نظر بندی کا یہ واقعہ ربیع الثانی ۸۲۰۱؁ھ میں پیش آیا۔آپ نے دوران قید قلعہ میں بھی تبلیغ واِرشاد کا سلسلہ جاری رکھا۔جن دِنوں حضرت مجدّد الف ثانی نظر بند تھے۔آنجناب کے ایک مخلص دوست کو قید سے آپ کی رہائی کی بشارت ہوئی۔ آخر کارجب بادشاہ بے بس ہو گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ آنجناب کی توجہ کے بغیر سلطنت بھی قائم نہیں رہے گی، اُس نے حضرت مجدد الف ثانی کو ایک عرضی لکھی اوراپنی خطاؤں پربہت معافی مانگی اوررہائی کا اِعلان کیا۔ اس دوران آپ نے سجدہ ختم کروانے ، گرائی گئی مسجدیں بحال کروانے ،گائے ذبح کرنے کے حکم اورتمام قیدی رہا کرنے کی شرائط تسلیم کروا کر دین کی حقانیت کو سر بلند کر دیا ۔حضرت مجدّد الف ثانی اپنے زمانہ میں طریقۂ نقشبندی کے اِمام تھے۔ صوفیانہ سلوک میں آپ معرفتِ خداوندی اورمقامات کی اِنتہاپر فائز تھے ۔ظاہر و باطن میں اُن کا طریقۂ عالیہ کتاب و سُنّت پر مبنی تھا۔ اِمام الاولیاء حضرت شیخ احمد سرہندی ؒ ۸۲صفرالمظفر ۴۳۰۱؁ھ کو اس عالمِ فانی سے عالمِ بقاء کی طرف رحلت فرمائی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اُن کے بتائے ہوئے راستے پر چل کرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

متعلقہ خبریں