امام حسنؓ

2017 ,نومبر 21



لاہور(آغا سید حامد علی شاہ موسوی): نبی کریم حضرت محمد مصطفی ؐکے پیارے نواسے سبط نبی امام حسن مجتبیٰ ؓ اپنے والد بزرگوار امیر المومنین حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد امامت و خلافت کے درجے پر فائز ہوئے ۔ اس وقت امام حسن کی عمر 37 سال چھ یوم کی تھی ۔ تقریباً چھ ماہ تک آپ مسلمانوں کے خلیفہ رہے اور امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالے رہے۔آپ کا عہد بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے ۔

امام حسن ؓ 15رمضان 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں سورہ کوثر کی پہلی تفسیربن کر صحن علی المرتضیٰؓ و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؓ میں تشریف لائے ۔ رسول ِ خداؐ کیلئے امام حسنؓ کی آمد بہت بڑی خوشی تھی کیونکہ جب مکہ مکرمہ میں رسول کے بیٹے یکے بعد دیگرے رحلت فرماتے رہے تو مشرکین طعنے دیتے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچتا۔ مشرکین کوجواب کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپؐ نہیں ہوںگے بلکہ آپ کا دشمن ہوگا۔ امام حسنؓ کی ولادت کے ساتویں دن سرکارکائنات ؐنے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ( اسدالغابۃ )۔ علامہ کمال الدین کابیان ہے کہ عقیقہ کے سلسلے میں دنبہ ذبح کیا گیاتھا امام شافعیؒ کا کہنا ہے کہ آنحضرت ؐنے امام حسنؓ کاعقیقہ کرکے اس کے سنت ہونے کی دائمی بنیاد ڈل دی ۔ حضرت عمرابن خطاب ؓ اور حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہؓ کے ،میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں‘‘حضرت عمر ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب (اولاد فاطمہ )اور رشتہ کے (حاکم المستدرک ،طبرانی المعجم الکبیر،احمد بن حنبل فضائل الصحابہ )۔نصاری نجران کے ساتھ مباہلہ کیلئے بھی رسول خدا امام حسن و حسین ؓ کو اپنے فرزندان کے طورپر ساتھ لے کر گئے جس پر قرآن کی آیت گواہ ہے ۔ حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا،جو تم سے لڑے گا میں اْس سے لڑوں گا اور جو تم سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا یعنی جو تمہارا دوست ہے وہ میرا بھی دوست ہے۔(مسند احمد، المستدرک للحاکم)۔امام حسن مجتبیٰ ؓ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسولؐ کا زمانہ دیکھا اور آنحضرت ؐکی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ سیدہ فاطمہؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو رسول اللہ ؐ کے مرض الوصال کے دوران آپ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہؐ! انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ رسول کریمؐنے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرأت اور سخاوت کا وارث ہے۔ (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد)۔

پیغمبر اکرم ؐکی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہرا ؓ کی شہادت سے تین یا چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔ حضرت علیؓ کی تکفین و تدفین کے بعد عبداللہ ابن عباسؓ کی تحریک سے قیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسنؓ کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعدادچالیس ہزارتھی یہ واقعہ21رمضان40 ھ یوم جمعہ کاہے( ابن اثیر) ابن عباسؓ نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی ۔ سب نے انتہائی خوشی اور رضا مندی کے ساتھ بیعت کی آپ نے مستقبل کے حالات کاصحیح اندازہ کرتے ہوئے اسی وقت لوگوں کیلئے واضح شرط رکھ دی کہ ’’اگر میں صلح کروں تو تم کو صلح کرنا ہوگی او راگر میں جنگ کروں تو تمھیں میرے ساتھ مل کر جنگ کرنا ہوگی ‘‘سب نے اس شرط کو قبول کرلیا . آپ نے انتظامِ حکومت اپنے ہاتھ میں لیا . اطراف میں عمال مقرر کئے , حکام متعین کئے اور مقدمات کے فیصلے کرنے لگے .لیکن جب آپ نے دیکھا کہ اسلامی معاشرہ انتشار کا شکار ہے تو آپ نے تخت حکومت کو خیر باد کہہ دیا۔ کیونکہ امام حسن ؓ کا واحد مقصد حکم خدا اور حکم رسولؐ کی پابندی کااجراء تھا۔امام حسنؓ نے دین خدا کی سربلندی ،فتنہ وفساد کا سر کچلنے ،کتاب خدا اور سنت رسول پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے اپنے نانارسول خدا ؐ کی صلح حدیبیہ کی تاسی میں تخت حکومت کو ٹھوکر مار دی ،اور تاریخی صلح کی جو اسلام کی تاریخ کا ناقابل فراموش با ب ہے ۔ امام حسنؓ اگرچہ صلح کے بعد مدینہ میں گوشہ نشین ہوگئے تھے ، لیکن حق کے مرکزاور تعلیمات محمدی ؐ کے سرچشمہ امام حسنؓ کا قائم رہنا دشمنان دین کو کب گوارا تھا اسی لئے جعدہ بنت اشعث کو انعام و اکرام کا لالچ دے کرنواسہ رسول ؐ امام حسنؓ کوزہردے کرے شہیدکردیاگیا ۔28صفر المظفر 50ھ تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب نواسہ رسول خلیفۃ المسلمین حضرت امام حسن مجتبیٰؓ درجہ شہادت پر فائز ہوئے ۔حضرت شاہ ولی اللہ کے فرزند محدث دہلوی امام حسن ؓ اور امام حسینؓ کی شہادت کو شہادت رسولِ خداؐ سے تعبیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آدم سے لے کر عیسی ٰ ؑ تک تمام پیغمبران کے اوصاف، کمالات اور خوبیاں خاتم الانبیاء محمد مصطفی ؐ میں جمع ہو گئی تھیں ،مگر ایک کمال باقی رہ گیا تھا وہ تھا شہادت کا مرتبہ وہ حضور کو خود حاصل نہیں ہوا تھا اس کا راز یہ تھا کہ اگر حضور ؐ کسی جنگ میں شہید ہو جاتے تو اسلام کی شوکت متاثر ہوتی ۔حکمت الہی اور کارسازی نے یہ پسند فرمایا کہ شہادت کا کمال بھی حضور ؐ کو مل جائے ۔اللہ تعالی کی عنایت نے اس امر پر توجہ کی اور حسنینؓ کو اپنے نانا کی نیابت بصورت شہادت عطاکی۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رقم طراز ہیں کہ امام حسن ؓ کی شہادت کا سبب آپ کی بیوی جعدہ بنت اشعث کی جانب سے دیا جانے والا زہر تھا۔جسے لالچ دیا گیا تھا کہ اس کا نکاح یزید بن معاویہ سے کرادیا جائے گا۔امام حسنؓ فرماتے ہیں کہ مجھے کئی بار زہر دیا گیا ہے لیکن اس قدر مہلک زہر کبھی نہیں دیا گیا۔(سر الشہادتین )یہ زہر روم سے منگوایا گیا تھا جسے زہر ہلاہل کہا جاتا ہے ۔ شہادت کے بعد آپ جنت البقیع میں مدفون ہوئے ۔

متعلقہ خبریں