باجوہ استعفیٰ۔عمران خان اپنے پتے شو کرنے لگے

2022 ,جون 9



تحریر: فضل حسین اعوان.......

عمران خان اپنے پتے آہستہ آہستہ شو کر رہے ہیں۔ رفتہ رفتہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ شروع میں انہوں نے جس مراسلے کا ذکر کیا، امریکہ کا نام نہیں لیا تھا۔ پھر امریکہ کا نہ صرف نام لیا بلکہ اس پر برسنا بھی شروع کر دیا۔ ڈونلڈ لوکا نام لیا اور کھل کر بائیڈن انتظامیہ کے خلاف مافی الضمیربیان کرنے لگے۔ عمران خان نیوٹرل کا ذکر دبے لفظوں میں کرتے تھے، پھر کھل کر کرنے لگے۔اتھارٹی ایک جگہ ذمہ داری دوسری جگہ کی بات کی۔ نوازشریف اسی بیانیے کو سول سپرمیسی اور ووٹ کو عزت دو سے تعبیر کرتے تھے مگر اب وہ اس بیانیے سے تائب ہو کر شہباز مالش اور پالش کے قائل ہو چکے ہیں۔ عمران خان اب چند قدم اور آگے بڑھے ہیں انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا۔”تاثر ہے کہ ادارے نیوٹرل نہیں، کرپٹ حکومت کے ساتھ ہیں“۔ عمران خان مزید آگے جا سکتے ہیں ۔ وہ رجیم چینج پر بات کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید کا نام لے کر کہہ سکتے ہیں کہ سب کچھ ان کے ایما پر ہوا۔ مزید براں وہ جنرل باجوہ کے استعفے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ عمران خان جس طرح آگے بڑھے ہیں اور مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کے گرد گھیرا تنگ کیا جاتا ہے اور ان کو تنہا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ شیخ رشید کے بارے میں کہا جاتا ہے ان کو عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کا پیغام دیا گیا۔ پرویز الہٰی جس طرح حمزہ شہباز کے لوگوں سے بازو تڑوانے سے پہلے اور بعد میں سرگرم تھے اب یہ اداکار اور خود کار حکومت کی طرف جھک رہے ہیں۔ قومی اسمبلی سے20اور پنجاب اسمبلی سے25ارکان پی ٹی آئی سے نکال کر مخالف کیمپ میں پہنچا دیئے گئے تھے۔ اب پی ٹی آئی کے لیڈروں اورکارکنوں پر مقدمات کی بھرمار کی جا رہی ہے۔ جس حکومت سے اپنی دھوتی نہیں سنبھالی جاتی وہ مقدمات کا بوجھ کیسے اٹھا سکتی ہے؟ اس مہم جوئی کے پیچھے بھی بڑی سرکار کا نام لیا جا رہا ہے۔ کبھی کینٹ ایریا میں جنگ کا داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔کیبل سے جیو چینل غائب کر دیا جاتا تھا۔ اب اے آر وائی کینٹ ایریا میں کیبل پر چلانے کی ممانعت کر دی گئی ہے۔ گویا خفیہ ہاتھ کھل کر عمران خان کے خلاف اور مالشیوں کے ساتھ ہو گئے ہیں۔ سولہ پارٹیاں اقتدار میں ہیں۔ عدلیہ یہ فیصلے دے رہی ہے کہ شہباز شریف کی دورہ ترکی پر اشتہارات کی بھر مار ان کی تشہیر نہیں تھی۔ خصوصی نشستوں پر کیس اس جج صاحب نے دس روز کے لیے ملتوی کر دیا ۔جنہوں نے حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ، چند گھنٹوں میں منتخب کرنے کاحکم دیا تھا۔ اس انتخاب کے خلاف جو پولیس گردی میں ہوا تھاپی ٹی عدالت گئی تو چیف جسٹس امیر بھٹی نے کئی ہفتے سماعت اور پیر منگل کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا۔ پیر کا سورج طلوع ہونے سے قبل انہوں نے کیس آگے بڑھانے سے معذرت کرتے ہوئے کیس جسٹس شجاعت علی خان کو بھجوا دیا انہوں نے کہا اس کا حکم نامہ نہیں ہے اور کیس واپس چیف جسٹس کو بھجوا دیا۔ حمزہ کی اب پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔ضمنی الیکشن 17جولائی کو ہو رہے ہیں اور اس دورانیے میں حمزہ ہی وزیر اعلیٰ رہیں گے۔ خصوصی نشستوں کا فیصلہ بھی ممکن ہے ضمنی الیکشن کے بعد کیاجائے ، جس میں ن لیگ کو ایک دو خصوصی نشستیں بھی مرحمت فرما دی جائیں۔ شہباز شریف نے پاکستان کو آگے لے جانے کی بات کرتے ہوئے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ گرینڈڈائیلاگ کی تجویز دی ہے۔ تمام ادارے آپ کے ساتھ ہیں آپ کی حکومت میں16پارٹیاں ہیں۔ کون ساسٹیک ہولڈرہے جوآن بورڈ نہیں ہے۔صرف ایک عمران خان ہے اس کی پارٹی ہے۔ جسے آپ لوگوں نے راندہ درگاہ سمجھ رکھا ہے مگر خوف اس قدر ہے کہ سارے ادارے اور سٹیک ہولڈر اس سے نجات کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ وہ اول تو ان لوگوں کے ساتھ بیٹھیں گے نہیں جنہیں وہ آج کی بربادی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ بالفرض وہ کسی وجہ سے آمادہ ہو جاتے ہیں تو کیا شہباز حکومت اپنے سرپرستوں کے عتاب کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی۔ شہباز شریف ایک طرف ڈائیلاگ کی پی ٹی آئی سمیت تمام پارٹیوں کو دعوت دے رہی ہے۔ دوسری طرف کیسا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف اس بیان پر قرار داد منظور کی گئی ہے۔ جس میں عمران خان نے کہا تھا کہ اگر اداروں نے کردار ادا نہیں کیا تو قوج تباہ ہو جائے گی، ملک لوٹ سکتا ہے۔ ایٹمی حیثیت کمزور ہو سکتی ہے۔قرار داد کے موقع پر ایاز صادق آٹیکل 6لگانے کا مطالبہ کررہے تھے ، کوئی نور عالم بھڑک رہا تھا کوئی میر عالم آگ بگولہ ہو رہا تھا۔ یہ بے وردی لوگ وردی والوں کی کاسہ لیسی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر بیان داغ رہے تھے ادھر رانا ثناءاللہ ہاتھ ہتھکڑیاں پکڑے عمران خان کو تلاش کر رہے ہیں۔ مریم اوررنگزیب، عمران خان کے خلاف آڈیوزکھنگال رہی ہیں۔ وہ توشہ خانہ اور انگوٹھی لیے گھوم رہی ہیں۔ مریم نواز طعنہ زن ہیں کہ عمران سے تو پرچی بھی پڑھی نہیں جاتی۔ وہ ایسا کہہ کر ثابت کر رہی ہیں کہ بہترین پرچی خواں ان کے پتا جی ہیں، شہبازیوں نے جو ماحول بنا دیا ہے کیا اس میں عمران خان کسی ڈائیلاگ کا حصہ بن سکتے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں