آرمی چیف کی تعیناتی اور امریکہ کا دستِ ستم

2022 ,مئی 17



تحریر: فضل حسین اعوان عمران خان معاملات کو رفتہ رفتہ دھیرے دھیرے آگے بڑھا رہے ہیں ۔ حساسیت کی بقا پاکستانی کر رہے ہیں۔ ان کی طرف سے ایک مرتبہ کہا گیا کہ نیوٹرل صرف جانور ہوتا ہے۔اسے کچھ لوگوں نے فوج کی طرف اشارہ قرار دیا جو بار بار سیاسی معاملات میں نیوٹرل رہنے کی بات کرتے تھے۔ پی ٹی آئی کے حلقوں نے تردید کر دی کہ فوج کی طرف عمران خان کاروئے سخن نہیں تھا مگر آج یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان انہی کو کہہ رہے تھے۔ ایک تو شیریں مزاری نے کہا کہ نیوٹرل نیوٹرل نہیں رہے۔ ان کے ریسٹ ہاؤس میں اقلیتی رکن مقیم رہا اور پھر عمران خان نے بھی اسی روز کہا کہ جو خودکو نیوٹرل کہتے ہیں میں ان کے پاس گیا کہ پاکستان کے خلاف سازش روکی جائے مگر سازش نہیں روکی گئی۔وہ کل جنرل باجوہ کا نام بھی لے سکتے ہیں اور ڈی آئی ایس آئی ندیم احمد انجم کی ملاقاتوں سے بھی پردہ اٹھا سکتے ہیںاور مطالبہ جرنیلوں کے استعفے کا بھی آ سکتا ہے۔ مطالبہ ہوا تو استعفے بھی آئیں گے مگر یہ تو ایک مفروضہ ہے۔ جنرل باجوہ نے29نومبر2022کو ریٹائر ہوناہے۔ ان کی جگہ کوئی اور آئے گا بشرطیکہ ان کو حکومت کی طرف سے توسیع نہ دے دی گئی جس کا امکان کم کم ہی ہے۔ نومبر2022ءمیں کس کی حکومت ہوگی یہ ایک بڑاسوال اور سوالیہ نشان ہے۔ آج کا سیٹ اپ، بدستور برقرار ہوگا؟کسی نئی شکل میں کوئی اور حکومت ہوگی؟ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عمران خان ہی حکومت میں آ چکے ہوں۔ یہ پاکستان ہے اور پاکستان کی سیاست میں کسی بھی لمحے کچھ بھی ممکن ہے۔عمران خان اسی جنرل باجوہ کی مدت ملازمت مین توسیع کر دیں اسے بھی بعید از قیاس نہ سمجھا جائے۔ بہرحال نومبر میں زمام اقتدار جس کی بھی دسترس میں ہوگی آرمی چیف کی تقرری وہی کرے گا۔ آئینی طریقہ کار یہی ہے۔ جنرل باجوہ کے بعد سب سے سینئر جرنیل ساحر شمشاد مرزا ہیں ان کے بعدسنیارٹی لسٹ باالترتیب اس طرح ہے۔ جنرل اظہر عباس، نعمان محمود، ن لیگ کو خوابوں میں بھی ڈرانے والے جنرل فیض حمید چوتھے نمبر پر آتے ہیں۔ان کے بعد جنرل عامر اور چراغ حیدر ہیں۔ ان کے بعد جنرل ندیم احمد انجم کا نام آتا ہے۔ ممکنہ طور پر ان کو ہی آرمی چیف لگا دیا جائے گا،کیونکہ پاکستان کی سیاست میں ان کی خدمات "نا قابل فراموش" ہیں۔ جنرل حمید گل نے کہا تھا کہ پاک فوج کے سربراہ کا فیصلہ امریکہ میں ہوتا ہے۔میں ذاتی طور پر اس بیانیے سے قطعی طورپر منتفق نہیں ہوں۔ اگر اس مفروضے کو مان لیا جائے تو جنرل ندیم نے دورہ امریکہ میں آرمی چیف بننے کی راہ ہموار کر لی ہے۔گویا امریکہ کا دست ستم اس تعیناتی کی صورت میں پاکستانیوں کے سرپر آنے کو ہے۔ مافیا کہتا ہے کہ عمران خان نے ریڈ لائن کراس کردی اس پر سوال تو بنتا ہے کہ کیسی ریڈ لائن کراس کی ؟ کیا عمران خان نے یہ کہا:جنرل باجوہ میٹنگ میں آئے تو انکی ٹانگیں کانپ رہی تھی؟ کیا عمران خان نے یہ کہا یہ جو بدمعاشی ہے یہ جو غنڈہ گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔ کیا عمران خان نے ایسا کہا:جنرل باجوہ یہ سب تمھارا پھیلایا ہوا گند ہے تمھیں حساب دینا ہو گا؟

متعلقہ خبریں