ایک پگلی کے قلم سے

2022 ,جنوری 20



آج وہ خود گئی تھی اس سے ملنے کافی عرصے کے بعد ۔۔۔۔۔ ملاقات کا دورانیہ زیادہ تو نہیں تھا لیکن وہ چند منٹ اس کے ہوش اڑا گئے تھے۔۔۔ وہ آج تک کبھی کسی کو نہیں سمجھ سکی نہ اسے چہرے پڑھنے آتے تھے اور نہ اسے آنکھیں میں ڈوب جانا آتا تھا۔۔۔۔ البتہ اسے ایسے لوگوں سے ڈر لگتا تھا۔۔۔۔ اس کی ایک دوست تھی جس کو وہ اپنا ہر دکھ بتانا چاہتی تھی۔۔۔۔ ہر وہ بات جو وہ آج تک کسی کو نہیں بتا پائی تھی۔۔۔۔ لیکن اسے بتانا چاہتی تھی۔۔۔ اس نے ایک شخص کو گواہ بنا کر اسے کہا تھا کہ اگر اس سے ملاقات سے پہلے مجھے کچھ ہو گیا تو اسے ضرور بتانا کہ میری کتنی تمنا تھی اس سے ملنے کی۔۔۔۔ لیکن حیرت کی بات جانتے ہیں کیا تھی۔۔۔۔ اس نے آج تک کبھی اس کی آنکھوں میں دیکھ کر اس سے بات نہیں کرتی تھی اسے لگتا تھا اگر اس لڑکی نے اس کی آنکھیں پڑھ لیں اور کوئی سوال کر لیا تو وہ جواب نہیں دے پائے گی۔۔۔۔۔ خیر اس کی ملاقات کب ہو پائے گی۔۔۔۔ ہو پائے گی بھی یا نہیں یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے کچھ ملاقاتیں انسان کے وجود کو جھنجھوڑنے کے لیے ہوتی ہیں۔۔۔ ان ملاقاتوں میں انسان کا وجود تو واپس آجاتا ہے لیکن اس کا دماغ۔۔ سوچیں اور دل وہیں کہی بھٹک جاتا ہے۔۔۔ ایسا بس وہ سوچتی تھی یا یہ حقیقت تھی اس کا اسے بھی نہیں معلوم۔۔ لیکن اب کی بار اس سے ہونے والی ملاقات نے اسے خاموش کروا دیا تھا لیکن لبوں پر مسکراہٹ کے ساتھ اس کی بین کرتی آنکھیں اسے تڑپا گئی تھیں۔۔۔۔ وہ چند ثانیے اس کے پاس گزار کر آئی تھی۔۔ اس شخص کے پاس جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں تو کچھ نا کچھ ضرور جانتی تھی۔۔۔ ایک لمحے کو اسے لگا کہ یہ وہ شخص نہیں ہے جسے وہ جانتی ہے۔۔۔ ہنستا کھیلتا۔۔۔ شوخ چنچل۔۔۔ لبوں پر مسکراہٹ اور گفتگو میں اپنی مثال آپ وہ شخص کہیں کھو گیا ہے۔۔۔۔ اس کے سامنے بیٹھا شخص بہروپا ہے۔۔۔۔۔ اس کی آنکھیں نم ہو گئیں کھڑے ہونا دشوار ہو گیا۔۔۔۔ وہ بس اسے دیکھے جا رہی تھی لبوں پر مسکراہٹ سجائے وہ بار بار پوچھ رہی تھی کہ کیا ہوا ہے۔۔۔ لیکن جواب بس ایک تھا ‘‘کچھ بھی نہیں’’۔۔۔۔ مسکراہٹوں کے تبادلوں کے درمیان آنکھوں میں اٹھتا آنسوؤں کا طوفان روکتے دونوں نے چند ایک باتیں کیں اور بس۔۔۔۔ اس لمحے اس شخص کی آنکھوں میں دیکھتے اس کی کیفیت اور ٹوٹے وجود کو محسوس کرتے اس کا دل چاہا کہ کھڑی ہو جائے زمانے کے ظلم و ستم کے سامنے۔۔۔ اور چیخ چیخ کر کہے کہ آؤ۔۔۔ اب آؤ اور لگا کر دیکھاؤ اسے ہاتھ۔۔۔ اس کا دل چاہا کہ جس نے اسے توڑا ہے اس کو گریبان سے پکڑے اور کھینچ کھینچ کر اس کے منہ پر طماچے مارے یہاں تک کہ خون کی بارش ہونے لگے۔۔۔ اور وہ شخص جس کے لیے وہ لڑ رہی ہو وہ دور ۔۔۔۔ بس سر جھکائے کھڑا رہے۔۔۔ کچھ حادثات انسان کو بدل دیتے ہیں۔۔۔۔ اس کی خوش حال زندگی کو ویران قبرستان بنا دیتے ہیں۔۔۔ جس کی مثال آج اس کے سامنے وہ شخص بنا بیٹھا تھا۔۔۔۔ بہت کچھ بدل گیا تھا۔۔۔ لیکن اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا۔۔ وہ چاہ کر بھی اس کا درد کم نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ وہ بے حال شخص خود کو طلاق دیئے ویرانیوں کو سینے سے لگائے سانس لینے کو جینا کہہ رہا تھا۔۔۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے اندر کی ویرانیاں اس کا چہرہ صاف بیان کر رہا ہے۔۔۔ بظاہر وہ چلتا پھرتا شخص زندہ تھا۔۔۔ لیکن اپنے مرے ہوئے جذبات اور احساسات کے ساتھ ۔۔۔۔ باقی پھر کبھی

متعلقہ خبریں