نوعمر بیٹی کو زبردستی جسم فروشی کروانے کے جرم میں گرفتار

2016 ,نومبر 25



احمد آباد (شفق ڈیسک) بھارتی پولیس نے13سالہ لڑکی کیساتھ اجتماعی زیادتی کرنے کے الزام میں 7 افراد جبکہ لڑکی کے باپ اور سوتیلی ماں کو نوعمر بیٹی کو زبردستی جسم فروشی کروانے کے جرم میں گرفتار کر لیا تفصیلات کیمطابق بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ تیرہ سالہ لڑکی کو ڈھولکا قصبے کے نزدیک کالی کنڈ گاؤں سے بازیاب کروایا گیا جہاں اسے اس کے والدین کی جانب سے مبینہ طور پر زبردستی بھیجا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق پنجاب سے ہے اور دہلی میں رہائش پذیر ہیں، لڑکی کے ماں باپ ممکنہ طور پر جسم فروشی کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ گھومتے رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ 21 نومبر کو لڑکی کے والدین نے لڑکی کی گمشدگی کی شکایت درج کروائی اور کہا کہ ان کی بیٹی 14 نومبر سے لاپتہ ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ انہیں لڑکی کے ماں باپ کے بیان پر شک گزرا تاہم دونوں میاں بیوی نے تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو جسم فروشی کے مکروہ کاروبار میں دھکیلا اور 14 نومبر کو گاہک کے ساتھ بھیج دیا اس انکشاف کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کالی کنڈ کے گاؤں میں چھاپہ مارا اور لڑکی کو بازیاب کروایا۔ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ 14 نومبر کو اسے 8 لڑکوں نے تین گھنٹوں تک مسلسل جنسی درندگی کا نشانہ بنایا۔ا ن آٹھ لوگوں میں سے چار لڑکے ڈھولکا میں غیر سرکاری یونیورسٹی میں بی ایس ای ذراعت کے طالبعلم تھے جنہیں کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ جب وہ لڑکی کو بازیاب کروا کر تھانے لے کر آئے اور ماں باپ سے ملاقا ت کرنے کیلئے کہا تو لڑکی نے جواب میں ماں باپ کو تشدد کا نشانہ بنانے کیلئے کہا لڑکی کا کہنا تھا کہ ان کے ماں باپ نے 8ویں کلاس میں پڑھائی چھڑوا کر اسے جسم فروشی کے مکروہ کاروبار میں زبردستی دھکیل دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کو تین ماہ قبل جسم فروشی کے کاروبار میں دھکیلا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں