بھارتی فوجی کی بیوہ کی نوکری کیلئے درخواست، آگے سے حکومت نے ایسی شرمناک بات کا مطالبہ کردیا کہ ہنگامہ برپاہوگیا

2017 ,جون 4



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں برسراقتدار بی جے پی، شیو سینا اور دیگر ہندوانتہاءپسند جماعتوں کے شدت پسند کارکن دکھاوے کے لیے تو بھارتی فوج کے خلاف بولنے والوں کا جینا حرام کر دیتے ہیںلیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، اور ریاست ہریانہ کے کشمیر میں ہلاک ہونے والی فوجی کی بیوہ نے اس حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ سکھ رجمنٹ کا اہلکار مندیپ سنگھ 2016ءمیں کشمیر میں ہلاک ہوا تھا۔ اس کی بیوہ پریرنا نے، جس نے ڈبل ایم اے کر رکھا ہے، جب تلافی میں اپنے لیے اچھی سرکاری نوکری کی درخواست دی تو اسے جواب میں کہا گیا کہ ”پہلے لکھ کر دو کہ تم اپنے شوہر کے بھائی سے شادی نہیں کرو گی۔“پریرنا کا کہنا ہے کہ ” جس طرح ریاستی انتظامیہ نے مجھے ذلیل و خوار کیا ہے اس کے بعد اب میں کسی نوکری، رقم یا ترقی کا مطالبہ نہیں کرتی۔ میرے لیے عزت سب سے اہم ہے۔ مجھے دھمکی آمیز خط اور پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ اگر مجھے یا میرے خاندان میں سے کسی کو کچھ ہو گیا تو کون ذمہ دار ہو گا۔ میرا شوہر دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جاں بحق ہوا، اس کی قربانی کیوں بھلا دی گئی؟“ رپورٹ کے مطابق پریرنا اس وقت ہریانہ پولیس میں کانسٹیبل کی نوکری کر رہی ہے اور ہریانہ ریاست میں بھی بی جے پی کی حکومت ہے۔ گزشتہ ماہ جب وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ ریاست کے دورے پر آئے تو بی جے پی انتظامیہ نے پریرنا کو عارضی طور پر نوکری سے معطل کر دیا تاکہ وہ راجناتھ سنگھ سے اپنے ساتھ ہونے والے توہین آمیز سلوک کی شکایت نہ کر دے۔لیکن اس بات نے بھارے میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں