اے راہِ حق کے شہیدو۔۔۔۔۔۔

2017 ,جولائی 2



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): سید بدر سعید ایک ایسے لکھاری جن کی تحریریں ہمیشہ حقیقت سے آشنا ہوتی ہیں۔۔۔ انہوں نے ہمیشہ لوگوں کو سچ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ سید بدر سعید نے ابھی تک جتنی بھی تحریریں لکھی ہیں انہیں ہر جگہ بہت مقبولیت حاصل ہوئی ۔ سید بدر سعید کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی کو خود سے کمتر نہیں سمجھا بلکہ سب کو ایک نظر سے دیکھا ہے تبھی تو آنے والے نئے لکھاری ان کی مدد لینے اور ان کے ساتھ کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔  سید بدر سعید ابھی تک دو کتب لکھ کر منظر عام پر لا چکے ہیں جبکہ تیسری اور چوتھی مکمل ہونے کی تیاریوں میں ہیں۔۔ آج انہوں نے جس بات سے پردہ اٹھایا ہے اس سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔۔ پولیس کو کبھی بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی انہیں اپنا محافظ جانا گیا ہے ۔۔۔ چند ایک پولیس والوں نے رشوت کی لالچ میں سارے ڈیپارٹمنٹ کو خراب کر دیا ہے۔ اور لوگوں کی نظر میں اپنی اہمیت کوڑی برابر بھی نہیں چھوڑی جس کی وجہ سے ایماندار پولیس والوں پر بھی کسی کو یقین نہیں آتا۔ آج آپ کے سامنے اسی خراب اور لالچی ڈیپارٹمنٹ کے سچے آفیسر کا قصہ پیش کرتے ہیں جو سید بدر سعید نے ہی لکھا ہے۔آپ بھی جانیے وہ کیا کہتے ہیں اس ادارے کے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے کچھ عرصہ قبل اپنے کالم میں لکھا تھا کہ جو پڑھے لکھے نوجوان سب انسپکٹر بھرتی ہوئے ہیں مجھے ان سے بہت سی امیدیں ہیں ۔ میں سب انسپکٹرز کی ایک میڈیا مینجمنٹ ٹریننگ کے دوران اسلام آباد میں ان میں سے کئی ایک سے ملا بھی تھا ۔ دو تین دن وہیں رہا اور ان سے مکالمہ ہوا ۔ میرے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھنے والے کئی ساتھی بھی بھرتی ہوئے ہیں ۔ مکالمہ کے دوران اندازہ ہوا کہ کھاتے پیتے گھرانوں کے یہ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان موجودہ سسٹم بدلنے کا جذبہ رکھتے ہیں ۔۔یہ اس بیج کا پہلا شہید سب انسپکٹر ضیا اللہ خان ہے جو ڈاکوؤں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گیا ہے۔ اسے سینے اور سر میں چار گولیاں لگیں ۔ مجھے اس کے بیج میٹس کے جو ایس ایم ایس موصول ہو رہے ہیں وہ آنکھیں نم کر رہے ہیں ۔ اس کا ایک بھی بیج میٹ خوفزدہ نہیں ہے ۔ ہر نوجوان شہادت کا نعرہ لگا رہا ہے اور اس کی قربانی رائیگاں نہ جانے دینے کے عزم کا اظہار کر رہا ہے ۔۔۔ سر ان نوجوانوں پر بھروسہ رکھیں یہی لوگ پولیس سسٹم تبدیل کر رہے ہیں ۔ سی سی پی او لاہور کا پی آر او نیشن اور ٹریبیوں چھوڑ کر سب انسپکٹر بنا ہے ۔ سب انسپکٹر عرفان جٹ ایم فل ماس کمیونیکیشن مکمل کر رہا ہے اور پی ایچ ڈی کا ارادہ رکھتا ہے ۔ دوستو کوئی اور یقین کرے یا نہ کرے لیکن بہادر ضیا اللہ شہید نے ایک بار پھر آپ پر میرا یقین مضبوط کر دیا ہے ۔آج جس عزم کا اظہار آپ اس کی شہادت پر کر رہے ہیں میں اس پر یقین رکھتا ہوں ۔ پولیس کا پرانا روایتی کلچر آپ ضرور تبدیل کر دو گے ۔ ان شا اللہ ۔۔۔ پولیس افسران سے بھی عرض ہے کہ ان نوجوانوں پر بھروسہ کریں اور انہیں اس فرنٹ لائن پر کھلائیں جس پر ضیا شہید نے بہادری کے ساتھ اپنی اننگز مکمل کی ہے (سید بدر سعید )۔۔۔۔

 

تمہیں کیا خبر 
ناکے پر کھڑے سپاھی کو... ھر پل احساس رہتا ھے 
جانے کس وقت تمہارے دشمن کو... روکتے روکتے اس پر 
گولیوں کی بوچھاڑ ھو جائے

تمہیں کیا لگتا ہے 
گھر سے دور تمہاری خاطر.. دھوپ میں کھڑے محافظ کو 
بچوں کی یاد نہیں ستاتی ھے.. ماں کی دعا نہیں رلاتی ھے

تمہیں کیا خبر 
تمہارا ہر الزام سہنے والا عام سا سپاھی کتنے دکھ سے سوچتا ھے 
کسی روز مارا جاوں گا.. تم پر وارا جاوں گا

تمہیں کیا خبر 
زہریلا دھواں اور گرد کے بادل...کتنی بیماریاں ساتھ لاتے ہیں 
روح تک کو جلاتے ہیں 
دن بھر کی تھکن سمیٹتے ھوئے.. تمہاری ناراضگی کو لپیٹتے ھوئے 
اک روز عام سا سپاھی مارا جاتا ھے... سنو ! یہ تم پر ہی وارا جاتا ہے(سید بدر سعید )۔۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں