بھارت میں مشہور مگر متنازعہ ترین مسلمان اداکارہ کو گرفتار کر لیا گیا ، وجہ کیا بنی ؟ خبر آ گئی

2018 ,نومبر 30



کیرالہ (ویب ڈیسک )انڈیا کی ریاست کیرالہ میں واقع سبریمالا مندر میں داخلے کی ناکام کوشش کرنے والی کارکن ریحانہ فاطمہ کو’ غیر مناسب لباس‘ پہننے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان پر  فیس بک پر نامناسب لباس میں تصویر شیئر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جو انھوں نے مندر جاتے ہوئے پوسٹ کی تھی۔

ان پر الزام میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے’ اپنی ران کی نمائش‘ کی ہے۔ جمعرات کو ریحانہ کے خاندان کے مطابق ضمانت کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے اور اس پر سماعت جمعے کو ہو گی۔ریحانہ فاطمہ ٹیلی کام ٹیکنشن، کارکن اور ماڈل ہیں اور انھیں مظاہرین نے سبریمالا مندر میں داخل ہونے سے روک دیا تھا اور تاریخی طور پر مندر میں بالغ خواتین کو داخلے کی اجازت نہیں۔مندر کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ چونکہ 10 سے 50 سال کی عمر کے درمیان خواتین کو حیض آتا ہے اس لیے وہ 'ناپاکی' کی حالت میں اس مندر میں نہں جا سکتیں اور دوسرا یہ کہ اس مندر کے بھگوان ایپا برہمچاری تھے۔رواں برس ستمبر میں سپریم کورٹ نے اس مندر میں تمام عمر کی خواتین کو داخل ہونے کی اجازت دے دی تھی تاہم ابھی تک کوئی خاتون مندر میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔اکتوبر میں فاطمہ اور ایک خاتون صحافی ایک سو پولیس اہلکاروں کی حفاظت میں مندر کے احاطے تک پہنچ گئی تھیں تاہم وہاں عقیدت مندوں کی ساتھ کشیدگی کی وجہ سے مندر کے مرکزی ہال میں داخل نہیں ہو سکیں تھیں۔ریحانہ فاطمہ کی سہیلی اور خواتین کے حقوق کی کارکن آرتی ایس اے نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ریاست کے شہر کوچی میں واقع ان کے دفتر سے گرفتار کیا گیا۔

گرفتاری کے بعد میجسٹریٹ نے ریحانہ کو 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ ریحانہ پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔اکتوبر میں پہاڑ کی چوٹی پر واقع مندر میں داخل کی کوشش کے دوران ریحانہ فاطمہ نے سیلفی بنائی تھی اور اسے فیس بک پر شیئر کیا۔ اس سیلفی میں وہ سیاہ لباس میں تھیں اور ان کے ماتھے پر ہندو رسم کے مطابق تلک تھا اور وہ ایپا کے انداز میں بیٹھی ہوئی تھیں۔پولیس نے ریحانہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ تصویر غیر مناسب تھی اور بھگوان ایپا کے عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بنی۔رواں ماہ ہی ریحانہ نے مقامی عدالت میں درخواست کر کے استدعا کی گئی تھی کہ پولیس کو انھیں گرفتار کرنے سے روکا جائے لیکن عدالت نے ان کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس کی وجہ سے پولیس کے لیے انھیں گرفتار کرنے کے لیے راستہ صاف ہو گیا۔ریحانہ کی سہیلی آرتی نے بی بی سی کو بتایا کہ ریحانہ کا مقصد کسی کے مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا اور نہ ہی ان کا مقصد کوئی ایسا کام کرنا تھا جو کسی کو ناگوار گزرتا۔ریحانہ فاطمہ کی تصویر کی وجہ سے قدامت پسند ہندو مشتعل ہو گئے تھے

 کیونکہ وہ مسلمان بھی ہیں تاہم ریحانہ کے مطابق وہ بھگوان ایپا کی عقیدت مند ہیں۔آرتی کے مطاقب ریحانہ فاطمہ نے جب فیس بک پر اپنی تصویر شیئر کی تھی تو اس وقت انھیں توہین آمیز پیغامات موصول ہوئے تھے جس میں ریپ کی دھمکیاں بھی شامل تھیں۔خیال رہے کہ رواں ماہ ہی اطلاع ملی تھی کہ انڈیا میں 41 سالہ شخص پانچ طنزیہ ٹوئٹس کرنے کے الزام میں تقریباً ایک ماہ سے جیل میں ہے۔ستمبر میں دہلی کے رہائشی اور دفاعی امور کی ماہر ابھیجیت ایئر مترا نے ملک کے مشرقی ریاست اوڑیسہ میں واقع 13ویں صدی کے کونارک مندر کے بارے میں’ توہین آمیز‘ ویڈیو جاری کی تھی۔ان کی اس ویڈیو میں مندر کے بارے میں’ غیر مہذب‘ بیان پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تو انھوں نے فوری طور پر وضاحت دی ہے کہ ان کی ٹویٹ ایک مذاق تھی۔لیکن ایئر کو ان کے جرائم میں متعدد الزامات کا سامنا ہے اور ان پر عبادت کی جگہ پر مختلف گروہوں کے لوگوں کو مذہب اور نسل کی بنیاد پر ان میں اختلافات کو ابھارنے، مذہبی جذبات کو مجروع کرنے اور ’عوام کے لیے باعث تکلیف‘ فعل جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
 

متعلقہ خبریں