بھارت میں ایسی کیا شرمناک حرکت ہوتی ہے کہ خواتین کو خود کشی کرنی پڑتی ہے؟

2018 ,دسمبر 4



نئی دہلی(ویب ڈیسک) خود کشی بہت ہمت والا کام ہے اور انسان اتنی آسانی سے ہمت نہیں ہارتا مگر پھر بھی دنیا میں خود کشیاں ہو رہی ہیں۔ دنیا بھر میں جتنی خواتین ہر سال خودکشی کرتی ہیں ان میں سے لگ بھگ 40فیصد بھارتی خواتین ہوتی ہیں جہاں 15سے

 29سال کی لڑکیوں، بالخصوص دلہنوں میں خودکشی کے رجحان میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی معلومات کے مطابق طبی جریدے ’دی لینسیٹ‘ کے ماہرین نے اس معاملے پر اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ بھارت میں خود کشی کرنے والی 71فیصد خواتین کی عمر 40سال سے کم ہوتی ہے۔ بھارت میں جس عمر کی خواتین سب سے زیادہ خودکشی کر رہی ہیں وہ 15سے 29سال ہے۔ماہرین نے بھارتی خواتین میں خودکشی کرنے کی شرح میں ہوشربا اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ”لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کامطالبہ دلہنوں کی خودکشیوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ کم عمری میں شادی اور تھوڑی عمر میں ماں بن جانا، سماج میں مردوں سے کمتر تصور کیا جانا اور گھریلو تشدد وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے زیادہ تر بھارتی خواتین خودکشی کی طرف راغب ہوتی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ اور ماہر نفسیات ڈاکٹر منجولا او کونر نے کہا ہے کہ ”باقی دنیا میں خواتین شادی کے بعد خود کو محفوظ سمجھنے لگتی ہیں لیکن بھارت میں اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ وہاں خواتین شادی کے بعد خود کو غیرمحفوظ سمجھتی ہیں۔ جہیز ایک ایسی چیز ہے جس سے مغربی ممالک میں رہنے والی بھارتی لڑکیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں اور ان میں بھی اکثر جہیز کی وجہ سے خودکشی کرنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔“
 

متعلقہ خبریں