روسی افواج نے اڑن طشتری مار گرائی۔۔۔ تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا

2018 ,دسمبر 7



<p style="text-align: right;">لندن( ویب ڈیسک)خلائی مخلوق کے وجود سے متعلق مختلف آراء پائی جاتی ہیں اور اب امریکی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کی خفیہ دستاویزات سے خلائی مخلوق کے متعلق ایک تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا۔ ڈیلی اسٹار کی معلومات کے مطابق دستاویزات سے پتا چلا ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں روسی افواج</p>

 

 

 

<p style="text-align: right;">نے خلائی مخلوق کی ایک اڑن طشتری مار گرائی تھی۔ اس کے جواب میں خلائی مخلوق نے روسی فوجیوں پر حملہ کیا اور روس کے کئی فوجی پتھر کے بن گئے۔ یہ واقعہ انٹارکٹکا میں واقعے ایک روسی فوجی اڈے پر پیش آیا۔ دستاویز کے مطابق انٹارکٹکا میں واقع کئی فوجی اڈوں پر سرخ، سبز اور زرد رنگ کی اڑن طشتریاں منڈلاتی رہیں۔ ان میں سے ایک بہت نیچے آ گئی جسے ایک ملٹری یونٹ کے فوجیوں نے نشانہ بنا ڈالا۔ یہ فوجیوں کے قریب ہی زمین پر گرگئی اور اس میں سے خلائی مخلوق کے پانچ افراد باہر نکل آئے۔ان کے قد چھوٹے، سر بہت بڑے اور بڑی بڑی سیاہ آنکھیں تھیں۔طشتری کے ملبے سے نکلنے کے بعد یہ پانچوں ایک دوسرے کے قریب آئے اور تمام یکجا ہو کر ایک گول سی چیز بن گئے۔پھر اس چیز سے تیز آوازیں آنے لگیں اور اس کی رنگت بہت زیادہ سفید ہوتی چلی گئی۔ چند سیکنڈ کے اندر یہ گول وجود بہت بڑا ہو گیا اور دھماکے سے پھٹ گیا جس سے انتہائی روشن کرنیں نکلیں اور قریب موجود 23 فوجی، جو یہ منظر دیکھ رہے تھے، پتھر کے بن گئے۔دو فوجی جو ایک آڑ میں کھڑے تھے جو اس روشنی کی زد میں نہ آئے اور محفوظ رہے۔ دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ بعد ازاں خلائی مخلوق کی باقیات اور پتھر بن جانے والے فوجیوں کو ماسکو میں واقع ایک خفیہ سائنسی تحقیقاتی ادارے میں منتقل کر دیا گیا۔ 1991ء میں اس وقت کے روسی صدر میخائیل گورباچوف نے خود اس واقعے پر مبنی دستاویز ضائع کی تھیں،تاہم سی آئی اے نے اس کی کاپی حاصل کرلی۔ اس کے بعد میخائیل گورباچوف نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ خلائی مخلوق واقعی وجود رکھتی ہے اور ہمیں اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لینا ہو گا۔</p>

 

 

 

 

 

متعلقہ خبریں