شاعرِدوش و فردا

2017 ,اپریل 21



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک / ڈاکٹر اشفاق احمد ورک):مختلف معاشروں میں وقفے وقفے سے ایسی شخصیات جنم لیتی رہتی ہیں، لوگ جن کے فرمودات و ملفوظات کو تا دیر سلام پیش کرتے رہتے ہیں۔ اگر ہم برِ عظیم میں مسلمانوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو وقفوں کا یہ سلسلہ نہایت وقیع بھی ہے اور قابلِ فخر بھی کہ یہاں مسلسل ایک صدی تک بیس بیس سال کے وقفے سے چھے ایسی شخصیات عالم وجود میں آئیں جنھوں نے پورے برِعظیم کی تہذیب و ثقافت اور بالخصوص ادب کو نہ صرف اپنے اپنے طور پر متاثر کیا بلکہ اسے بے کنار رفعتوں سے بھی آشنا کیا ۔ معروف شاعر، ادیب و محقق امان اللہ خاں آسی ضیائی کی تحقیق جو ۷۷۷۱ء میں شاہ اسماعیل شہید کی پیدائش سے لے کر سر سید و حالیؔ سے علامہ اقبال تک محیط ہے اس میںانہوں نے اردو شاعری اور نثر کو اُفقی و عمودی انتہاؤں سے روشناس کروایا ہے۔ اور پھر ۷۷۸۱ء میں جب شہر سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر اس ہستی نے آنکھ کھولی تودیکھتے ہی دیکھتے پورے عالم کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ اقبال نے صرف اردو اور فارسی شاعری ہی کو درجہ ٔ کمال تک نہیں پہنچایا بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ایسے نقوش مرتسم کیے کہ دنیا کو تسلیم کر کے کہنا پڑا کہ :

ع نمردہ است و نمیرد محمد اقبال

اقبال کی ہمہ رنگی اور کثیرالجہتی ہی کا کرشمہ ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کے اردو و فارسی کلام کا جادو سر چڑھ کے بولنے لگا۔ ان کے اشعار و افکار کی تاویلات و تشریحات سامنے آنے لگیں۔بلکہ ہمارے اکثر ناقدین کی رائے میں ’اقبال اور غالب ہمارے ادب کے دو ایسے جوہر ہیں جن کی یکتائی اور لازوال قیمت میں کبھی فرق نہیں آ سکتا۔‘ معروف اقبال شناس جناب عبداللہ قریشی کے تجزیے کے مطابق :

’اقبال ایک عظیم شاعر، فلسفی، مبصر، ناقد، اور مصلح تھے۔ ان کی طبیعت کی وسعت اور ہمہ گیری کئی رنگ میں جلوہ گر ہوئی۔ انھوں نے ایک طرف تو شعر و سخن میں نئی راہیں نکالیں، دوسری طرف فلسفے میں نئی راہیں قائم کیں۔‘‘ حق تو یہ ہے کہ ان کے افکار و نظریات و تجربات سے استفادہ کر نے پر ہم اس لیے مجبور ہیں کہ انھوں نے زندگی کی بنیادی حقیقتوں کو ان کے اصل مآخذ سے کشید کر کے ہمارے سامنے پیش کیا، یہ مقلد ہونے کے باوجود مجتہد تھے، انھوں نے زمانے کے مسائل اور تقاضوں کو بڑے قریب اور بصیرت کی نظروں سے دیکھا تھا اور پھر اظہار بیان کے اتنے دلکش پیرائے اختیار کیے کہ ان کے الہامی فرمودات زمان و مکان کی حدوں سے ماورا ہو گئے۔دنیا کے ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں ا س دانائے راز کو خراجِ تحسین و عقیدت پیش کیا ہے، جن میں سے چند ایک کا مختصراًذکر کرنا ضروری ہو گا۔ لندن یونیورسٹی کے پروفیسر اے۔جے آربری کہتے ہیں کہ اقبال اور ملٹن نے شاعری میں پیغمبری کی ہے۔ امریکہ کے ہائی کورٹ کے ایک جج نے لکھا کہ اقبال پاکستان ہی کا بیٹا نہیں بلکہ اس پر ہمارا بھی حق ہے اور پھر اگر ایران کی طرف نظر کریں جہاں غالب کے نقش ہائے رنگ رنگ کو تو وہ پذیرائی حاصل نہ ہو سکی، جس کا انھیں زعم تھا مگر اقبال کے بارے میں اگر کہا جائے کہ ایران میں ان کی پوجا ہو رہی ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ کل تک ہمارا اقبال جس ملک کے شاعر مولانا روم کی چوکھٹ پر سجدے کرتا تھا، آج اسی ملک کے مذہبی پیشوا جناب علی خامنہ ای یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ’’من مریدِاقبال ہستم‘‘ اور یہ کہ ’’شعر اقبال معجزہ ہست‘‘ ۔ آج اقبال کافارسی کلام پورے ایران میں باقاعدہ داخل نصاب ہے۔ وہاں ہر سال یوم اقبال نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔

انجمن فرہنگِ ایران و پاکستان کی بانی اور اقبال کی بے پناہ عقیدت مند ڈاکٹر کچکینہ کاظمی نے تو اقبال کو پاکستان کے ساتھ ساتھ ایران کا بھی قومی شاعر تسلیم کیا،وہ اہلِ ایران اور فارسی زبان کے لیے اقبال کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں:

’’ہم ایرانی خواہ کتنی ہی کوشش کریں ، اقبال کا احسان نہیں اتار سکتے۔اس نے نہ صرف فارسی زبان کو بلکہ ہماری روایات اور علمی ادبی تاریخ کو شبہ قارہ ہند و پاکستان میں زندہ کیا اور خود ہمیں اپنی گذشتہ کلچرل عظمت کا احساس دلایا ہے۔‘‘

ایران کے ایک سابق وزیرِ اعظم ڈاکٹر محمد مصدق نے کہا کہ جو چراغ اقبال نے اپنے افکار کے ذریعے جلایاہے اس کی شعائیں روز بروز روشن تر ہوتی چلی جائیں گی۔ اسی طرح ایک اور ایرانی وزیرِ اعظم جناب حسین علا نے کہا کہ ایرانیوں کے لیے یہ بات قابلِ فخرو مباہات ہے کہ اقبال جیسے عظیم مفکر اور شاعر نے اظہار کے لیے فارسی زبان کا انتخاب کیا۔ اس وقت جن پانچ کتب کو فارسی ادب کی ہزار سالہ تاریخ اور دانش و حکمت کا نچوڑ قرار دیا گیا ہے، ان میںفردوسیؔ کا چالیس سال کے عرصے میں امیر تیمور کے زمانۂ بادشاہت میں پایۂ تکمیل کو پہنچنے والاساٹھ ہزار اشعار پر مشتمل تاریخی ’شاہنامہ ‘ ہے۔چالیس سال تک دنیا کی سیاحت کے بعد مشاہدات کے موتیوں کی مالا شیخ مصلح الدین سعدیؔ کی ’گلستان‘ فارسی غزل کے تاجدار، شمس الدین محمد حافظؔ کا ’دیوانِ حافظ جیسا کلام‘ انہیںلسان الغیب کا لقب دے گیا۔ اور پانچویں کتاب ہمارے لیے قابلِ فخر علامہ اقبالؔ کی ’جاوید نامہ‘ ہے جس کو بے شمار ناقدین نے فارسی ادب کا نقطۂ عروج قرار دیا ہے ۔آج تک اقبالیات پر تحقیق کا سلسلہ جاری ہے ، عرب دنیا میں اقبال کی مقبولیت کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی ایک جھلک معروف اقبال شناس ڈاکٹر عبدالوہاب عزام جو پاکستان میں مصر کے سفیر کی حیثیت سے بھی مقیم رہے۔ اقبال اور کلامِ اقبال کے حوالے سے متعدد مضامین اور تقاریر ان سے یادگار ہیں۔ قیامِ پاکستان سے چار ماہ قبل وہ ہندوستان آئے تو مزارِ اقبال پر حاضری دینے کے لیے انھوں نے دہلی سے لاہور کا سفر اختیار کیا۔اس موقع پر وہ اقبال کے لیے اپنا منظوم خراجِ عقیدت سنگِ مرمر کی لوح پہ کندہ کرا کے لائے۔آج ہم اقبال کو مسندِ عظمت پر بٹھانے کے باوجود ان کے اردو کلام سے آگے نہیں جا سکے ہیں۔ حالاںکہ اقبال کا تین چوتھائی کلام فارسی میں ہے۔ اپنی تعلیمی دنیا پر نظر ڈالیں تو ابتدائی کلاسوں میں ’بچے کی دعا‘ سے لے کر تک آخری جماعتوں میں ’ابلیس کی مجلسِ شوریٰ‘ تک ان کا کلامِ بیش قیمت ہمارے نصاب کاجزوِلاینفک بنا ہوا ہے۔علم و ادب پرور حکمرانوں کے دور میں اقبال کی پیدائش اور وفات کے مواقع پر تمام سرکاری اداروں میں عام تعطیلات ہوتی رہیں بلکہ ان دونوں مواقع کو سرکاری سے زیادہ نجی طَورپر نہایت عقیدت و احترام سے آج بھی منایا جاتا ہے۔ملک بھر کے اخبارات آج بھی خصوصی ایڈیشن شائع کرتے ہیں۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے تقریباً تمام چینل اس پر پروگراموں اور مترنم آواز میں کلامِ اقبال سنوانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ حب الوطنی، اسلامی فلسفے اور فارسی اور اردو شاعری پر اقبال انمٹ اثرات چھوڑے ہیں۔ صرف اقبال کے نام پر اکادمیاں، ادارے، گلیاں، محلے، سڑکیں، بازار، کھیل کے میدان، رسائل اور دیگر علاقہ جات وغیرہ قائم کر کے اقبال کے اقبال سے آگاہ نہیں ہوا جا سکتا۔ اربابِ بست و کشاد پہ لازم ہے کہ اقبال کے فارسی کلام کو عام قاری تک پہنچانے کے لیے بھی خصوصی کاوشیں کی جائیں۔

 

متعلقہ خبریں