کسی کا دل توڑنے یا اپنا دل کسی کو دینے سے پہلے سوچ لیں، سائنسدانوں نے اس صدی کا سب سے بڑا اعلان کردیا،

2017 ,جون 19



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)محبت میں ناکامی پر عاشق نامراد دل ٹوٹ جانے کی دہائیاں دیا کرتے ہیں اور محبت پر یقین نہ رکھنے والے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ دل بھی کوئی ٹوٹنے والی چیز ہے۔مگر اب سائنسدانوں نے بھی اس پر مہرتصدیق ثبت کر دی ہے کہ دل واقعی ٹوٹتا ہے اور طویل المدتی تناظر میں عاشقِ نامراد کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ سائنسدانوں نے نئی تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ ”محبت میں انسان کو جو صدمہ پہنچتا ہے وہ اس کے دل کے پٹھوں کو تباہ کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے جس سے اس کی دل کی صحت خراب ہونی شروع ہو جاتی ہے اور بڑھتی عمر میں اسے دل کا دورہ پڑنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔“ برطانیہ کی ابرڈین یونیورسٹی کے سائنسدانوں اس تحقیق میں محبت میں ناکام ہونے والے 52مردوخواتین پر تجربات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”آج تک یہی سمجھا جاتا تھا کہ محبت میں ناکامی پر دل وقت کے ساتھ صدمے سے نکل آتا ہے لیکن ہماری تحقیق میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے ہیں۔ ایک بار دل ٹوٹ جائے تو اس کے اثرات زائل نہیں ہوتے بلکہ دل کی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں جو بالآخر ہارٹ اٹیک کی راہ ہموار کر دیتے ہیں۔“ ڈاکٹر ڈینا ڈیوسن کا کہنا تھا کہ ” دل ٹوٹنے سے لاحق ہونے والی دل کی خرابی کو ”بروکن ہارٹ سنڈروم‘ یا ’ٹیکوتسوبو سنڈروم‘ کہا جاتا ہے۔ اس بیماری سے خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں، کیونکہ دل ٹوٹنے کے صدمے کو وہ مردوں کی نسبت زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کرتی ہیں۔ اس بیماری میں مبتلا افراد میں سے 3سے 17فیصد لوگ پانچ سال کے اندر اندر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔اس بیماری کے مریضوں میں 90فیصد تک خواتین ہوتی ہیں۔“

متعلقہ خبریں