عشق کی انتہا

2017 ,اکتوبر 28

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



مسجد ِ نبوی شریفؐ کےصحن میں بیٹھ کر گنبد ِ خضریٰ کو تکتےرہناسرمد کا سب سے پسندیدہ عمل تھا وہ جب سےاپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےشہر میں آیاتھا اس نےنماز اور درود کےعلاوہ اورکسی شےکی طرف دھیان ہی نہ دیا تھا... ہوٹل میں کپڑے بدلنے یا غسل کےلئےجاتا ورنہ اس کا سارا وقت وہیں گزرتا اللہ کےحبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےحضور حاضر ہو کر اس نےجو کیف پایا تھا اس کا اظہار لفظوں میں ممکن ہی نہ تھا۔ دل کی دھڑکنیں زبان کےساتھ صدا دیتی ہوئی د رود شریف کےورد میں شامل رہتیں ایک مہک تھی جو اسے ہر طرف رقصاں محسوس ہوتی ایک نور تھا جو ہر شےپر محیط نظر آتا ایک سکون تھا جو اسےہوائوں میں تیرتا ملتا آنکھیں بند کرتا تو اجالے بکھر جاتی پلکیں وَا کرتا تو قوس قزح کےرنگ چھلک پڑتی آقا کا خیال آتا تو نظر اشکوں سےوضو کرنےلگتی۔ واپس جانےکا خیال آتا تو جگر میں ایک ٹیس سی آنکھ کھول لیتی مگر ہر ایک کیفیت میں مزا تھا۔ ایک لذت تھی۔ درد بھی اٹھتا تو سرور آمیز لگتا آخری دن تھا جب وہ دربار ِ نبوی میں ہدیہ درود و سلام پیش کرنےکےبعد دعا کےلئےہاتھ اٹھائےکھڑا تھا۔ زبان گنگ تھی۔ لب کانپ رہےتھےاور دعا کےالفاظ کہیں گم ہو چکےتھے کتنی ہی دیر گزر گئی اس کے آنسو تھم ہی نہ رہےتھے ہچکی بندھ گئی تو وہ کھڑا نہ رہ سکا۔۔۔ آہستہ سےوہ اپنی جگہ بیٹھ گیا۔چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا اور سسکنےلگا میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرےمولا ۔میں کیا مانگوں؟ کوئی طلب ہی نہیں رہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےدر پر آ گیا اب اور کیا چاہوں؟ کس کےلئےچاہوں؟ اور ”کس کےلئے؟؟؟؟؟۔۔۔۔ کہ الفاظ پر ایک دم اس کےتصور میں ایک چہرہ ابھرا ہاں اس کےلئےسُکھ عطا کیجئے دل سےایک بار پھر مہک نکلی اپنے لئے بھی تو کچھ مانگ پگلے ایک سرگوشی نےاسےچونکا دیا اس نےادھر ادھر نظر دوڑائی جس کی صدا تھی وہ کہیں نظر نہ آیا لوگ اس سے دور دور تھے۔ اس در پر آ کر کچھ نہ مانگنا بد نصیبی ہے۔ کچھ مانگ لے۔ کچھ مانگ لے کوئی اسے اکسا رہا تھا اسےسمجھا رہا تھا۔ مگر کون؟۔۔۔ اس نےبار بار تلاش کیا۔ کوئی دکھائی نہ دیا۔ تھک کر اس نے سر جھکا لیا اور آنکھیں موند لیں کیا مانگوں؟ اب وہ خود سےسوال کر رہا تھا کیا مانگوں؟ کیامانگوں؟ اس کا رواں رواں پکار رہا تھا پھر جیسے یہ سوال جواب میں بدل گیا اسےاپنی زبان پر اختیار نہ رہا۔ اپنی طلب پر اختیار نہ رہا اپنے آپ پر اختیار نہ رہا میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ میں خام ہوں ناکام ہوں مجھےوہ دیجئے۔ وہ عطا کیجئےجو مجھےکامیاب کر دے ان الفاظ کےادا ہوتےہی جیسےاس کی زبان پر تالا لگ گیا۔ اس کا سارا جسم ہلکا ہو گیا۔ ہوا سےبھی ہلکا۔ وہ بےوزن ہو گیا اس نےبات ان کی مرضی پہ چھوڑ دی تھی جنہیں اللہ نےاپنا حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنایا اور لوح و قلم پر تصرف عطا کر دیا۔ مانگےسےلوگ من کی مرادیں پاتےہیں۔ بِن مانگے اپنی مرضی سےوہ کیا عطا کر دیں کون جان سکتا ہے؟ سرمد نے نفع کا سودا کر لیا تھا ایسےنفع کا سودا جس کےلئےاس کے پلےصرف اور صرف عشق کا زر تھا۔ عشق۔۔۔ جس سےاس کا ازلی و ابدی تعلق ظاہر ہو چکا تھا عشق جس نےاسے ہجر و فراق کی بھٹی میں تپا کر کندن بنانے کی ٹھان لی تھی اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در کے بوسے لیتا ہوا وہ مسجد ِ نبوی سےرخصت ہوا چوکھٹ کو چوم کر دل کو تسلی دی حدود ِ مدینہ سے نکلنے سے پہلے خاک ِ مدینہ پر سجدہ کیا اسےہونٹوں اور ماتھے سے لگایا پھر مٹھی بھر یہ پاکیزہ مٹی ایک رومال میں باندھ کر اپنی اوپر کی جیب میں رکھ لی اس کے لئے یہ کائنات کا سب سے بڑا تحفہ تھا۔

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں