کیسا_یہ_عشق_ہے

2017 ,اپریل 6

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



ایک بچے نے اک استاد کو اپنےگھر ایک مضمون پڑھانے کے لئے مقرر کیا. استاد نے اسے اک ٹاپک سمجھایا اور کہا کہ آج شام میں گھر آکر اس کا ٹیسٹ لوں گا اس کی پریکٹس کر کے ٹیسٹ تیار کرلینا.
استاد جب شام کو بچے کے گھر گئے تو دیکھا کہ گلی میں قالین بچھا ہوا تھا جس پر گلاب کے پھولوں کی پتیاں اسے ڈھانپے ہوئے تھیں. گلی کے دونوں طرف کے تما گھروں کی دیواروں پر ہر رنگ کی بتیاں جل رہی تھیں. اورگلی کےاوپر رنگ برنگی جھنڈیوں کی چادر تنی ہوئی تھی آخرتک.
استاد جب گلی میں سے گزر کر بچے کے گھر کے دوازے پر پہنچے تو ان پر چھت سے پھولوں کی بارش برسائی گئی. اور فضا "مرحبا یااستاذ" کےفلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی. گھر کے دروازے پر بچے نے استاد کا پرتپاک استقبال کیا اور استاد کے ہاتھوں کو جھک کر ادب سے چوما اور انھیں آنکھوں پر لگایا.
استادنے پوچھا کہ "بیٹا یہ سب کیا ہے.‫؟" تو بچے نے جواب دیا کہ،،،، "استاد محترم مجھے آپ سے والہانہ پیار، محبت، عقیدت اورعشق ہے. آپ آج میرے گھر تشریف لائے ہیں تو یہ سارا انتظام آپ کی آمد کی خوشی میں آپ کے استقبال کے لئے میں نے کیا ہے.تاکہ آپ مجھ سے راضی اور خوش ہوجائیں."
استاد نے فرمایا کہ "اچھا بیٹا یہ بتاؤ کہ تم نے وہ ٹیسٹ تیار کیا ہے جس مقصد کے لئے میں یہاں آیا ہوں.؟" تو بچے نے جوب دیا کہ "استاد محترم دراصل میں آپ کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف رہا تھا اس لئے میں وہ ٹیسٹ تیار نہیں کر سکا." تو استاد نے فرمایا کہ.، ، ،
" بیٹا جس مقصد کے لئے میں یہاں آیا ہوں اور جس کام سے میں نے تم سے راضی اور خوش ہونا تھا وہ تو یہ ٹیسٹ تھا جو تم نے تیار ہی نہیں کیا. اور جس کام کے کرنے کے لئے میں نے ایک مرتبہ بھی آپ کو نہیں کہا تھا آپ نے اس کام میں اپنا قیمتی وقت اور پیسہ لگا کر مجھے خوش کرنے کا کیسے سوچ لیا.؟ جس کام کے کرنے کا میں نے کہا ہی نہیں تھا اس کام سے بھلا میں خوش کیسے ہو سکتا ہوں.؟ اور جس کام سے میں نے خوش ہونا تھا وہ آپ نے کیا ہی نہیں. آپ کےخلوص اور جذبے پر مجھے کوئی شک نہیں بیٹا لیکن اس جذبے کی تکمیل اس راستے سے کبھی نہیں ہو سکتی جو آپ کو پسند ہو بلکہ صرف اسی طریقے سے ہو سکتی ہے جو مجھے پسند ہے."
بس یہی حقیقت ہمارے اپنے نبی سے عشق و محبت کی میرے بھائیو! جس کا بخار ہمیں صرف ربیع الاول میں ہوتا ہے. اگر ہم اپنے نبی کو راضی و خوش کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں طریقہ بھی وہی اختیار کرنا ہوگا جو خود نبی علیہ السلام نے بتایا تھا اور صحابہ کرام علیھم الرضوان نے جس پر عمل کرکے دکھایا تھا.
بے شک ہمارے خلوص اور عشق کی سچائی میں کوئی شک نہیں لیکن محبوب راضی اسی طریقے سے ہوتا ہے جو محبوب کو پسند ہو نہ کہ عاشق کو پسند ہو. اور وہ ایک ہی طریقہ ہے کہ حکم الله کا ہو اور طریقہ ِمحمد الرسول الله کا ہو. صلی الله عليه وسلم. اور زندگی اسی محبوب کی سنتوں کی اتباع میں گزر جائے.
کوئی لڑائی نھیں کوئی جھگڑا نہیں کوئی بحث و مناظرہ نہیں بس صرف آسان الفاظ میں اپنے ہی بہن بھائیوں کو سادہ سی دعوت فکر ہے. اس امید کے ساتھ کہ، ، ، ،
شاید کہ اتر جائےکسی دل میں میری بات.

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں