آہ!ڈاکٹر صفدر محمود طارق اسماعیل ساگر

2021 ,ستمبر 16



صرف ایک دن کے وقفے سے ڈاکٹر صفدر محمود اور طارق اسماعیل ساگر کا انتقال ہوگیا۔ ڈاکٹر صفدر محمود پاکستان کی اساس کے امین تھے اور بانی پاکستان کے حوالے سے انتہائی زیادہ حساس تھے قائد یا اقبال کے بارے میں کسی قسم کی افواہ پر مبنی خبر سامنے آتی ہے تو ڈاکٹر صفدر محمود چین ہو جاتے ہیں، بے تاب ہو جاتے ہیں اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھتے جب تک ناروائیوں کا مدلل، پورے شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ رد نہ کردیتے۔ ڈاکٹر صفدر محمود ان لوگوں میں سے تھے جو سمجھتے تھے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کی کوششوں کو اس وقت تیزترین کر دیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت ہوئی۔ ڈاکٹر صفدر محمود کی یہ بھی کہا کرتے تھے کہ قائد اعظم محمد علی جناح عبادت گزار تھے مگر ریاکار نہیں تھے۔وہ راتوں کو جاگ کر عبادت کرتے اور گڑا گڑا کردعائیں کرتے تھے۔
ڈاکٹر صفدر محمود پاکستان کا بہت بڑا اثاثہ تھے۔ڈاکٹر صفدر محمود نے ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا حیاتِ قائد۔ پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے ان کو اس کتاب پر پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی گئی۔طارق اسماعیل ساگر بھی ایک نابغہ روزگارشخصیت تھے انہوں نے 60 سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ان میں ناول اور تحقیقاتی کتابیں بھی ہیں۔کہا جاتا ہے ان کوبھارت میں جاسوسی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ یہ صرف لکھنے پڑھنے کی حد تک نہیں ہے بھارت میں جاسوس کے طور پر گئے تھے اور وہ کمانڈوبھی تھے۔ طارق اسماعیل ساگر کی موت ہمارے لئے انتہائی دکھ کا باعث ہے۔ وہ آخری دنوں میں کرونا مبتلا ہو گئے تھے ۔وہ اپنا یوٹیوب چینل چلا یاکرتے تھے۔ان کے چاہنے والوں کی طرف سے غیر حاضری کے بارے میں پوچھا گیاتو ساگر صاحب کی طرف سے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی گئی ۔ جس میں وہ صحت کی امید کر رہے تھے اور بے بسی کی تصویر بنے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ میں نے ویکیسن کروائی ہے اس کے باوجود بیماری میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ ان کی اہلیہ بھی کرونا سے متاثر ہیں۔ اللہ تعالی ان کی اہلیہ کو صحت یاب کرے۔ساگر صاحب فلم رائٹر بھی تھے۔ انھیں 2004 میں فلم سلاخیں لکھی تھی۔ اللہ تعالی ڈاکٹر صفدر محمود اور طارق اسماعیل ساگرکو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ یہ واقعی وہ لوگ ہیں جن کا خلاءکسی طور پر بھی پورا نہیں ہوسکتا۔

 

متعلقہ خبریں