جہیمان کون تھا؟

2017 ,اکتوبر 24



کاش یہ اپنی جانوں پر ظلم نہ کرتے اور اور ہمارا متبرک اور محترم حرم کعبہ زخمی نہ ہوتا.

کاش 1979 کو پیش آنے والا حرم مکی کا واقعہ وقوع پزیر نہ ہوا ہوتا.

حج ختم ہوئے ابھی صرف 20 دن ہی گزرے تھے اور نئے اسلامی سال بلکہ نئی اسلامی صدی یعنی 1400 ہجری کا پہلا دن تھا۔ گویا یہ یکم محرم الحرام سن 1400 ہجری بمطابق 20 نومبر 1979، منگل کی صبح تھی جب اسلامی تاریخ کا ایک ایسا تلخ اور دلوں کو رولا دینے والا واقعہ مسجد الحرام کی محترم اور مبارک دیواروں کے بیچ، جانوں سے زیادہ عزیز کعبہ مشرفہ کے اطراف میں وقوع پزیر ہوا جس کے زخم آج تک عشاق حرم کے دلوں میں تازہ ہیں۔

نئی صدی کی پہلی صبح جب امام حرم کعبہ شیخ عبد اللہ بن سبیل نے نماز فجر کا سلام پھیرا ہی تھا کہ چند آدمیوں نے امام صاحب کو گھیرے میں لے لیا ان میں سے کچھ لاؤڈ سپیکر پر قابض ہو گئے۔ کچھ مسجد الحرام کے میناروں پر چڑھ گئے اور کچھ مسلح افراد نے مسجد کے دروازوں کا کنٹرول سنبھال لیا کیونکہ حج ختم ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے، اس لئے دوسرے ملکوں کے حاجیوں کی ابھی کثیر تعداد مکّہ مکرمہ میں ہی مقیم تھے جس کی وجہ سے جب یہ دلسوز حملہ امت مسلمہ کے دلوں پر کیا گیا تو اس وقت حرم شریف میں ایک لاکھ کے قریب نمازی موجود تھے۔
ان حملہ آوروں خوارج کا سرغنہ ”جہیمان بن سیف العتیبی” تھا اور اس کا تعلق سعودی عرب کے علاقے ”نجد” کے ایک طاقتور گھرانے سے تھا۔ اس کا دست راست 27 سالہ محمد بن عبد اللہ قحطانی تھا۔ جس نے مکہ یونیورسٹی میں اسلامی قانون کی چار سالہ تعلیم حاصل کی تھی جس کی تصویر آپکی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔ کہا جاتا ہے یہ حملہ آوروں خوارج کا سرغنہ ”جہیمان بن سیف العتیبی” نے اسے اپنا بہنوئی بنا رکھا تھا۔ 
ان لوگوں نے بڑی باریک بینی سے پلاننگ کر کے جنازوں کا بہروپ بنا کر تابوتوں کے ذریعے اسلحہ کی بڑی مقدار حرم پاک کے تہہ خانوں میں جمع کر لی تھی۔ اسلحے کے ساتھہ خشک کھجوروں اور دیگر اشیا خرد و نوش کا بھی اچھا خاصا ذخیرہ تہ خانوں میں چھپا دیا گیا تھا۔ یہ سب کام کئی دنوں میں مکمل ہوا مگر سازش گہری تھی، اس لئے کسی کو اس کا شک نہ ہوا اور کسی کے گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ اس متبرک مقام پر کوئی گروہ اتنی ناپاک سازش کا تصور بھی کر سکتا ہے۔
دلوں کو چیر دینے والی اس صبح جب امام حرم کعبہ شیخ عبد اللہ بن سبیل کو ان حملہ آوروں نے اپنے قابو میں کیا تو فورا ہی انکے ناپاک عزائم کے مطابق کاروائی پورے حرم محترم میں شروع ہو گئی۔ اچانک حرم کے تمام دروازے بند کر کے ان پر اپنے مسلح افراد کھڑے کر دئیے گیے۔ حرم میں موجود تمام نمازی یرغمال بنا لیے گیے۔ جو اپنی تھوڑی بہت کوشش سے حرم سے نکل گئے، بس وہی نکل سکے۔ باقی سب معصوم حاجی اور نمازی جن میں خواتین، بوڑھے اور بچے بھی تھے محصور ہو کر رہ گئے۔ ایک حملہ آور نے عربی میں حرم پاک کے اسی مائک سے جس پر چند لمحوں پہلے نماز فجر کی تلاوت ہورہی تھی، اعلانات کرنا شروع کر دیے کہ ”مہدی موعود جس کا نام محمد بن عبدا للہ ہے آ چکا ہے۔” 
نام نہاد مہدی ”محمد بن عبد اللہ قحطانی” جسکی تصویر نیچے دی گئی ہے اس نے بھی مائیک پر آ کر اعلان کیا کہ
”میں نئی صدی کا مہدی ہوں، میرے ہاتھ پر سب لوگ بیعت کرینگے ”
اس کے بعد اس گمراہ ٹولے نے مسجد الحرام کے مقام ابراہیم جیسے مقدس گوشے کے پاس، کعبہ مشرفہ کے عین سامنے جا کر گولیوں، سنگینوں اور بندوقوں کے سائے میں لوگوں کو دھمکاتے ہوئے بیعت شروع کروانی شروع کر دی ۔
محاصرے کے فوراً بعد وزارت داخلہ کے تقریباً ایک سو (100) اہلکاروں نے دوبارہ حرم مکی پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن مرتدین حملہ آوروں نے ان فوجیوں کی کوشش ناکام بنا دی۔ اس کوشش میں بہت سا جانی نقصان بھی ہوا۔ اس کے بعد سعودی فوج اور سعودی نیشنل گارڈ نے بھی حرم پاک کو ناپاک لوگوں سے آزاد کرانے کی کوشش کی جو زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ شام ہوتے ہوتے پورے مکّہ مکرمہ کو رہاشیوں سے خالی کرا لیا گیا۔
سعودی فرمانروا شاہ خالد نے 32 علماء پر مشتمل سپریم کونسل کا اجلاس فوری طور پر طلب کر لیا۔ علماء کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ مسلح گمراہ افراد کیخلاف کارروائی شریعت کے عین مطابق ہے۔ اس فتوے کی روشنی میں بیت اللہ کے تقدس کے پیش نظر بھاری اسلحہ استعمال کرنے سے گریز کیا گیا۔


بعد ازیں سعودی آرمی اور فرنچ آرمی کا خوارج سے مقابلہ ہوا جن کے پاس سنائپرز اور شارپ شوٹرز تھے اور انہوں نے مسجد الحرام میں جگہ جگہ پوزیشنز سنبھال لیں۔ دو دن تک مقابلہ ہوا لیکن سعودی فوجی ہلاکتوں کے باوجود سعودی اور فرنچ آرمی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ مسجد الحرام دو دنوں سے اذانوں اور نمازوں کی تکبیرت کی گونج سے محروم تھی۔ گویا نہ اذانیں دی جارہی تھیں نہ نمازوں کا باقاعدہ اہتمام ہو پارہا تھا، نہ طواف ممکن تھا۔
بالا آخر الحمد للہ ایک بار پھر پاکستان کی پاک فوج کو اسلام کی فوج ثابت ہونےکے لئے کارروائی کرنے کا موقع دیا گیا۔ جس نے نہایت کم وقت میں آپریشن کی منصوبہ بندی کی. پاکستانی کمانڈوز نے دہشت گردوں کے سنائپرز سے نمٹنے کے لیے ایک عجیب ترکیب استعمال کی اور پورے مسجدالحرام میں پانی چھوڑا گیا اور پوری مسجد کی گیلی زمین میں کرنٹ دوڑانے کی دھمکی دی گئ جس کی وجہ سے خوارج کے شارپ شوٹرز اور سنائپرز کچھ دیر کے لیے غیر مؤثر ہوگئے۔
پاک فوج نے غیر معمولی سرعت سے تمام خوارج پر قابو پالیا۔ بغیر کسی جانی نقصان کے سب حملہ آوروں کو فوری طور پر گرفتار کر لیا۔ تمام یرغمالیوں کو رہائی دلائی گئی۔ اس طرح اللہ تعالی نے یہ عظیم سعادت پاکستان کو عطا کی۔ اللہ ہمارے ان روحانی مراکز مکہ و مدینہ کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور انہیں حاسدوں کے شر سے محفوظ و مامون رکھے.

(آمین) 


خوارج کا مکمل صفایا کرنے کے بعد 7 دسمبر 1979 کو دوبارہ حرم شریف کو عبادت کیلئے کھولا گیا۔ گویا سولہ دن حرم پاک میں اذانیں نمازیں اور طواف ممکن نہ ہو سکا۔ 
اس لڑائی میں 75 باغی مارے گئے جس میں نام نہاد مہدی ”محمد بن عبد اللہ قحطانی” بھی شامل تھا جسکی ہلاکت کے بعد کی تصویر آپکو دکھا دی گئی ہے اور اس نا پسندیدہ انسان کی تصویر اور اس واقعہ کی تفصیل صرف اس لیے پیش کی جارہی ہے کہ آپ اور خاص طور سے آج کی نوجوان نسل اسلامی تاریخ کے اس لرزہ خیز ایونٹ سے آشنا ہو سکے۔ 
خوارج کے علاوہ نیشنل گارڈز کے 60 فوجی، چار پاکستانیوں سمیت 26 حاجی شہید اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ خوارج کی بڑی تعداد کو گرفتار کر لیا گیا جس میں اس کا سرغنہ ”جہیمان بن سیف العتیبی” بھی شامل تھا۔
سزائے موت پانے والے مرتدین میں سے 41 سعودی عرب، 10 مصر، 6 جنوبی یمن، اور 3 کویت سے تعلق رکھتے تھے جبکہ عراق، سوڈان اور شمالی یمن کا بھی ایک ایک مرتد شامل تھا۔ کیس کے بعد ان تمام ملزموں کے سعودی قوانین کے تحت سر قلم کر دیے گئے۔

اللہ ہمیں ایسے فتنہ اور شرانگیر لوگوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے.

(آمین)

متعلقہ خبریں