جنت سے آیا ، آسیہ کا خط

2022 ,فروری 22



،،،میرا نام آسیہ ہے مجھے دنیا سے گئے ہوئے آج تین سال ہو گئے ہیں آج جنت میں ہوں سب کچھ میرے پاس ہے، لیکن سبحان جانتے ہو میرا دل جلتا ہے مجھے سکون نہیں آتا کہیں بھی ، میں بہت خوش رہنے والی لڑکی تھی مجھے میرے چاچا چاچی نے پالا تھا ،میرے ماما ۔۔بابا بچپن میں ہی ایک ایکسیڈنٹ۔۔۔میں دنیا سے چلے گئے ،میں نے ماں باپ کے بنا جسے بھی ہوا زندگی گزاری، میری شادی چاچا چاچی نے کروائی میرا شوہر بہت آچھا تھا۔۔۔ میرا خیال رکھتا تھا، مجھے اداس نہیں ہونے دیتا تھا میرا شوہر اس وقت بہت خوش تھا جب ہمارے ہاں پہلی بیٹی ہوئی تھی ،وہ خوشی سے مجھے سینے سے لگاتا تھا پھر یوں ہوا ، سبحان ،،،،اللہ پاک نے مجھے پانچ بیٹیاں دیں ایک بیٹی اب نارمل تھی وہ چل پھر نہیں سکتی تھی ، میرا شوہر۔۔۔ میری سا س ۔۔طعنے دینے لگے، میں اپنی بیٹیوں کو لے کر بہت روئی تھی شوہر مجھ سے منہ پھیرنے لگا ،مجھے خرچی دینا بند کر دی ، میری چھوٹی چھوٹی شہزادیاں بھوک سے تڑپنے لگیں،ماں ہوں نا سبحان۔۔۔۔جب اپنی بیٹیوں کی بھوک برداشت نہ ہوئی میں آپنے شوہر سے جھگڑا کرنے لگی ، جب میں آپنے شوہر سے لڑتی میری چھوٹی چھوٹی ننھی سے پریاں دیوار کے ساتھ کھڑی ایک کونے میں چیخ چیخ کر رویا کرتی تھیں ، شوہر ایک ڈنڈا اٹھاتا اس وقت تک مارتا جب تک میں بے ہوش نہ ہو جاتی! میری بیٹیاں میرے ہوش آنے تک میرے ساتھ باتیں کرتی رہتیں، ایک کہتی ماما اٹھ جاؤ نا ایک میرا منہ چومتی میری آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتی ،بڑی والی اتنی ڈر جاتی وہ میرے دوبٹے میں چھپ جاتی جب میں ہوش میں آتی تو کہتی ، ماما۔۔۔۔۔۔ہم کو کھانا نہیں کھانا بس آپ ہمارے پاس سو جائیں اپنی بھوکی بیٹیوں کو سینے سے لگا کر لوری سناتی۔۔ ماں باپ تھے نہیں۔۔ چاچا، چاچی نے بوجھ اتارا سر سے۔۔۔ کوئی سہارا باقی نہیں تھا ،ساس میرا کلیجہ کھانے کو دوڑتی تھی ، شوہر گھر آتا میری بیٹیاں میرے پیچھے چھپ جاتی تھیں ، فارس۔۔۔۔۔جانتے ہو میری بڑی بیٹی 7 سال کی تھی ایک دن میرے شوہر نے اسے کہا کھانا ڈال کر دو وہ کھانا پلیٹ میں ڈال رہی تھی کھانا گرم ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھ سے گر گیا میرے شوہر نے اسے اتنا مارا کہ اس کے منہ سے خون نکلنے لگا،کہنے کو باپ ہے لیکن وہ جلاد ہے ، اسے لگتا ہے بیٹیاں بوجھ ہیں میرا دل اس دن بہت چاہا تھا کہ بیٹیوں کو لے کر زاہر کھا لوں لیکن اپنے جسم کے ٹکڑوں کو کیسے تکلیف دے سکتی تھی فارس۔۔۔۔۔۔میں پڑوسیوں سے مانگ کر۔۔۔ لوگوں سے چوری مانگ کر اپنی بیٹیوں کا پیٹ بھرتی ،عید شب رات میں ان کو کہیں نہ کہیں سے کپڑے لا کر دیتی تھی ان کی مسکراہٹ میری زندگی تھی، فارس۔۔۔۔۔میری بیٹیاں میری جان ہیں ، پھر ایک دن یوں ہوا میرے شوہر نے دوسری شادی کر لی ، میں بہت روئی بہت روئی ، میری جان نکل گئی تھی ، فارس۔۔۔۔وہ دلہن گھر لے آیا کچھ دن گزرے رات کے وقت میری ایک بیٹی بہت بیمار ہو گئی میں اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹاتی رہی وہ نہ اٹھا میں نے چلانا شروع کر دیا محلے والے اکٹھے ہو گئے وہ میری بیٹی کو ہسپتال لے گئے صبح ۔۔۔۔میرا شوہر ڈنڈا لئے میرے پاس آیا مجھے گالیاں دینے لگا مجھے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے ہال کمرے میں لے آیا میری بیٹیاں رونے لگیں ، فارس۔۔۔۔۔میری بڑی بیٹی بیمار پڑی تھی چار پائی پے شوہر گالی دیتے ہوئے کہنے لگا تم نے رات کو کیا تماشہ کیا تھا محلہ اکٹھا کر لیا۔۔۔۔میری خوشی دیکھی نہیں جاتی تم سے۔۔ سبحان۔۔۔۔اس نے مجھے مارنا شروع کیا، مجھے مارتا رہا۔۔۔۔۔۔میں چلاتی رہی، میری بڑی بیٹی چارپائی پر تڑپ رہی تھی ، میں نے کونے میں کھڑی بیٹیوں کو دیکھا ۔۔۔اتنے میں ایک زور دار ڈنڈا میرے دماغ میں لگا میرا جسم ۔۔۔سن ہونے لگا، میں کانپنے لگی میری بیٹیاں ۔۔۔میرے سامنے اجھل ہونے لگیں فارس۔۔۔میری بیٹیوں کے چہرے دھیمے ہونے لگے میری آنکھیں بند ہونے لگیں۔ مجھے ہسپتال لے جایا گیا جہاں سے میں آللہ پاک کے پاس چلی گئی ، سبحان۔۔۔۔۔ایک گھنٹے بعد میری میت کو گھر لایا گیا میری ابنارمل بیٹی جس کو میں نے اپنی زندگی میں کبھی زمین پر چلنے نہیں دیا وہ گھسیٹتی باہر دروازے پر آ بیٹھی میری لاش کو ایمبولینس سے اتارا گیا ،اسی وقت میں سبحان۔۔۔۔بہت تڑپی اپنی بیٹی کو دیکھ کر سبحان ۔۔۔کیا مائیں مر جائیں ایک ہی لمحے میں ان کی اولادیں خاص بیٹیاں آسمان سے زمین پر کیوں آ جاتی ہیں ،آخری بار اپنی چھوٹی ۔۔۔۔بیٹی کو دیکھا جو دو سال کی تھی وہ انجان تھی چارپائی پر خود کھیل رہی تھی ، فارس۔۔۔۔سر میری بیٹیاں میری لاش کے پاس کھڑی مجھ سے باتیں کرنے لگیں، بڑی بیٹی نے میرا خون صاف کیا، چھوٹی میرا منہ چوم رہی تھی ابنارمل بیٹی کو کمرے میں بند کر دیا تھا کہ وہ تنگ کرے گی آئے ہوئے لوگوں کو ، ایک میری آنکھ سے بہنے والا آنسوں صاف کر رہی تھی،۔ فارس۔۔۔۔۔میں آسمان کی طرف سفر کرتے ہوئے سب دیکھ رہی تھی ایک بیٹی۔۔۔۔نے میری آنکھیں کھولیں اور کہنے لگی ماما۔۔۔۔۔۔اٹھو چھوٹی رو رہی ہے اسے بھوک لگی ہے وہ ساری رات۔۔۔۔۔میرے پاس بیٹھی رہی تھیں میرا جسم ٹھنڈا پڑ چکا تھا، بڑی بیٹی نے آپنی چھوٹی بہنوں کو آپنے پاس بٹھایا کہنے لگی ماما۔۔۔۔۔سو گئی ہیں ،ماما۔۔۔۔۔کے ساتھ لیٹ جاؤ، فارس،،،میری بیٹیاں میری لاش کے پاس سو گئیں ، بیمار بیٹی دوائی لے کر آئی میرے پاس بیٹھ گئی، ماما،،،،،میں نے دوائی کھا لی آج مجھے کڑوی بھی نہیں لگی ، صبح،،،،،ہوئی میری لاش کو چارپائی پر رکھا گیا رونا شروع ہوا ماتم کا تماشہ کرنے لگے میرے چاچا۔۔۔چاچی ۔۔۔کپٹرے پھاڑ کر رونے لگے، سب باتیں کر رہے تھے کیسے مری، لیکن فارس،کسی نے تحقیق نہ کی ، میری بیٹیاں۔۔۔بال بکھیرے میری میت۔۔۔۔کے پاس کھڑی تھیں ان کو پتہ بھی نہیں تھا ان کے ساتھ کیا ہوا ہے ایک نے میرا منہ چوما اور کہنے لگی ، ماما،، ،،،،آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں ان کپٹروں میں، فارس ۔۔۔۔سر میری بیٹیاں مجھے دیکھ رہی تھیں ، میرا جنازا اٹھایا گیا اور مجھے دفنا آئے،، میری بیٹیاں ۔۔۔رات بھر دیکھتی رہی ماما۔۔۔۔نہیں آئی انہوں نے کھانا بھی نہیں کھایا جس بیٹی کو بخار تھا اس نے دوائی کھائی اور میری طرف دیکھنے لگی ، شوہر ۔۔۔نے بیٹیوں کو پاس بلایا، دادی۔۔پاس بیٹھی ان کو کہنے لگی تمھاری ماں ،،،اب نہیں آئے گی وہ گندی تھی وہ سوتیلی ماں کے ہاتھوں آ گئی تھیں ، فارس،،ان کے کپڑے گندے ہوتے ہیں ،بال بکھرے ہوتے ہیں چھوٹی سی عمر۔۔۔میں وہ سیانی ہو گئی ہیں اب وہ عید۔۔۔پے نئے کپڑوں کی فرمائیش بھی نہیں کرتیں اب وہ بھوکی بھی ہوں تو کھانا نہیں مانگتیں میری بیٹیاں بہت صبر والی ہیں سبحان جانتے ہو ایک دن میری بڑی بیٹی کھانا بنا رہی تھی کھانا جل گیا اس سے سوتیلی ماں نے اسے بہت مارا ،میں یہاں سے تڑپنے لگی😭 وہ مار کھا کر کمرے میں گئی،،،،میری تصویر نکال کر کہنے لگی ، ماما۔۔،،،،،آ جاؤ نا آپ کو دو سال ہو گئےاب تو گئے ہوئے، آپ تو کہیں جاتی بھی نہیں تھیں ہم سے دور، دادی کہتی ہے آپ اللہ ۔۔۔۔کے پاس ہیں ، میری اللہ،،، پاک سے بات کروائیں میں اللہ پاک،،،سے کہوں گی ہم سب بہنیں ماما۔۔۔۔کو بہت یاد کرتی ہیں ہماری، ماما،،،،،کو بھیج دیں میری بڑی بیٹی ماں کی طرح چھوٹی بہنوں کا خیال رکھتی ہیں ،فارس۔۔۔۔۔ایک دن میری ابنارمل۔۔بیٹی کو سردی لگ گئی رات کو میری بڑی بیٹی کیسے سنبھالتی سب بہنیں اس کو لے کر روتی رہیں وہ بے سدھ پڑی تھی سردیوں کی راتیں تھیں ہر کوئی آپنے کمرے میں تھا میری بڑی بیٹی دوڑتی رہی کبھی آپنے بابا۔۔۔۔۔کو اٹھاتی۔۔۔۔۔کبھی دادی ۔۔۔۔کو پر کسی نے ان کر طرف توجہ نہ دی میری بیٹی چیختی چلاتی رہی بخار سے وہ ابنارمل تھی بہنوں سے بول بھی نہیں سکتی تھی میری بڑی بیٹی بھی اتنا میچور نہ تھی کہ وہ بہن کی بیماری سمجھ سکتی وہ تو ایک ماں۔۔۔۔۔۔ہی اولاد کی بیماری کا دکھ سمجھتی ہے ، ۔۔۔۔۔۔خیر رات کے آخری پہر میری ابنارمل بیٹی دنیا چھوڑ کر میرے پاس آ گئی ، میری بڑی بیٹی صبح چلائی کہ میری بہن رات سے نہیں بول رہی خیر دنیاوی دیکھاوا کیا گیا ،اسے بھی سفید کپڑے پہنا کر میرے پاس بھیج دیا گیا ،میری ابنارمل بیٹی نے اسی دن سفید کپڑے پہنے ، بڑی بیٹی بہت روئی اور چیخ چیخ کر کہتی رہی ماما۔۔۔۔نے یہ کپڑے پہنے ابھی تک واپس نہ آئی ۔۔۔۔میری پھول سی شہزادی نے آج سفید کپڑے پہن لئے ہیں تو آپ ماما۔۔۔۔کے پاس جا رہی ہیں تو ماما۔۔۔۔کو بولنا آپی بے بس تھی۔۔۔۔مجبور تھی میں آپ کے لئے کچھ نہ کر سکی مجھے معاف کر دینا، ماما۔۔۔۔۔سے بولنا ہم شرارتیں بھی نہیں کرتیں ہم کھانا بھی نہں مانگتی ہم چپ رہتی ہیں بابا ہمیں بہت مارتے ہیں ، ہم بابا۔۔۔۔کو دیکھ کر بہت سہم جاتی ہیں، ماما۔۔۔کو کہنا ماما۔۔۔آپ ہوتی تھیں میں ڈر کر آپ کے دوپٹے میں چھپ جاتی تھی ،مجھے اب یہ دنیا ویران لگتی ہے ، فارس۔۔۔۔۔جب میری بیٹیاں گھر سے باہر دوسرے بچوں کی مائیں کو ان کا خیال کرتے دیکھتی ہیں تو وہ گھر آ کر مجھے ڈھونڈتی ہیں میں ۔۔۔جب نہیں ہوتی وہ ایک دوسرے کے چہروں کی طرف دیکھ کر چپ کر جاتی ہیں، وہ سمجھ ہی نہیں پاتی ان کو کس کے پاس جانا ہے ،کوئی درد ہو تو کس سے کہنا ہے باپ تو بوجھ سمجھتا ہے۔۔۔۔۔! ایک دن باپ نے نئے کپڑے۔۔۔۔لے کر دئیے تو وہ بہت خوش تھیں میری قبر پر آ کر کہنے لگیں ، ماما۔۔،،،،دیکھو ہم نے نئے کپڑے پہنے ہیں کون زیادہ پیاری لگ رہی ہے بتائیں نا، میری نیلی آنکھوں والی بیٹی قبر کے پاس بیٹھ کر کہتی ہے ماما۔۔۔آ جاؤ یا ہمیں اپنے پاس لے جاؤ آپی رات کو بہت روتی ہے وہ گندی ۔۔۔۔والی پاپا کی بیوی آپی سے بہت کام کرواتی ہے، ایک دن مجھ سے بھی برتن دھلوائے پاپا کی بیوی نے ، مجھے بہت سردی لگ رہی تھی ، مجھے بخار ہو گیا تھا ،پھر آپی نے میرا سر دبایا تھا، ماما۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں اپنے پاس لے جاؤ نا میری شہزادی بیٹیاں بہت روتی ہیں ،بہت زیادہ مجھ سے ان کی تڑپ دیکھی نہیں جاتی، فارس۔۔۔۔سر میں نے خط اس لئے لکھا ہے تاکہ میں لوگوں کو بتاؤں بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں بیٹیوں کو سینے سے لگا لیا کرو اولاد تو اللہ پاک۔۔۔۔۔۔دیتا ہے نا، تو کسی کو بیٹی پیدا کرنے پر گنہگار نہ بنا دو،بیٹیاں تو شہزادی ہوتی ہیں بیٹیوں کا دکھ لکھوں گی تو شائد آج رات تڑپتی۔۔! میری بیٹیوں کو بہت سارا پیار اجازت چاہتی ہوں، فقط۔! آسیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جنت سے ،

متعلقہ خبریں