آؤ دیکھو آئینہ : یہ ہوتی ہے شرم اسے کہتے ہیں حیا ،پاکستانی حکومت اور اداروں کو شرما دینے والی شاندار خبر آگئی

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع دسمبر 29, 2016 | 06:51 صبح

لاہور(شیر سلطان ملک)  جاپان کے ایک  بڑے  کاروباری  ادارے  کے سربراہ  نے ایک  دفتری ملازمہ کی خودکشی کرنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ 24 سالہ متسوری تکاہاشی جو کہ سنہ 2015 میں ڈینٹسو میں کام کرتی تھی کو ایک ماہ میں 100 گھنٹوں سے زیادہ اوور ٹائم لگانا پڑا تھا۔متسوری تکا  نے گذشتہ برس دسمبر میں خودکشی کی تھی۔ انھوں نے اپنی والدہ کے نام ایک خط چھوڑا، جس پر لکھا تھا کہ 'چیزیں بہت م

شکل کیوں ہو گئی تھیں؟'

ستمبر میں جاپانی حکومت نے ملازمہ کی خودکشی کے بعد کہا تھا کہ ایسا کام زیادہ ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔

وہ دفتر میں کئی گھنٹے کام کرنے کے بعد اکثر صبح پانچ بجے گھر آیا کرتی تھیں۔

بدھ کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے پر کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ یہ ایسی صورتحال ہے جس کی کبھی بھی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ڈینٹسو کے سربراہ تڈاشی اشی کا کہنا ہے کہ وہ جنوری 2017 میں اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔کمپنی اب اپنے اوقات کار کے نظام کو  از سر نو مرتب کر رہی ہے ۔جاپانی  حکومت کا کہنا ہے کہ اس سال 2000 سے زیادہ ملازمین نے کام کا دباؤ ہونے کی وجہ سے خودکشی کی۔