جاسٹا "پر شدیدعالمی ردعمل ۔امریکہ کیلئے تباہ کن ہوگا“

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع اکتوبر 05, 2016 | 12:11 شام

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاکستان،ترکی سوڈان اور اہم شخصیات نے امریکا کے متنازعہ انسداد دہشت گردی قانون 'جاسٹا' پر صدارتی ویٹو کو کالعدم قرار دئیے جانے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔بیان میں یاد دلایا گیا ہے کہ "یورپ اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک اس بل پر اپنے خدشات کا اظہار کرچکے ہیں اور پاکستان پہلے بھی امریکا کے داخلی قانون کے بیرون ملک اطلاق پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرچکا ہے۔"جاسٹا ایکٹ‘ کے خلاف سعودی عرب کا مکمل ساتھ دیں گے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک بار پھر امریکا میں نائن الیون حملوں
کے متاثرین کو دہشت گردوں کے سہولت کار ممالک کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے منظور کردہ متنازعہ امریکی قانون ’جاسٹا‘ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جاسٹا کے خلاف ترک حکومت سعودی عرب کا بھرپور ساتھ دے گی۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ترجمان ابراہیم کالین نے انقرہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہاکہ ان کا ملک امریکا میں ’دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے‘ کے متنازع قانون ’جاسٹا‘ کی کھل کر مخالفت کرتا ہے کیونکہ اس قانون پر عمل درآمد سے دوسرے ممالک کی خود مختاری متاثر ہوسکتی ہے۔ترجمان نے کہا کہ صدر طیب ایردوان نے ’خبر ترک‘ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ ’جاسٹا‘ کے خلاف سعودی عرب کا ساتھ دیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ ان کا ملک جاسٹا کو دوسرے ملکوں کی خود مختاری کے خلاف سازش سمجھتا ہے۔ خیال رہے کہ امریکی کانگریس نے حکومتی دباواور فیصلوں کو نظرانداز کرتے ہوئے حال ہی میں ’جاسٹا‘ نامی ایک متنازع ایکٹ کی منظوری دی ہے۔ اس قانون کی منظوری کا مقصد دہشت گردی سے متاثرہ افراد بالخصوص گیارہ ستمبر 2001ءکو امریکا میں دہشت گردی کے واقعات سے متاثرہ خاندانوں کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف قانونی کارروائی کا حق دینا ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی امریکی شہری دہشت گردی کے سہولت کار قرار دے کر کسی دوسرے ملک کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کرسکتا ہے۔ سعودی عرب نے کھل کر اس قانون کی مذمت کی ہے۔ عالمی سطح پربھی اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ سعودی کابینہ کے اجلاس میں بھی جاسٹا کی منظوری پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد پریس کو جاری ایک بیان میں امریکی کانگریس کو متنازع قانون کی منظوری کے خوفناک نتائج سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔ سعودی وزیر اطلاعات وثقافت ڈاکٹر عادل الطریفی نے اجلاس کے بعد کہا کہ ریاض ’جاسٹا‘ کو ملکوں کی خود مختاری کے لیے تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں واضح کیا گیا ہے کہ ’جاسٹا ایکٹ‘ جیسے متنازعہ قوانین سے ملکوں کے باہمی تعلقات، خود مختاری اور سفارتی تحفظ متاثر ہوسکتے ہیں۔ امریکا کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ( سی آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن نے کہا ہے کہ انصاف بر خلاف اسپانسرز آف ٹیررازم ایکٹ ( جاسٹا) سے امریکا ہی سب سے زیادہ متاثر ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے خود مختاری کے اصول کو تج دیا گیا ہے۔آپ نے دنیا کو ایک ایسی راہ پر لگا دیا ہے جس پر چل کر روایتی تحفظ اور خود مختارانہ استثنا وغیرہ ختم ہو کر رہ جائیں گے۔ امریکاکے قانونی نظام کے تحت اس وقت ملکوں کو خود مختارانہ استثنا حاصل ہے۔اس قانونی اصول کے تحت ان ملکوں اور ان کے سفارت کاروں کے خلاف امریکا کا قانونی نظام کے تحت قانونی چارہ جوئی نہیں کی جاسکتی ہے لیکن امریکی کانگریس میں جاسٹا کی منظوری کے بعد اب یہ استثنیٰ ختم ہو کر رہ جائے گا۔ایک قانونی ماہر جیف ٹوبین نے کہا ''یہ تو دیوار میں ایک سوراخ ہے۔ پہلے روایتی طور پر ایک ملک سے تعلق رکھنے والے افراد کو دوسرے ممالک کی حکومتوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل نہیں تھا۔یہ تصور خود مختارانہ استثنا کہلاتا ہے اور یہ بین الاقوامی قانون میں ایک اہم اصول ہے''۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایران کے ساتھ مغرب کے جوہری معاہدے کی وجہ سے پہلے ہی تناو¿ پایا جا رہا تھا۔اب اس قانون سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید کشیدگی کا شکار ہوجائیں گے۔امریکی کانگریس میں منظور کردہ جاسٹا قانون کے تحت نائن الیون کے طیارہ حملوں میں ہلاک شدگان تین ہزار افراد کے لواحقین اور زخمی افراد کے خاندان سعودی عرب کی حکومت کے خلاف مالی ہرجانے کے حصول کے لیے قانونی چارہ جوئی کرسکیں گے اور اس کا جواز محض یہ ہے کہ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگان پر طیاروں سے حملے کرنے والے القاعدہ کے انیس ہائی جیکروں میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے خبردار کیا ہے کہ امریکی کانگریس میں حال ہی میں منظور کردہ انصاف دلا پانے برخلاف دہشت گردی قانون (جاسٹا) کے نفاذ سے اقوام کی خود مختاری خطرے میں پڑ جائے گی۔سوڈانی صدر کی جانب سے خرطوم میں جاری کردہ ایک بیان میں امریکی قانون سازوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس قانون پر عمل درآمد سے گریز کریں کیونکہ اس سے دہشت گردی کی کارروائیوں سے متاثرہ افراد کو ان حملوں سے مبینہ طور پر وابستہ کیے گئے ممالک کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوجائے گا۔صدر عمرالبشیر نے کہا:''یہ قانون ریاستی خود مختاری اور استثنا کے اصول کے منافی ہے اور اس سے عالمی سطح پر افراتفری کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ سوڈان جاسٹا پر صدر براک اوباما کے ویٹو کو کانگریس کی جانب سے منسوخ کیے جانے کا اقدام تسلیم نہیں کرتا اور امریکا ایسے خود مختار ملک کو خود مختار ریاستوں کے استثنا اور قوانین کا احترام کرنا چاہیے©"۔ درایں اثناء ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بھی جاسٹا کے بارے میں اپنے مو¿قف کا اعادہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس کو جلد سے جلد منسوخ کردیا جائے گا۔صدر ایردوآن نے ترک پارلیمان کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا ''امریکی کانگریس کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف نائن الیون حملوں کی پاداش میں قانونی چارہ جوئی کی اجازت دینا ایک بدقسمتی ہی کی بات ہے''۔