جرمنی: ڈنکرک سے حالیہ بغاوت

2022 ,دسمبر 23



تحریر: فضل حسین اعوان
ڈنکرک میں تین لاکھ پچاس ہزار برطانوی فوجی جرمن فوج کے گھیرے میں آ گئے تھے۔ ڈنکرک فرانسیسی ساحلی شہر ہے۔ یہ مئی 1940 ءدوسری جنگ عظیم کی شروعات کے دن تھے۔ساڑھے تین لاکھ فوجیوں کا نرغے میں آنا جرمنی کی بڑی کامیابی تھی۔ جرمن ٹینک دھڑا دھڑ ڈنکرک کی طرف بڑھ رہے تھے۔ فرانس بھی پریشان تھا۔ زمین سے ٹینک اوپر سے جرمن فائٹر بم گرا اور بارود برسارہے تھے۔ 45ہزار فرانسیسی فوجیوں نے برطانوی فوج اور حملہ آوروں کے مابین دیوار بننے کی کوشش کی۔ قریب تھا کہ سارے برطانوی فوجی گرفتار کر لئے جاتے کہ اچانک ہٹلر نے ٹینکوں کی پیش قدمی روک دی۔ یہ دو دن حصار میںآنے والی سپاہ کے لئے غنیمت ثابت ہوئے۔جنگ کو دوران تو دوگھنٹے بھی بہت ہوتے ہیں۔ ڈنکرک کے ساحل سے برطانیہ زیادہ دور نہیں۔ ڈنکرک کے قریب سمندر اتنا گہرا نہیں۔ وہاں بڑے جہاز شہر کے قریب لنگر انداز نہیں ہو سکتے۔ برطانیہ کی کوشش تھی کہ اگر 50ہزار فوجی بھی بچ جائیں تو بڑی کامیابی ہوگی۔ حکومت نے عوام سے مدد مانگی تو12سو چھوٹے جہاز اور بڑی چھوٹی کشتیاں انخلا کے لیے پہنچ گئیں۔اسے آپریشن ڈائنمو کا نام دیا گیا جو 26 مئی 1940ءکو شروع ہوکر چار جون تک جاری رہا۔ حیران کن طور پر تین لاکھ چالیس ہزار فوجیوں کو بچا لیا گیا۔ فرانس کے البتہ40ہزار فوجی برطانیوں کا دفاع کرتے مارے گئے یا گرفتار ہو گئے۔ برطانوی عوام جہازوں اور کشتیوں کے ساتھ نہ نکلتے تو اکثر فوجی بمباری میں مارے جاتے، سمندر میں ڈوب جاتے یا گرفتار ہو جاتے۔

Poland, Germany and the shadow of World War II – DW – 09/01/2019
65ءکی جنگ پاک فوج عوام کی مدد سے جیتی۔ فوج اور عوام کے مابین اعتماد کا اعتبار ایسا ہی رشتہ ہونا چاہیے۔مشرف دور میں فوجیوں سے کہا گیا کہ وہ یونیفارم میں شہر میں نہ جائیں اس وقت مسلم لیگ ن اپوزیشن میں تھی۔ مشرف کا کیا دھرا فوج کو بھگتنا پڑا، آئیے پھر ڈنکرک سے جرمنی چلتے ہیں:آخر کار ہٹلر اور اس کے ساتھ کھڑے ہونے والے ممالک جاپان اوراٹلی ہار گئے مگر ہٹلر نے جرمن قوم کو برترہونے کا احساس ، نیشنلزم کا درس دیا۔ بلکہ ان کے سر پراعلیٰ نسل ہونے کا بھوت سوار کرادیا تھا۔ وہ اب بھی سوار ہے۔ اس نظریے کے بطن سے چند روز قبل ہونیوالی بغاوت نے جنم لیا۔ 

The German 'Lightning War' Strategy Of WW2 | Imperial War Museums
حالیہ دنوں جرمنی میں وسیع الطبقاتی بغاوت ہوئی۔ یہ لوگ حکومت کا تختہ الٹ کر ایک سو پانچ سال پرانی بادشاہت بحال کرنا چاہتے تھے۔ باغیوں میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی، جج اور سیاستدان شامل تھے۔ بغاوت کے سرغنہ کے طور پر پرنس ہنرخ 13کا نام لیا جاتا ہے۔ اس کے حامیوں کی تعداد تو لاکھوں میں ہو گی تاہم جو سرگرم ہیں وہ پچیس ہزار بتائے جاتے ہیں۔ جرمنی میں بادشاہت 9نومبر1918ءمیں پہلی جنگ عظیم کے خاتمے سے دو روز قبل ختم کی گئی تھی۔ بادشاہت کے حامی آج بھی جرمنی کو عظیم بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ہٹلر بھی ایسا ہی چاہتا تھا اور سرگرداں بھی ہو گیا تھا مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ اسے شکست ہوئی مگر جرمنوں کے عظیم تر بننے کے نظریئے کو دبایا نہیں جا سکا۔ بغاوت پر آمادہ اُسی نظریئے کے قائل اور پیروکار لوگ ہیں۔ ان کی بغاوت کے پس منظر میں برتر قومیت کا نظریہ ہے۔ ہنرخ13نے ایک شیڈو حکومت بنائی ہوئی ہے۔ وہ اور اس کے حامی بہت سے قوانین کو نہیں مانتے۔ اب انہوں نے باقاعدہ ”کو“کرنے کی کوشش کی مگر گرفت میں آ گئے۔ فوجیوں اور کچھ ججوں سمیت 25بڑے بڑے لیڈر گرفتار ہوئے۔ اسلحہ برآمد ہوا۔اس کے لیے گیارہ جرمن ریاستوں اور دو یورپی ملکوں اٹلی اور آسٹریا میں چھاپے مار ے گئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی میں کسی بھی کارروائی کے لیے یہ سب سے بڑا آپریشن تھا۔ پولیس فورس اور سیکورٹی ایجنسیز کے تین ہزار سے زائد افراداس آپریشن میں شامل تھے۔

جرمنی میں 'بغاوت کی سازش' ناکام | RIM News
زندہ اور ترقی یافتہ قومیں بھی آزادی کو معاشی ترقی اورجدید سہولتوں آراستہ و پیراستہ زندگی پر ترجیح دیتی ہیں۔ جرمنی آج کے پاکستان سے 5 سو سال آگے ہے۔ خصوصی صنعتی ، ڈیجیٹیل ترقی اور ایک فلاحی ریاست کے طور پر جو آج عوام کو میسر ہے بحیثیت پاکستانی ہمارے خوابوں کی پرواز بھی شائد اتنی نہیں۔ جرمنی یورپ کے 46 مملکت میں سب سے ہر لحاظ میں نمبر ون ہے۔آٹھ کروڑ آبادی ہے۔دنیا کی کونسی آسائش ہے جو ان کو میسر نہیں مگران کے اندر قومیت کا بے پایاں جذبہ اور فاتحِ عالم بننے کا جنون ہے۔گو ہر جرمن ایسا نہیں سوچتا مگر ایسی سوچ رکھنے والے کم بھی نہیں ہیں۔ 
 دوسری جنگ عظیم کے بعد جب جرمن مکمل تباہ ہو گیا تھا اور اس کو دو حصوں میں بانٹ دیاگیا ایک مشرقی جرمنی اور دوسرا مغربی جرمنی ۔45 سال مشرقی اور مغربی جرمن دیوار برلن کو برداشت کرتے رہے اور جب سویت یونین میں گورباچوف کی وجہ سے انقلاب آیا تو جہاں وسطی ایشیائی ریاستیں ازبکستان، ترکمانستان ، آرمینیا، منگولیا اور آذربائیجان اور بیلارس یوکرائن اور ڈیڑھ درجن ریاستوں کو آزادی ملی وہیں دیوار برلن میں بھی شگاف پڑ گئے اور پھر ایک دن یہ دیوار عوامی طاقت سے مسمار کر دی گئی۔ مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی پھر سے ایک ہوگئے مگر خوشحال جرمنی کے عوام کے دلوں میں اب بھی سامراج کے خلاف نفرت کا لاوا پک کر جوالہ مکھی بن چکا ہے۔حالیہ بغاوت یا ” کو“ مستقبل میں کسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔

جرمنی-میں-حکومت-گرانے-کی-سازش-پر25-افراد-گرفتار
پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور ترکی ، اٹلی اور جاپان ایک طرف اور باقی یورپ اور ایشیا کی طاقتور قوتیں ایک طرف تھیں۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد امریکی سرکار نے برطانیہ کے ساتھ مل کر شکست کھانے والے ان چاروں ممالک پر جبری معاہدے مسلط کر دئیے کہ جاپان اور جرمنی 90 سال تک ان ملکوں میں امریکی فوجی اڈے رکھیں گے جب کہ ترکی کو سزا کے طور پر ٹکروں میں بانٹ دیا گیا جس کے نتیجے میں کئی ممالک بشمول جدید سعودیہ، متحدہ عرب امارات کویت ، اردن اور شام عراق وجود میں آئے اور عثمانیہ سلطنت کا خاتمہ ہوا اور جس معاہدے کے مطابق چند دن کے بعد نئے آنے والے سال 2023ءمیں اس معاہدے کی مدت پوری ہورہی ہے۔وہاں بھی ترک قومیت پسند جنونی ہیں وہ بھی اپنی اسی شان و شکوہ کی طرف لوٹ رہے ہیں جو ان کا طرہ  امتیاز تھی اور ان کی جہانِ عالم پر ایک دھاک تھی۔وہ پرامن طور پر اپنا کھویا مقام حاصل کرلیں گے مگر جرمن میں چونکہ ایسا کوئی امکان نہیں لہٰذا وہاں اپنے مقصد کے حصول تک بغاوتیں سر اٹھاتی رہیں گی۔آپ نیشنلزم کو وقتی طور پر دبا سکتے ہیں کُچل نہیں سکتے۔

German Government and Politics - German Culture

متعلقہ خبریں