مشہور زمانہ استاد شاعر جس نے اسلام کا وہ دیا روشن کیا جو آج بھی پوری آب وتاب سے روشن ہے

2017 ,نومبر 6



حضرت مولانا اشرف تھانوی حکیم الامت تھے۔ آپ کو ملکہ حاصل تھا کہ جس پر نگاہ ڈالتے وہ آپ کا گرویدہ ہوجاتا۔ ان کی حکمت و دانائی اور فہم وتدبر کے باعث سینکڑوں گم گشتگانِ راہ کومنزل نصیب ہوئی۔آپ کے علم ظاہر باطن کے کئی معرکے زبان زدعام ہیںا ور آپؒ کا جلایا ہوادیا پوری آب وتاب سے روشن ہے۔آپ نے گمراہوں کو سدھارا اور بلا نوشوں کوصوم وصلوة کا پابند بنا دیا ۔اس حوالہ سے جگر مراد آبادی جیسے مشہور زمانہ استاد شاعر کی کایا آپ کی نگاہ سے پلٹ گئی تھی۔قائد اعظم کی مذہبی تربیت کا بھی آپ ؒ نے اہتمام کیا ،علامہ اقبال حضرت تھانویؒ کے بے حد عقیدت مند تھے اور دونوں شخصیات کا باہمی روحانی تعلق تھا ۔ 
جگر مرادآبادی اردو دنیا کابہت بڑا نام ہے ،ایک ہر دلعزیز شاعرکے طور پر بے پناہ مقبول انسان تھے ۔ انھیں اردو دنیا میں رئیس المتغزلین یا سلطانِ تغزل کے لقب سے یاد کیاجاتاتھا۔ آج بھی ان کے اشعار ذوق وشوق کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں۔ جتنی شہرت ان کی غزلوں کو حاصل تھی، اتنی ہی یا اس سے کچھ کم و بیش ان کی شراب نوشی کو حاصل تھی۔ ہر وقت نشے میں رہتے تھے۔ تاہم یہ وصف بھی ان میں تھا کہ خواہ وہ کتنی بھی پیئے ہوئے ہوں، کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے تھے۔ علما اور بزرگوں کا ہرحال میں اور بے حد احترام کرتے تھے۔ جگرصاحب ایک روز مظفرنگر یا سہارن پور کے کسی مشاعرے میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔ اسٹیشن پر ان کی ملاقات حضرت مولانا تھانویؒ کے مشہور خلیفہ خواجہ عزیزالحسن مجذوبؒ سے ہوگئی۔خواجہ صاحب بھی بلند پایہ شاعر تھے۔ دونوں بڑے تپاک سے ملے۔ پوچھا”میاں کہاں جارہے ہو؟“
حضرت مجذوب نے بتایا” تھانہ بھون جارہاہوں، حضرتِ مرشد سے ملاقات کے لیے“ جگر صاحب بے چین ہوگئے اور کہا ‘’میری بھی دیرینہ خواہش ہے کہ میں بھی حضرت مولانا کی خدمت میں حاضری دوں۔ لیکن کیا کروں، اپنی بلانوشی کی وجہ سے ہمت نہیں کرپاتا“۔
مجذوب صاحب نے فرمایا” ہاں یہ بات تو درست ہے۔ حضرت کے ہاں اس سلسلے میں بڑی سختی ہے۔ اس حال میں کبھی مت آجانا“ مجذوب صاحب نے حضرت مولانا تھانوی کے سامنے جگر صاحب سے ہونے والی گفتگو بیانکی۔ مولاناتھانوی مجذوب صاحب پر بہت ناراض ہوئے اور کہا”تم نے انھیں آنے سے کیوں روک دیا۔ یہ تو درست ہے کہ میرے ہاں سختی و پابندی زیادہ ہے۔ لیکن یہ پابندیاں یا سختیاں شخصیتوں کو دیکھ کر عائد ہوتی ہیں۔ جگر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ تمھیںانھیں آنے دینا چاہیے تھا۔ کیا عجب کہ یہاں آنا ہی ان کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتا“
کچھ دنوں کے بعد پھر اسی جگہ پر جگر اور مجذوب کی ملاقات ہوئی۔ علیک سلیک کے بعد مجذوب صاحب نے بتایا” میں نے آپ سے اس دن کی ملاقات کا تذکرہ حضرت سے کیاتھا“ جگر صاحب نے نہایت اضطراب اور بے چینی کے ساتھ حضرت تھانوی کا تاثر معلوم کرنا چاہا۔ مجذوب صاحب نے بتایا” حضرت مجھ پر بہت ناراض ہوئے اور فرمایاکہ تمہیں انھیں آنے دینا چاہیے تھا۔ تم نے یہاں کی سختی اور پابندی کا تذکرہ کرکے ناحق انھیں روک دیا۔ جگر صاحب اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں“
یہ سننے کے بعد جگر مرادآبادی کہیں اور جانے کا ارادہ ملتوی کرکے مجذوب صاحب کے ہم راہ تھانہ بھون کے لیے چل پڑے۔ قصبے میں پہنچ کر کسی مسجد کے غسل خانے میں غسل کیااور خانقاہِ اشرفی میں حاضر ہوئے۔ حضرت تھانوی بڑے تپاک سے ملے۔ کچھ دیر گفتگو کے بعد ان سے کلام کی فرمایش کی۔ جگرصاحب نے وہ غزل سب سے پہلے اسی مجلس میں پڑھی تھی، جس کامطلع یہ ہے:
جان کر من جملہ ارباب مے خانہ مجھے
مدّتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ مجھے
جب یہ شعر پڑھاتو جگر کی ہچکیاں بندھ گئیں:
ننگِ مے خانہ تھا میں، ساقی نے یہ کیاکردیا
پینے والے کہہ اٹھے یا پیرِ مے خانہ مجھے
جگرنے دو تین روزوہیں قیام کیا۔ اس کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل گئی ۔جس بغل میں وہ شراب کی بوتل دابے ہوتے تھے پھر ہمیشہ ایک مصلیٰ اس بغل میں نظر آنے لگا۔

متعلقہ خبریں