ملازمت اور ہمارا مسئلہ

2017 ,اکتوبر 25



سوال یہ نہیں کہ کونسا شعبہ باقی شعبوں سے بہتر ہے ، سوال یہ ہے کہ آپ کا مزاج کس شعبہ سے میل کھاتا ہے ۔ ملازمت کے حوالے سے ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم بیوی اور ملازمت کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں یعنی اپنی والی کی خامیاں اور مسائل جبکہ کسی دوسرے کی خوبیاں اور سہولیات وغیرہ ۔ ہمیں لگتا ہے ہم جو ملازمت کر رہے ہیں وہ انتہائی مسائل اور کم تنخواہ کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہو سکتی جبکہ ہمارا دوست جو ملازمت کر رہا ہے وہ انتہائی بہتر ہے ۔ پریس کلب میں ایسے کئی مکالمہ ہو چکے ہیں ۔ یہاں ڈاکٹر اور وکیل صحافی بننا چاہتے ہیں اور صحافی اب وکیل بن کر کروڑوں کے کیس لڑنا چاہتے ہیں ۔ مجھے کئی ایسے بیوروکریٹ ملے جو اپنی ملازمت سے تنگ ہیں اور کالم نگار یا صحافی بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ سر! کہانی صرف اتنی سی ہے کہ ہر شعبہ کا ایک پردہ ہوتا ہے ، مسائل دفاتر کے اندر عروج پر ہوتے ہیں لیکن دفاتر کے باہر کا چہرہ کچھ اور ہوتا ہے ۔ تھانیدار کی طاقت کی مثالیں دینے والوں کو علم نہیں کہ تھانیدار کی حقیقی نیند حرام ہو چکی ہے ، آدھی رات کو بھی کوئی ڈکیتی یا قتل ہو ۔ بیوروکریٹ کے سر پر او ایس ڈی یا ٹرانسفر کی تلوار لٹکتی رہتی ہے ، انہین لگتا ہے ہر صحافی حامد میر ہے جو لاکھوں روپے لے رہا ہے جبکہ وہ مقابلہ کا امتحان پاس کرنے کے باوجود بھی ان سے کئی گنا کم تنخواہ لیتے ہیں ۔ اینکرز نیلی بتی والی گاڑی کو دیکھ کر ۤہیں بھرتے ہیں اور نیلی بتی والی گاڑی میں بیٹھا آفیسر اینکرز کو تقریبات سے خطاب کرتے دیکھ کر آہیں بھرتا ہے ۔ میرے ایک بنکار دوست فرحت عباس شاہ کے کلاس فیلو تھے ۔ وہ بہترین سیلری کے باوجود آہیں بھرا کرتے تھے کہ فرحت عباس کہاں سے کہاں چلا گیا اور مین ابھی تک بس بنک مینیجر ہی ہوں۔ اب یہ میں ہی جانتا تھا کہ ان دنوں فرحت عباس شاہ کس طرح بچوں کو پڑھانے کے چکر میں ایک چینل پر ماسٹر جی بن کر اپنی ذات پر جگتیں لگوانے کے معمولی سے پیسے لے رہے تھے ۔ سر آپ کسی بھی شعبہ میں چلے جائین اس وقت تک مطمئن نہیں ہو سکتے جب تک آپ کا مزاج اس شعبے سے میل نہیں کھاتا ۔ آپ کا شعبہ آپ کی ہابی سے جڑا ہو گا تبھی ۤپ پرسکون رہ سکتے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر ہمک سب مڈل کلاسیئے ہیں لیکن ایک دوسرے پر جھوٹی امارت کا رعب یا برابری کے چکر میں اپنے دائرے سے باہر نکل کر اگلے دائرے میں چھلانگ لگانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر بار درمیان میں کہیں منہ کے بل گر جاتے ہیں ۔ میرے والد صاحب سرکاری آفیسر تھے ، اب ریٹائرڈ لائف گزار رہے ہیں تو بھی اتنے ہی مطمئن ہیں ۔ جس دن ریٹائرڈ ہوئے اسی شام گاڑی چھوڑ کر پہلے کی طرح مسکراتے ہوئے موٹر سائیکل پر سفر کرنے لگے تھے ۔ یہ موٹر سائیکل انہوں نے تب لی تھی جب میں پیدا ہوا تھا ، پھر سرکاری گاڑی پر سفر کرنے لگے تو موٹرسائیکل ہمارے گھر رہی اور ریٹائرمنٹ کی شام وہ دوبارہ اسی موٹرسائیکل پر تھے ۔ ایک طویل عرصہ بعد موٹر سائیکل پر سفر کرنے سے صرف وہی مطمئن تھے ہم سب کے دل پر کیا گزری یہ ہم جانتے ہیں لہذا فوری طور پر گھر ایک نئی گاڑی لائی گئی اور ان کے موٹر سائیکل پر پابندی لگائی گئی ۔ میں نے اس وقت ان کے چہرے پر فخر کا احساس دیکھا جب ایک فنکشن پر ان کے دوست بیوروکریٹ نے کہا : چلیں شاہ صاحب ، کھانا شروع ہو گیا ہے تو ابا جی کہنے لگے : ابھی تک ایسا نہیں ہوا کہ میرے بچے ہمراہ ہوں اور مجھے پلیٹ لے کر اپنی جگہ سے اٹھنا پڑا ہو ، اتنی دیر میں تین مختلف پلیٹیں کھانے کی ان کی میز تک پہنچ چکی تھٰں ۔ ہم کھانا کھانے لگے تو ابا جی نے اپنے دوست سے کہا : سر میں نے زندگی میں بس یہی کمایا ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد سکون کی زندگی گزار رہا ہوں ، بیوروکریٹ دوست جو ابھی ریٹائرڈ نہیں ہوئے تھے بے ساختہ اپنے بچے کو برا بھلا کہتے ہوئے کہنے لگے : میں کما کما کر مر گیا ہوں لیکن انہین اپنے باپ کا احساس تک نہیں ۔۔ بہرحال ابا جی سے یہی سیکھا ہے کہ جو اوقات ہو اس سے باہر نہین جانا چاہئے ۔ سائیکل کے مالک ہو تو موٹر سائیکل والے کو دیکھ کر شرمندہ نہیں ہونا چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب میری جیب میں سرف 20 روپے ہوتے تھے تب بھی میں مطمئن تھا اور پریس کلب میں روز 20 روپے کے پکوڑوں کی پلیٹ پر دوستوں کے ساتھ قہقہے بکھیرا کرتا تھا ۔ جب رب نے مزید دیا تو کیفے موکا میں بھی محفلیں جمیں ، فائیو سٹار کی اوقات ملی تو وہاں بھی بیٹھنے لگے، آج بھی میں اپنی اوقات سے باہر نہیں نکلا ۔ پرانے دوستوں کے ساتھ پروگرام فائنل کرتا ہوں ، ٹائی اتار کر پینٹ کی جیب میں ٹھونستا ہوں ، شرٹ کے کف الٹتا ہوں ، آستین فولڈ کرتا ہوں اور کسی چائے کانے پر بیٹھ جاتا ہوں ۔ مجھے آج بھی پرانی انار کلی میں عباسی کی چائے اور پراٹھے ، مزنگ کے پراٹھے ، بورڈ ایگزامی نیشن سینٹر کے باہر فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کھائے گئے چاچے کے بیسن والے نان، جیل روڈ پر سڑک کنارے ایرانی قہوہ نوائے وقت کے پاس نیامت اور گونگے کی چائے ، اچھرا میں خان بابا اور شانگلہ ٹی سٹال کی چائے پی سی ہوٹل کی چائے سے زیادہ اچھی لگتی ہے۔ سر! خوشیوں یا ملازمت کا تعلق پیسوں سے نہیں ہوتا ، یہ درست ہے کہ پیسے زندگی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر ملازمت کے اپنے مسائل ہیں ۔ آپ جہاں اوقات سے باہر نکلیں گے وہاں مسائل بڑھیں گے ورنہ کبھی دیکھئے گا سب سے زیادہ مطمئن وہ فقیر نظر اتا ہے جس کا لباس پھٹا ہوا اوراگلے وقت کی روٹی کی اسے خبر نہیں ہوتی ۔ بس جیسا رحجان ہو ویسی ملازمت تلاش کیجئے اور جس بھی شعبہ میں جائیں اس کی کمیونٹی کے ساتھ خوش رہنا سیکھ لیں۔

(سید بدر سعید)

متعلقہ خبریں