پانامہ کیس،جسٹس افتخار نے عدلیہ کو گائیڈ لائن دیدی؟

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع نومبر 18, 2016 | 17:59 شام

 

 

اسلام آباد(مانیٹرنگ): سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ گیلانی اور بھٹو جب سپریم کورٹ جاسکتے ہیں تو نواز شریف کو بھی جانا پڑے گا،پاناما مقدمہ عمران خان کا نہیں 20 کروڑ عوام کا ہے ، فیصلہ 2006ء کی ٹرسٹ ڈیڈ پر نہیں 80 اور90 میں کی گئی ٹرانزیکشن کی بنیاد پر ہوگا۔ یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں میزبان ارشد شریف کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ (یہ پروگرام آج رات 10 بجے نشر کیا جائےگا)
انہو

ں نے کہا کہ یہ نواز شریف کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثابت کریں کہ وہ پاناما لیکس میں ملوث نہیں کیوں کہ وہ وزیراعظم بھی ہیں اور رکن قومی اسمبلی بھی، نواز شریف حوصلہ کریں یہ کیس تو ابھی شروع ہوا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو طلب کرنا عدالت کی صوابدید پر ہے، یوسف رضا گیلانی ، پرویز اشرف اور ذوالفقار علی بھٹو عدالت میں پیش ہوسکتے ہیں تو نواز شریف کو بھی پیش ہونا پڑے گا، اس بار حالات مضبوط ہیں، اب سپریم کورٹ بہت مضبوط ہے، نواز شریف اب سپریم کورٹ پر حملہ نہیں کرسکتے، فیصلہ میرٹ پر ہوگا۔

افتخار چوہدری نے کہا کہ مال مسروقہ برآمد ہوچکا ہے جو کہ نیلسن اور نیسکول نامی کمپنیوں کے نام سے آپ کے پاس ہے، جب فلیٹس خریدے گئے تو بچے چھوٹے تھے، آپ کو پتا ہے یہ ٹرانزیکشن 93 اور96 کے درمیان ہوئیں، آپ کو پتا ہے جن صاحب کے نام یہ حدیبیہ پیپرز مل خریدی گئیں وہ اس وقت انتہائی چھوٹے تھے۔