لیڈی کانسٹیبل پر ہاتھ اٹھانے والا مجرم آزاد جب کی انصاف کی طلبگار لیڈی کانسٹیبل بطور ملزمہ عدالت میں پیش لیکن کیوں؟ حقیقت جان کر آپ کو اپنی ہی عدالتی نظام پر افسوس ہو گا

2019 ,ستمبر 15



لاہور(شفق رپورٹ): فیروزوالہ کچہری میں ڈیوٹی پر موجود لیڈی کانسٹیبل کو وکیل احمد مختار نے بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تھپٹر مارا اور گالی گلوچ کی جب کہ پولیس نے اپنی ہی ساتھی کانسٹیبل سے ہاتھ کر دیا۔ ڈی پی او شیخوپورہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھالیکن سب انسپکٹر نے اندراج مقدمہ کے وقت غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا اور وکیل کا نام احمد مختار کے بجائے احمد افتخار لکھ دیا۔ جس کی وجہ سے عدالت کی طرف سے اس وکیل پر کوئی مقدمہ درج نہ ہوا بلکہ اسے رہا کر دیا گیا۔ جس پر  فائزہ نے کہا کہ میں نوکری عوام کی خدمت کرنے کے لیے کر رہی تھی لیکن مجھے ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، میں کمزور عورت ہوں جو میرا جرم ہے۔ اس مافیا کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔  سمجھ نہیں آرہی کہ کہاں جاؤں یا خودکشی کرلوں۔ ریاست مدینہ پاکستان میں مجھے انصاف ملتا نظر نہیں آرہا، اس لئے محکمہ پولیس سے استعفی دے رہی ہوں۔ اور پھر عدالت اس فیصلہ کی وجہ سے فائزہ لیڈی کانسٹیبل نے اپنی نوکری سے استعفیٰ دے دیا۔

دوسری جانب ‏جس وکیل نے لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارا اس کو عدالت نے رہا کر دیا اب اس وکیل نے لیڈی کانسٹیبل پر استغاثہ عدالت میں دائر کر دیا ہے اور مزے کی بات عدالت نے اس استغاثہ کو قبول کرتے ہوے فائزہ کو بطور ملزمہ عدالت میں طلب کر لیا ہے،
‏‎اب ہوگا یہ کہ وہاں چالیس پچاس وکیل اکٹھے ہو کر عدالت میں جایا کریں گے اور وہاں وہ اکیلی لڑکی ہو گی اور وہاں موجود وکیلوں کی رنگ برنگی آوازیں۔ اس لڑکی کے کردار پر تو پہلے ہی کافی الزام لگا چکے ہیں اب اس کو اور زیادہ تنگ کریں گے۔
عدالت ایک ظالم کو سزا تو نہ دے سکی بلکہ ایک مدعی کو ملزم بنا دیا۔ تو یہ ہے ہمارا عدالتی نظام انصاف اور انصاف دلانے والا وکیل مافیا۔ کمال ہے ۔ یعنی انصاف چاہے تو قیامت کا انتظار کریں اور خدا کی عدالت سے انصاف کی توقع کریں۔ کیونکہ دنیا کی کوئی عدالت انصاف نہیں دے گی بلکہ انساف کا مطالبہ کرنے والے کو مجرم بنا کر کٹہرے میں کھڑا کر دے دی جیسے اس لیڈی کانسٹیبل کے ساتھ ہوا۔

متعلقہ خبریں