کراچی کے تاجر مصنوعی زندگی گزارنے پر اڑگئے،وزیر اعلیٰ کے احکامات ماننے سے انکار

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع اکتوبر 18, 2016 | 15:05 شام

 

کراچی(ویب ڈیسک)صوبہ سندھ سے فطری زندگی گزارنے کی ایک امید روشن ہوئی تھی مگر کراچی کے تاجر خم ٹھونک کے وزیراعلیٰ کے پروگرام کو سبوتاژ کرنے کو نکل پڑے ہیں۔ سندھ تاجر اتحاد نے کہا ہے کہ اگر کاروباری اور تجارتی مراکز کو شام 7 بجے بند کرنے کے حوالے سے کوئی سازش کی گئی تو پورے سندھ میں احتجاج کیا جائے گا اور تاحکم ثانی کاروبار بند کردیا جائے گا۔سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل احمد پراچہ کی صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا جس میں کراچی سمیت صوبے بھر میں تمام کاروباری و تجارتی مراکز اور د

کانیں معمول کے اوقات میں ہی کھولنے اور بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں سندھ بھر کے کاروباری اور تجارتی مراکز کو شام 7.00 بجے بند کرنے کے وزیر اعلیٰ سندھ کے احکامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ سندھ حکومت یا وزیر اعلیٰ کے شاہی احکامات کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا اور تمام کاروباری و تجارتی مراکز اور دکانیں اپنے مقررہ وقت پر ہی بند کیے جائیں گی۔تاجر برداری نے وزیر اعلیٰ کے فیصلے پر تشیویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کوکوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل تاجروں کی نمائندہ جماعت سندھ تاجر اتحاد کو مکمل اعتماد میں لینا چاہیے۔اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ تمام کاروباری اور تجارتی مراکز کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے اور اہلکاروں کو تاجروں کی مشاورت سے مارکیٹوں میں تعینات کیا جائے جبکہ محکمہ محنت کو فعال کیا جائے اور بازاروں میں بے جا ٹریفک ، تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔ تاجر اتحاد نے دو ٹوک مو¿قف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر سندھ حکومت نے ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ تو اور بازاروں کو 7 بجے ہی بند کرنے کی سازش کی گئی تو تاجر برادی کراچی سے کشمور تک بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی اور تمام مراکز کو تاحکم ثانی بند رکھا جائے گا۔یاد رہے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کاروباری مراکز کو صبح جلدی کھولنے اور شام 7 بجے بند کرنے کے احکامات دیے تھے جن پر عملدرآمد یکم نومبر سے کیا جائے گا۔دوسری جانب وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے مراد علی شاہ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”سندھ حکومت نے بازار شام کو جلد بند کرنے کے حوالے سے اچھا فیصلہ کیا ہے دیگر صوبوں کو بھی اس سے سیکھنا چاہیے کیونکہ اس عمل سے لوڈشیڈنگ پر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔