کریمہ بلوچ قتل؟

2020 ,دسمبر 26



کریمہ بلوچ کا تعلق ایسے لوگوں سے ہے جو بلوچستان کے حقوق کی بات کرتے ہیں ، صوبے کی محرومیوں کا تذکرہ کرتے ہیں، محرومیاں دور کرنے اور حقوق کے حصول کی جدوجہد پر یقین رکھتے اور جدوجہد کرتے بھی ہیں۔ اس سے کسی کو اختلاف نہیں۔ اس کا کسی کو بھی ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔ایسا ہوتا ہے، اختلافی نکتہ نظر سنا جاتا ہے۔ اختلافی نکتہ نظر سے آگے بہت آگے الزام، دشنام اور بہتان بھی برداشت کرلیا جاتا ہے۔

کریمہ بلوچ کی رواں ہفتے کینیڈا میں موت ہوگئی۔ اس پر بھارتی میڈیا نے کہرام برپا کررکھا ہے۔ کریمہ کے ساتھی الزامات کی بھرمار کئے ہوئے ہیں۔کوئٹہ میں مظاہرہ ہواہے۔ کریمہ کی موت کو قتل قرار دیا گیا اور الزام پاک فوج پر لگایا جارہا ہے۔ اس لئے کہ کریمہ بلوچ پاک فوج کیخلاف وہی کچھ کہتی تھی جو پی ٹی ایم کے علی وزیر نے کراچی میں تقریر کرتے ہوئے کہا اسکی پاداش میں بلاول بھٹو کی سندھ پولیس نے اسے گرفتار کرلیا ہے۔ علی وزیر کے ساتھ اس تحریک کے سربراہ منظور پشین اور محسن داوڑ بھی تھے۔یہ دونوں" سورمے" گرفتاری کے ڈر سے کہیں دُبکے ہوئے ہیں۔ علی وزیر نے اپنے حامیوں سے کہا فوج پر حملے کرو، وردیاں پھاڑ دو، پتلونیں اتار دو،گاڑیوں پر پتھر برسائو ۔انہیں افغان سرحد لگی باڑ کی تاروں سے پھانسی دیں گے اور بھی بہت کچھ خرافات اور گالیاںبکتا رہا ۔اس نے شہہ دی کہ کوئٹہ اور لاہور کے جلسے میں فوج کیخلاف جو کچھ کہا گیا اس پر کوئی نہیں بولا اس لئے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

کریمہ کے بھارتی ٹی وی چینلز کو پاکستان اور فوج کیخلاف اسی لب ولہجے اور زبان درازی پر مبنی دیئے گئے انٹرویوز موجود ہیں۔ وہ کینیڈا میں 2015ء سے پناہ لئے ہوئے تھی۔ کئی تقریبات سے اس نے خطابات کئے اور ہر ایک میں پہلے سے بڑھ کر پاک فوج اور پاکستان کو ہدف تنقید بنایا۔ہدف تنقید لفظ ہلکا ہے۔ زہر اگلا کہا جائے تو بھی پوری طرح سے مفہوم ادا نہیں ہوتا۔

کریمہ کی لاش ٹورنٹو میں ڈائون ٹائون کے پانی کے تالاب سے ملی۔ کچھ لوگوں کی طرف سے اس کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا۔ کچھ نے دل کا دورہ وجہ بتائی اور کچھ اسے قتل قرار دے رہے ہیں۔ خودکشی کی نفی کرنے والوں میں کریمہ کے ایک مرد دوست لطیف جوہر کا کہنا ہے کہ کریم ڈیپریشن کا شکار نہیں تھی،مگر یہ ضرور تھا کہ ان کے معالج نے انہیں نیند کی گولیاں کھانے کی ہدایت کی تھی۔

کریمہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی ایجنٹ تھی۔ سردست اس کو مفروضہ سمجھ لیا جائے۔ یہ امر تو شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ وہ بھارت کے پاکستان کے خلاف عزائم کی بجا آوری اورآبیاری کر رہی تھی۔ کہا جاتاہے اس کو اس سے روکنے کیلئے آئی ایس آئی نے قتل کرا دیا۔ آج بھارتی میڈیا ، اس کے حامیوں اور را کے پروردگان نے پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔کریمہ کو کہیں اسی مقصد کیلئے تو قتل نہیں کیا گیا؟ ایسا ہوا ہے اور یقینا ایسا ہی ہوا ہے بشرطیکہ اسے قتل کرایا گیا ہے تو۔ ’’را‘‘ کے پاکستان پر برسنے والے ایجنٹ اپنی خیر منائیں۔وہ پاکستان میں ہیں یا دنیا میں کہیں بھی ہیں۔ پاک فوج اور پاکستان کے خلاف جتنا زیادہ کوئی بولے گا،بھارت کیلئے اس کی موت پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے اتنی ہی سود مند ہوگی۔

37 سالہ کریمہ بلوچ کی موت کے حوالے سے پاکستانی سفارتخانے اور قونصلیٹ جنرل نے کینیڈین حکام سے رابطہ کیا تو اس کا جواب دیا گیا۔" کریمہ محراب بلوچ کی ہلاکت کی تفتیش غیر مجرمانہ موت کے طور پر کی جا رہی ہے۔ اس وقوعے میں مشتبہ حالات بظاہر دکھائی نہیں دے رہے"۔ اُدھرٹورنٹوپولیس کی خاتون ترجمان کیرولین ڈی کلوئٹ کے مطابق کریمہ اکثر و بیشتر ٹورانٹو کے ڈاؤن ٹاؤن میں واقع واٹر فرنٹ تک جایا کرتی تھی" چند ماہ قبل سویڈن میں کریمہ بلوچ کے نظریات کے حامی نوجوان صحافی ساجدبلوچ کی بھی پراسرار موت ہوگئی۔ اس کی لاش دریا کے کنارے سے ملی۔ اس کی موت کو بھی قتل قرار دیکر فوج کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ سویڈن حکام کی طرف سے کہا گیا کہ ایسے شواہد نہیں ملے جس سے ساجد بلوچ کی موت کو مجرمانہ سرگرمی کا نتیجہ قرار دیاجائے۔ اس کے ساتھ ہی مزید تحقیقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیامگر پاک فوج کیخلاف زبانیں انگارے برسا رہی ہیں۔پاکستان میں کریمہ بلوچ اور ساجد بلوچ سے زیادہ محسن داوڑ،علی وزیر‘ منظور پشین اور ان جیسے کئی بدزبان پاکستان اور فوج کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ آئی ایس آئی کینیڈا اور سویڈن کی نسبت آسانی سے ان کی خبر لے سکتی ہے مگر حوصلے‘ تحمل اور برداشت سے کام لیا جا رہا ہے۔

 ڈس انفولیب نے بھارت کے سیاہ کرتوت اور اس کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے رکھ دیا ۔ اس کے کئی پاکستانی نمک خواروں کی پہچان ہوگئی ہے۔ وہ اب مودی سرکار کیلئے ناکارہ ہوگئے ہیں۔ان کے شاہانہ اخراجات بند ہوگئے۔ سمجھ لیجئے ان میں سے کئی بھکاری ہو جائیں گے۔وہ را‘ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کریں گے۔ دن توسب کے گنے جا چکے ہیں۔ ان کی باری پہلے آجائے گی۔ کریمہ بلوچ بھی کہیں انہی راہوںپرتو نہیں ماری گئی۔ اس کے قریبی لوگوں سے سوال تو بنتا ہے۔ ’’بے غیرتو! لڑکی کو ڈائون ٹائون کے تالاب کے واٹر فرنٹ پر اکیلی کو کیوں جانے دیا؟‘‘

صلاح الدین ایوبی نے کہا تھا۔" دشمن سے پہلے غداروں کو ماردو"۔غدار ہمیشہ موت سے پہلے بے موت مارا جاتا ہے ،اپنوں کے ہاتھوں مرے یا غیروں کے ۔یہ غیر اسے اپنے نظر آتے ہیں۔اداروں کو غداروں کے لئے نرمی کی روش ، ناں چھیڑ ملنگا نوں اور جھولے لال والا رویہ ترک کرنا ہوگا۔حکومت اور اداروںپر تنقید غداری نہیں،قطعی نہیں۔مگر ایک بھی لفظ جو ریاست کی سلامتی اور سا لمیت کو زک پہنچائے پاک فوج کو بدنام کرنے کیلئے بولا جائے جس سے پاکستان کے عالمی پابندیوں کی زد میں آنے کا خطرہ ہو لوگ اسے غداری کے زمرے میں لاتے ہیں۔کورونا کے پھیلائو اور ریکوڈیک کیس میں پاکستان کو ہونے والے جرمانے پر جو لوگ خوشیاں منارہے ہیں وہ اپنی پاکستان سے وفاداری کا سوفٹ ویئر درست کریں۔

متعلقہ خبریں