بھارت کا یوم آزادی: کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا

2020 ,اگست 15



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک): بھارت کے یوم آزادی پر دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے،  دنیا بھر میں مقیم کشمیری باشندوں نے آج یوم سیاہ منایا۔ کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری باشندوں نے 15 اگست بھارت کے یوم آزادی پر یوم سیاہ منایا جس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ  مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی جانب سے مسلسل تسلط کی جانب مبذول کروانا تھا۔ اس سلسلے میں پاکستان اور آزاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرے کیے گئے جب کہ مقبوضہ کشمیر میں سوگ منایا گیا اور ہڑتال کی گئی۔ اس ضمن میں حریت رہنما یاسمین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے اپنے پیغام میں کہا کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا حق نہیں ملتا، ہندوستان کو آزادی کے جشن منانے کا کوئی حق نہیں، بھارت نے  کشمیریوں سے ان کے تمام حقوق چھین لیے ہیں، تم نے کشمیر کو کشمیریوں کا قبرستان بنالیا ہے، ہندوستانیوں یہ بات مت بھولنا تمہارے جشن تلے کشمیریوں کا خون ہے۔

وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے بھارتی یوم آزادی پر اپنے پیغام میں کہا کہ ایل او سی کے دونوں اطراف کے کشمیری بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں ، کشمیری پوری دنیا کے سامنے بھارتی نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم کو بے نقاب کررہے ہیں، لاکھوں کشمیریوں کے حقوق سلب کر کے بھارت کس منہ سے یوم آزادی منا رہا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بھارت دنیا میں ہندو انتہا پسندی کی علامت بن چکا، نرندر مودی آر ایس ایس کے ہندو انہتا پسند ایجنڈے پر گامزن ہے، بھارت پچھلی سات دہایوں سے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے، بھارت میں ہندو انتہا پسندی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے، بھارت میں آئے روز مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں غیر جانب دار اداروں اور میڈیا کا داخلہ بند کر رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں