عمران واقعی کشمیر کے سفیر

2019 ,ستمبر 3



نئے قمری سال کا آغاز ہوچکاجو مسلمہ امہ کیلئے یکجہتی یگانگت اتفاق و اتحاد کے درس کی حیثیت رکھتا ہے ہے۔آج کئی خطوں میں مسلمان زیر عتاب ہیں۔مسلمان کوئی راندۂ درگاہ اور بے بس قوم ہرگز نہیں۔ مسلمانوں کے دنیا میں 60 ممالک اوآئی کا حصہ ہیں۔دنیا میں اتنے ممالک کا کہیں بھی کوئی اتحاد نہیں ہے،ایسا کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے۔ بہت سے ممالک وسائل سے مالا مال ہیں مگر افسوس صد افسوس کہ اُمہ کو جس قدر متحد اور متفق ہونا چاہیے اس کا شدید فقدان ہے۔نہ صرف اتحاد نہیں بلکہ کئی ممالک نفاق اور انتشار کی انتہاؤں پر ہیں۔جن میں سعودی عرب ایران دو طاقتور ملک سر فہرست ہیں،عملاً مسلمان ملک تقسیم در تقسیم ہوچکے ہیں۔فلسطین کی زبوں حالی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جیتنے فلسطینیوں پر ظلم ہو رہے ہیں اتنا ہی کشمیریوں کو بھی سفاکیت کا سامنا ہے۔ اب تو جس طریقے سے بھارت نے شب خون مارا ہے وہ مسلم ممالک کی غیرت کو للکارنے کے مترادف ہے،مگر مجموعی طور پر مسلم ممالک کی طرف سے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کیخلاف ایک بے رحم سکوت طاری ہے۔او آئی سی کی جانب سے جو کچھ ہونا چاہیے تھا، اس کی جھلک پاکستان کے کشمیر ایشو اور بھارتی رعونت وجارحیت کیخلاف بے لچک رویے،سخت اقدامات اور فعال و متحرک سفارتکاری سے روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے ۔ کچھ مسلم ممالک جو مسلمان ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی کے ہاں نوازے گئے اور ملت کی رہنمائی کے داعی بھی ہیں ، ان کی طرف سے انتہائی افسوسناک رویہ سامنے آیا ہے،انکے کچھ اقدامات سے بھارت کی کی کسی حد تک کشمیریوں کو بربریت کا نشانہ بنانے کے حوالے سے حوصلہ افزائی بھی ہوئی۔کچھ ممالک کی طرف سے مودی کو اعزازات سے نوازا گیا ہے وہ بھی اس موقع پر جب مودی کشمیریوں کی نسل کُشی پر تلا ہوا ہے،ایسے میں اسے ایوارڈ دیناکشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے والی بات ہے۔عمران خان اور تحریک انصاف حکومت نے کشمیریوں کی حمایت کا حق ادا کردیا۔عمران خان نے کہا کہ وہ کشمیر کے سفیر بنیں گے،انہوں نے ایسا اپنے قول وعمل سے کر کے دکھا دیا،کشمیر ایشومختصر وقت میں مکمل تیاری کے ساتھ سلامتی کونسل میں اٹھانابروقت اور ثمر آور فیصلہ ثابت ہوا۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممالک سمیت پندرہ کے پندرہ ممالک نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرکے بھارت کو سبکی سے دوچار کیا،اور پھر کشمیریوں کے ساتھ جمعہ کے روزجس طرح اظہار یکجہتی کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔اپوزیشن نے اس پر بھی سیاست کو گھسیڑے رکھااسکے عدم تعاون کے باوجود عوام ہجوم در ہجوم اور گرہ در گروہ گھروں سے نکلے دنیا کے کونے کونے میں کشمیریوں کی آوازپہنچانے کاعظیم فریضہ ادا کیا۔یہ اعلیٰ سفارتکاری ہی کا نتیجہ ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی ایشیاء کمیٹی جنوبی ایشیاء میں انسانی حقوق کی صورتحال پر جلد سماعت کرنے والی ہے جس میں مسئلہ کشمیر میں جاری انسانی بحران پر توجہ مرکوز ہو گی۔ کمیٹی کے ڈیموکریٹ چیئرمین بریڈ شرمن نے کمیٹی کا خود اجلاس بلایا ہے تاکہ، مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی بحران پر بات ہو سکے۔ گزشتہ روز یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس منعقد ہو ا، جس میں کشمیر اشو کو زیر بحث لایا گیا۔او آئی سی بھی کروٹ لے رہی ہے،اس نے پھر بھارت کو اس کے مظالم پر مطعون کیا ہے۔آج کشمیر ایشو عالمی منظر نامے پر پوری آب و تاب سے عیاں ہوچکا ہے،دنیا کو اس معاملے میں پہلی بار پاکستان کی بہترین سفارت کاری کے باعث آگاہی ہورہی ہے جس کے باعث بھارت پر کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم کرنے کا اقدام واپس لینے کیلئے دبائو ہے،بھارت کو یہ فیصلہ لامحالہ واپس لینا پڑیگا۔لیکن مسئلہ کشمیر بھارت کی حماقت کے باعث جس طرح عالمی منظر نامے پر چھایا ہوا ہے وہ ریورس ایبل نہیں ہے۔مسئلہ کشمیر کے حل کو اس قدر قریب لانا عمران حکومت کی بہترین پالیسی کا شاہکار ہے۔پاکستان بھارت کشیدگی انتہاؤں پر ہونے کے باوجود عمران خان جن معاملات میں کمٹڈ تھے،ان میں کوئی فرق نہیں آیا۔کرپشن کے خاتمے اور کڑے احتساب کے معاملے میں وہ کسی مصلحت اور بلیک میلنگ میں آنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ عوام سے کئے گئے وعدے نبھانے کیلئے بھی کوشاں ہیں۔ اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا ہے، روایت دس دس روپے لٹر اضافے کی رہی ہے کمی محض ایک ڈیڑھ روپیہ ہوتی تھی،اب آٹھ روپے لٹر تک کمی ہوئی ہے اور کمی ماہ بہ ماہ ہوتی رہے گی،اس سے ڈالر کی قیمت پر بھی فرق پڑا ہے،اسکی قیمت بھی گررہی ہے۔مہنگائی کا زور بھی اسی طرح ٹوٹے گا۔ ایشیئن ڈیولپمنٹ بینک نے سات ارب ڈالر کے امدادی منصوبوں کے اجرا کا اعلان کیا ہے،ہالینڈ کی ایک کمپنی تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہی ہے۔پی پی دور میں بجلی کا بحران بدترین صورت اختیار کرگیا تھامسلم لیگ کے دور میں گیس سیکٹر تباہی سے ضرور دوچار ہوا تاہم بجلی کا بحران کم ہوگیامگر اُس حکومت کے متعلقہ ذمہ دار انتظامی صلاحیتوں سے عاری ثابت ہوئے۔گورنر سٹیٹ بینک کی طرف سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 31فیصد کمی کی نوید سنائی گئی ہے،اس سے بھی مہنگائی کا طوفان تھمتا نظر آرہا ہے۔موجودہ حکومت کو بڑی اپوزیشن کا سامنا ہے،جس کی سوئی تعاون کیلئے اپنے رہنماؤں کی رہائی اورانکے پروڈکشن آرڈرز پر اٹکی ہوئی ہے۔اب جس طرح حکومت کو کئی کریڈٹ ملتے نظر آرہے ہیں سازشی عناصر انہیں ڈس کریڈٹ کرنے کی سازش نما کوشش کرینگے۔

متعلقہ خبریں