’’5 اگست یوم استحصال‘‘ کے طور پر کیوں منایا جائے گا؟؟؟

2020 ,اگست 4



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک): گزشتہ سال 5 اگست کے یک طرفہ اور غیر قانونی بھارتی اقدام کے خلاف مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور پاکستان میں اس اقدام کو ایک سال مکمل ہونے پر یہ دن ’’یوم استحصال ‘‘  کے طور پر منایا جائے گا۔ اس موقعے پر پورے پاکستان میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ دنیا بھر میں مودی سرکار کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی مذمت اور مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا-

’’یوم استحصال‘‘کے موقعے پر آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ صبح 10 بجے سائرن بجا کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ صدر مملکت شاہراہ دستور پر دس بج کر پانچ منٹ پر میڈیا سے گفتگو کریں گے  اور خصوصی یادگار ٹکٹ جاری کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ  کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنائی جائیں گی۔ اسلام آباد کی مشہور شاہراہ کشمیر ہائی کو سرینگر ہائے وے کا  باضابطہ نام دیا جائے گا۔

وزیر اعظم عمران خان اس دن کی مناسبت سے  آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کریں گے اور یکجہتی واک میں شرکت کریں گے۔ بزرگ حریت راہنما سید علی گیلانی نے 5 اگست کو پورے مقبوضہ کشمیر میں شٹر ڈاؤن کی کال دی ہے۔ یوم استحصال کشمیر تقریبات میں بھارت کے 5 اگست 2019 کے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدام کو بے نقاب کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں