تھیں جو لمحہ بھر کی باتیں

2021 ,دسمبر 19



اکادمی ادبیات اسلام آباد میں حلقہ علم و ادب کے زیر اہتمام ڈاکٹر فرحت عباس صاحب کی کتاب خامہ فرسائی کی تقریب رونمائی میں بطور مہمان اعزاز شرکت باعث تسکین رہی. معروف شاعر اور تقریب کے میزبان عارف فرہاد کی خوبصورت میزبانی نے تقریب کو چار چاند لگا دئیے. پی ٹی وی نیوز کنٹرولر اور لفظوں سے ترچھے انداز میں کھیلنے والی فرخندہ شمیم نے دل کو لگتے جملے کہے... ڈاکٹر فرحت عباس کی اس کتاب نے ثابت کیا کہ اچھا دوست وہی ہے جو ہر آنے والی کتاب کا حق اس پہ تبصرہ لکھ کر ادا کرے.... ان کی کتاب خامہ فرسائی میں ان کی خامہ فرسائیاں بتاتی ہیں کہ کریلے کڑوے ہوتے ہیں مگر دل سے پکائے جائیں تو لذیذ ڈش تیار ہو جاتی ہے...جو لذیدہ مرغ پلاؤ کی یاد دلا دیتی ہے معروف لکھاری اور کامیڈین طارق ملک، کرنل شاہد رفیق، موٹیویشنل سپیکر طلعت منیر ،فتح جنگ سے آئے پنجابی کے ہر دلعزیز شاعر شوکت رانا، انجم خلیق، باقر وسیم، بہت برجستہ بولتے جناب نسیم سحر، ثمینہ تبسم، جینا قریشی، جیا قریشی، شازیہ اکبراور بہت سارے احباب نے اس خوبصورت تقریب کو رونق بخشی اور اکادمی ادبیات کو اک حسین شام تحفہ میں دی فتح جنگی شاعر جناب شوکت رانا کی مشکور ہوں جنہوں سے خاص طور پہ مجھے اپنی کتاب کا تحفہ دیا. ڈاکٹر فرحت عباس نے بھی کتب دیں. عارف فرہاد لفظوں کے جادوگر ہیں ان کے حلقہ احباب میں محبت رقص کرتی ہے.. اور روشنی منعکس کرتی ہے سچ پوچھیے تو تقریب رونمائی کے بعد مشاعرے میں ان کا برجستہ انداز میں شعراء کرام کو سٹیج پہ مدعو کرنا ہی اس قدر دلچسپ تھا کہ ہر شاعر کے ہر شعر کو بھرپور پزیرائی ملی ہم نے بھی کچھ اردو، پنجابی، عربی اشعار سنائے اور احباب کی خوب خوب محبت سمیٹی جیت اور ہار۔۔۔۔۔۔۔ثمر کی باتیں سب کی سب۔۔۔بے پر کی باتیں کاش کبھی سچ۔۔ہو نہ پائیں میرے دل کے ڈر کی باتیں دھڑکن کی جو بولی سمجھے سمجھے آس نگر کی باتیں موت اصل ہے زندہ رہنا دھڑ سے الگ اک سر کی باتیں میرے لفظ بھگو دیتی ہیں اس سنگ مر مر کی باتیں عمر جیآ کی لے ڈوبی ہیں تھیں جو لمحہ بھر کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں