حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ

2017 ,اکتوبر 27



لاہور(ایس اے حکیم القادری): دین حق کی تبلیغ و اشاعت کا جو کام برصغیر کے خطہ میں سلسلئہ چشت اہل بہشت کے بزرگان نے انجام دیا ہے وہ ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ اس خطہ میں کا م خواجہ غریب نواز ؒ سے شرو ع ہوا جو مختلف ادوار سے ہوتا ہوا خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی ؒتک پہنچا۔حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان ؒ کے قبیلہ جعفر کا تعلق افغانستان سے تھا آ پ کی پیدائش سے چند ماہ قبل والد صاحب کا وصال ہو گیا تھا ،خواجہ سلیمان ؒ نے کم عمری میں قرآن شریف ختم کیا اور چند فارسی کتب کا مطالعہ بھی کیا۔ منقول ہے کہ خواجہ شاہ فخرالدین دہلوی ؒ نے خواجہ نور محمد مہاروی ؒ کو وصیت کی تھی کہ مغرب کے پہاڑوں سے ایک شہباز آئے گا اس کو کسی بھی طرح اپنے دام میں لے آنا وہ ہماری اور تمہاری نعمت کا وارث ہو گا اور مخلوق کو اس سے فائدہ پہنچے گا خواجہ مہاروی ؒ ہر سال اوچ تشریف لاتے تھے۔ محفل سماع جاری تھی کہ ایسے میں ان کی نگاہ خواجہ سلیمان ؒ پر پڑ تی ہے خواجہ سلیمان ؒ کی زندگی میں انقلاب آجاتا ہے اس وقت خواجہ مہاروی ؒ نے خواجہ سلیمان ؒ کو حضرت سید جلال الدین بخاری ؒ کے مزار پر لے جا کر بیعت کیا۔ کچھ دنوں کے بعد خواجہ مہاروی ؒ مہا ر شریف روانہ ہوئے جبکہ خواجہ سلیمان ؒ کو حکم ہوا کہ وہ دہلی جائیںاورخواجگان چشت کے مزارات کی زیارت کریں ۔ خواجہ سلیمانؒ نے اجمیر شریف میں خواجہ غریب نواز ؒ اور دہلی میں اپنے دادا پیر خواجہ شاہ فخر الدین دہلوی ؒ کے مزارات مقدسہ کی زیارت کی اور پھر مہا ر شریف آکر خدمت مرشد کرنے لگے تقریبا چھ ماہ یا اس سے زیادہ عرصہ خدمت خواجہ مہاروی ؒ کی دن رات ریاضت و مجاہدات کرتے رہے اور راہ سلوک کی منازل طے کیں۔خواجہ سلیمان ؒ ایک روز دیوان حافظ کا مطالعہ فرما رہے تھے کہ خواجہ مہاروی ؒ تشریف لائے آ پ نے خواجہ مہاروی ؒ کو ایک شعر سنایا جس کا ترجمہ ذیل میں ہے"مشاطہ کی صفت کا کمال یہ ہے کہ وہ بصورت چہرے کا دلکش بنا دے ۔"خواجہ مہارو ی ؒ نے شعر سنا تو خوش ہوئے اور پھر خود ایک شعر سنایا جس کا تر جمہ یہ ہے۔"یہ نہ کہہ تو بوڑھا ہو گیا ہے اور اب ذوق عشق نہیں رہا پرانی شراب ایک خاص مستی رکھتی ہے "۔

جب خواجہ مہاروی ؒ نے خواجہ سلیمان ؒ کو خلافت ظا ہری ،باطنی سے سرفراز کیا تو حکم دیا اب تونسہ جاﺅ۔ سلسلہ کی ترویج اشاعت کا کا م کرو ۔ کچھ عر صہ بعد خواجہ مہا روی ؒ کا وصال ہوا ۔ خواجہ سلیمان ؒ چند روز تک مزار خواجہ مہاروی ؒ پر معتکف رہے ۔ پھر تونسہ شریف تشریف لائے یہاں نکاح کیا سرائے اور مسجد تعمیر کی اور لنگر عام جاری کیا ۔ آپ ہر سال خواجہ مہاروی ؒ کے عر س پر مہار شریف تشریف لے جاتے تھے آپ سے کا فی لوگو ں نے رشد و ہدائیت پائی ۔ کئی درویشوں نے آپ سے آداب الطالبین ، فقرات ، لوائح عشرہ کا ملہ ،فصوص الحکم ، نقدالمخصوص ، احیاءالعلوم ، فوائد الفوائد ، سواءالسبیل ، تسنیم ، فتوحات مکیہ اور نفحات الا نس جیسی کتابیں پڑ ھیں اور درجہ کاملیت پر فائزہوئے ۔خواجہ سلیمان ؒ حضرت غوث الا عظم ؒ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ سے کا فی مشاہبت رکھتے تھے ۔ یہا ںابراہیم درویش ؒ فرماتے ہیں کہ مجھے شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی زیارت ہوئی ۔ خواجہ سلیمانؒ اور شیخ عبد القادرؒ میں زرہ برابر فرق نہیں ۔اللہ تعالی نے خواجہ سلیمان ؒ کو اس قدر اعلی ظرفی عطا کی تھی کہ آ پ جو چونسٹھ برس تک مسند پر رونق افروز رہے مگر اظہار کرامت کبھی نہ کیا ۔آخر ی عمر میں آپ خواجہ مہاروی ؒ کا عرس تونسہ شریف میں ہی کرواتے تھے ۔

آپ تما م عمر شریعت پر کاربند رہے سماع عام نہ کرتے تھے کہ لوگ جواز بنالیں کہ خواجہ سلیمانؒ عام سماع کرتے ہیں وصال سے ایک سال قبل ماہ ربیع الا ول کو آ پ کے در دولت پر بڑی مخلوق جمع ہو گئی تو آپ نے خادم سے پوچھا کہ یہ لوگ یہا ں کیوں آئے ہیں ۔ تو لوگو ں نے کہا کہ ہم نے آج صبح صادق کے وقت یہ آواز سنی ہے ۔کہ آج جو خواجہ سلیمان ؒ کو دیدار کرے گا وہ بہشتی ہوگا ۔اس دن آ پ نے ہزاروں لوگوں کو شرف دیدار عطا کیا ۔اس وقت خواجہ مہاروی ؒ کے سجادہ نشین و دیگر اصحاب بھی موجود تھے وہ سب بھی آئے اورزیارت و قدم بوسی کا شرف حاصل کیا۔ آ پ کے اس سلسلہ سلیمانیہ سے رشد و ہدایت کا ایک ایسا چشمہ پھوٹ پڑا کہ جس سے سیال شریف ، گولڑہ شریف ، شیخاواٹی اور حیدر آباد سند ھ میں عظیم الشان خانقاہیں قائم ہوئیں جن سے ہزاروں لوگ آج بھی فیض ظاہری و باطنی حاصل کرتے ہیں ۔ماہ صفر 1267ھ کا چاند نظر آیا تو آپ نے فرمایا کہ خدا خیر کرے کہ ہمارے صفر کا مہینہ آگیا ہے دن بدن ناسازی بڑھتی رہی ساتویں شب مرض شدت اختیار کر گیانماز عشاءاپنے حجرے میں اد ا کی پھر وظائف میں مشغول ہوئے پھر نما ز تہجد ادا کی اور مراقبہ میں چلے گئے ۔ مراقبہ سے فارغ ہوئے تو صاحبزادہ اللہ بخش سے فرمایا کہ تو کیا چاہتا ہے ۔خواجہ اللہ بخش نے جواب دیا بابا میں آ پ سے کچھ نہیں مانگتا صرف آپ کے درویشوں کے جوتے سیدھے کرتا رہوں ۔آپ نے یہ الفاظ سنے تو بہت خوش ہوئے اپنی توجہ خواجہ اللہ بخشؒ کی طرف کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے اپنی روح تم میں پھونک دی ۔ یہ کہ کر جان مالک حقیقی کے سپرد کر دی 7 صفر 1267 ھ کو نماز جنازہ ادا کی گئی مولوی دلدار بخش کا بیان ہے کہ اس قدر مخلوق تھی جو شمار سے باہر ہے۔آپ کے وصال کے بعد آ پ کے برادر حقیقی خواجہ خان محمد تونسویؒ سجادہ نشین ہوئے ۔جن کے کے وصال کے بعد خواجہ عطاءاللہ خاںتونسوی مسند سلیمانی کے سجادہ نشین ہیں۔ہر سال صفر کی 7,6,5 تاریخ کو خواجہ شاہ سلیمان تونسوی ؒ کا عر س آستانہ عالیہ تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں نہائیت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں