وطن بھی مجھ سے غریب الوطن کو ترسے گا۔۔دیار غیر میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتے اور پاکستان پاکستان پکارتے ہوئے انتقال کرجانیوالے 24 سالہ نوجوان کی میت کو اب کس کا نتظار ہے ؟جانیے اس خبر میں

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع نومبر 08, 2016 | 05:49 صبح

لاہور(شیر سلطان ملک)  کبھی کبھی بے بسی  اتنی  اذیت  ناک اور تکلیف دہ حقیقت کے روپ میں سامنے آجاتی ہے   کہ دل کٹنے لگتا ہے یہی حال جرمنی  میں موجود ان پاکستانی شہریوں کا تھا  جو چند روز قبل جرمنی کے ہسپتال میں انتقال کر جانیوالے  ایک 24 سالہ  پاکستانی نوجوان  خزیمہ نصیر  کو کینسر کے ہاتھوں  موت کے منہ میں  جاتا دیکھ رہے تھے لیکن کچھ بھی کرنے سے قاصر تھے ماسوائے اس کے  کہ  اس کے ساتھ  اس کے سامن

ے  کھڑے ہو   دھاڑیں مار مار کر روئیں   ۔ خزیمہ  نصیر ایک مہاجر کے روپ میں جرمنی  پہنچا تھا ۔ اسکے پاس دستاویزات  نہیں تھیں  اسکے باوجود جرمنی میں اس کا ہر ممکن علاج کیا گیا لیکن اس کا ہڈیوں کا کینسر بڑھتا چلا گیا  اور ڈاکٹروں نے اسے لاعلاج قرار دے دیا ۔

 پھر  انٹرنیشنل نیوز ویب سائٹس  حسن نثار ڈاٹ پی کے اور ڈی ڈبلیو اردو  کی کوششوں سے جرمنی سمیت  دنیا بھر میں  موجود پاکستانیوں تک اس  غریب الوطن نوجوان خزیمہ نصیر کا احوال پہنچا ۔

جرمنی میں مقیم پاکستانیوں نے اس ضمن میں     ایک قلاش بیمار اور لاچار  پاکستانی بھائی کی اپنی سی مدد کرکے ایک مثال قائم کر دی ۔  لیکن پاکستان کے حکمرانوں سیاستدانوں اداروں  سفارتخانے اور سماجی خدمات کا ڈھونگ رچا کر  لاکھوں ڈالر بٹورنے والوں کو  خزیمہ نصیر کا ذرا بھی خیال نہ آیا اور  خزیمہ نصیر اپنی یہ خواہش دل میں لیے چند روز قبل جرمنی کے ایک ہسپتال میں دم تو ڑ  گیا  کہ وہ تابوت میں بند ہو کو پاکستان  نہیں جانا چاہتا اور ایک بار اپنی کھلی  آنکھوں سے پاکستان اپنے گھر والوں اپنی بہنوں  دوستوں کو دیکھ لینا چاہتا  ہے پھر چاہے وہ مرجائے اسے ذرا دکھ نہیں ہو گا ۔

 کل جرمنی  میں خزیمہ نصیر کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے مسلمان بالخصوص پاکستانی  اس بات پر دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور انتہائی غمزدہ نظر آرہے تھے کہ خزیمہ کی  ایک آخری خواہش بھی پوری نہ ہوئی وہ زندہ  اپنے وطن واپس نہ پہنچ سکا اور اب مرنے کے بعد بھی کئی روز بعد اسکا تابوت وطن واپسی کا منتظر ہے ۔

یاد رہے کہ جرمنی میں مقیم پاکستانیوں نے اپنے طور پر مل جل کر  فنڈز اکٹھے  کرکے خزیمہ نصیر کی  میت کو پاکستان پہنچانے کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں لیکن تاحال خزیمہ کی میت جرمنی میں پڑی یہ پکار رہی ہے ۔

مجھے تو خیر وطن چھوڑ کر اماں نہ ملی

وطن بھی مجھ سے غریب الوطن کو ترسے گا