جھوٹ سے ملک تباہ ہوجاتے ہیں،اپنا چیف جسٹس آرہا ہے،خورشید شاہ

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع دسمبر 14, 2016 | 17:07 شام

 

اسلام آباد(مانیٹرنگ) قائد حزب اختلا ف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ عوام میں چہ میگوئیاں ہیں کہ چیف جسٹس حکومت کا اپنا ہے ، چیف جسٹس قابل احترام اور آزاد ہیں، لوگوں کو صرف عمل سے خاموش کرایا جاسکتا ہے۔
قائد حزب اختلا ف خورشیدشاہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کا رتبہ سب سے زیادہ ہوتا ہے،میرا ایوان عدلیہ اور عدالت سے زیادہ مقدس ہے، اس ایوان کو بچانے کیلئے اپوزیشن نے اہم کردار ادا کیا،پارلیمنٹ ایک سپریم ادارہ ہے یہاں پر بولے گ

ئے ہمارے ایک ایک لفظ کی اہمیت ہوتی ہے، ایوان بڑی قربانیوں اور مشکلوں سے حاصل ہوا یہی ایوان آئین بناتا ہے ادارے اسی سے جنم لیتے ہیں ،ہماری پارٹی نے اس ایوا ن کے لئے ڈنڈے کھائے، خون کی ضرورت پر اپنا خون دیا، جیل میں گئے، ضرورت پڑنے پر گولیاں بھی کھائیں لیکن اگر وزیراعظم ایوان کو کہے کہ ایوان میں بات کرنے کی اہمیت نہیں ، تو ہماری قربانیوں کا کوئی فائدہ نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کو یہ خیال ہونا چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ کی پیداوار ہیں، پارلیمنٹ نے ہی ان کی اہمیت کو تسلیم کروایا ہے لیکن افسوس ہے کہ وزیراعظم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وہ ایک سیاسی بیان تھاان کے بیان کو گواہی تسلیم نہ کیا جائے ،جن لوگوں کی سوچ اچھی ہو وہ لوگ سیاست کو عبادت سمجھ کرکرتے ہیں مگر آمریت سوچ رکھنے والے لوگ سیاست کو ہر جگہ جھوٹ ہی سمجھتے ہیں۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پارلیمنٹ میں کچھ اور عدالت میں کچھ اور بیان دیتے ہیں ان کے ایسے بیانات کی وجہ سے ہی لوگوں میں یہ باتیں گردش کرتی ہیں کہ چیف جسٹس بھی حکومت کا اپنا ہے،اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میں عدلیہ کی توہین کر رہا ہوں تو ایسا ہرگز نہیں ،میں تو محض میں صرف لوگوں کی طرف سے اٹھنے والی انگلیاں دکھا رہا ہوں میرا اپنا نظریہ تو یہ ہے کہ عدلیہ کو آزاد ہونا چاہیے، میں نہ تو عدلیہ پر انگلی اٹھانا چاہتا ہوں اور نہ ہی کسی اور ادارے پر لیکن اگر آپ عوام کو ایسی باتیں کرنے سے روکنا چاہتے ہیں تو انہیں عمل کے ذریعے ہی روکا جاسکتا ہے۔
خورشید شاہ نے وزیراعظم کے متضاد بیانات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومیںتوپوں سے تباہ نہیں ہوتیں بلکہ ایٹم بم سے تباہ ہونیوالی قومیںبھی اپنے پاو¿ں پر کھڑی ہوجاتی ہیں،قوم کوتباہ کرنے کے لئے ایک جھوٹ ہی کافی ہے ، جھوٹ قوموں کو تباہ کردیتا ہے کیونکہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے ایک اور جھوٹ بولا جاتا ہے ، جھوٹ ایک لعنت ہے چاہے کوئی بھی بولے،قطری شہزادے کے خط کی جانب سے اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ ایک وقت تھا کہ جب پوری قوم وزیراعظم کی کمر کے پیچھے چھپ جاتی تھی اور ایک وقت آج ہے جب وزیراعظم نے ایک قطری شہزادے کے خط کے پیچھے خود کو چھپایا ہواہے اگر ان سے کوئی سوال پوچھا جاتا ہے تو وہ جواب دینا مناسب نہیں سمجھتے،مانتے ہیں کہ وزیراعظم ملک پر حاکم ہوتا ہے لیکن حقیقی حاکم صرف اللہ کی ذات ہے وہ ہی کسی بھی شخص کو ملک و قوم پر حاکمیت کے اختیار سے نوازتا ہے، مگر وزیراعظم عوام کا تابع ہوتا ہے کیونکہ اسی عوام نے ووٹ کی طاقت سے اسے وزیراعظم کی کرسی پر بٹھایا ہوتاہے اگر وہی حاکم عوام کے مسائل نہ سنے تو سوالیہ نشان کھڑا ہوجاتا ہے ۔
اپنی تقریر کے آخر میں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سوچنے کی بات ہے کہ سلطنت تباہ ہوجاتی ہے دولت کسی کے کام نہیں آتی اور ایک وقت ایسابھی آجاتا ہے کہ وہی حاکم خود چار کندھوں کا محتاج بن جاتا ہے، دنیا میں دولت باقی رہتی ہے نہ ہی سلطنت باقی رہتی ہے، انسان کی ہوئی نیکی اور عوام کی خدمت دنیا میں انسان کے نام کیساتھ جڑ کر باقی رہ جارتی ہے۔