ایک کتھا۔۔۔

2019 ,نومبر 24



کتھا ہے صدیوں پہلے کی یہ۔۔۔۔
یا یوں کہہ لو کہ صدیوں اور سالوں کی پیمائش سے پہلے کا قصہ ہے
سنو جب رات دن بھی اتنے چھوٹے سے نہیں ہوتےتھے ۔۔۔
کئی دن صبح ہی رہتی
کئی ہفتے کی شب رہتی
زمانہ اتنا اچھا تھا کہ دیوی دیوتا زمین پر آتے تھے۔۔
خود گیت گاتے تھے ۔۔
اُن ہی وقتوں کا قصہ ہے۔۔۔۔ پربت کاسینہ چاک کرتا ہوا جل کومل چاندی ایسے انگ پر گرتا مانو انگاروں پر چھینٹ پڑی ہو ۔۔۔
دادرا میں بہتی ہوائیں کئی بار پلو سرکاتیں
دیوی کےانگ دکھاتیں
تو بہتے جھرنے کا ملھار لڑکھڑا جاتا ۔۔۔
جل میں بھیگی نرمل دیوی کی مسکراہٹ اففففف۔۔۔۔۔۔
بخدا اس سے زیادہ خوبصورت نظارہ آنکھ دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔۔
بار بار برستے جل کو مٹھیوں بھرنے کی معصوم چاہت۔۔
نئے سرے سے کانچ جیسی گردن اٹھائے
آنکھوں کو میچے
لچھے دار زلفوں کو جھٹک کے بل دیتی
گرتا پلو پھر سے مرمریں کمر کے گرد لپیٹ کر ٹھونس لیتی
پرندے دم بخود
کتنی حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔۔
وہ جھرنا ۔۔۔۔
وہ جھرنا خود کو سیف الملوک سمجھنے لگا تھا ۔۔۔
یہ اپسرا کہاں سے اتری ہے
کوئی دیوی ہے یا عام انسان ۔۔۔
کچھ بھی ہو وہ عام نہیں ۔۔۔
اس کو چھو کر گرتا پانی پہلے گلابی ہوتا
پھر سنہری رنگ میں ڈھل کر آگے بہتا جاتا
وہ بے خبر جس نے اب تک "اسے " نہ دیکھا تھا
جو یہ منظر دیکھ کر پتھر ہوگیا تھا
اور تمام پتھروں کے دل دھڑکنے لگے تھے ۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ ان لمحات کا فسوں ٹوٹے ۔۔
دیوی اسے دیکھے ۔۔
وہ تو بس دیدار کا خواہشمند تھا
کہ اچانک موج میں دیوی کی نظر اس کی آنکھوں سے مل گئیں۔۔۔
جو اس کے روپ کو
کئی پہروں سے خود میں سموئے جارہا تھا ۔۔
قدرت کے وردان کے کارن جان گئی وہ۔۔۔
اس وتّی کے دل کی حالت ۔۔
نظر سے نظر کو باندھ کے دیوی آگے بڑھی
اور ہاتھ بڑھایا ۔۔
اس لڑکے نے ہاتھ جو تھاما دیوی کا انگ انگ روشن ہونے لگا
دیوی خود اپنی اس تبدیلی پر حیراں تھی
اور اس سے زیادہ وہ لڑکا ۔
جانے کتنے دن وہ ایک دوجے کے ہاتھ کو تھامے
جنگل بستی دریا پربت ان دیکھی دنیاؤں سے گزرے
اور محبت نام کا جذبہ ان کے دل کو
سفید پرندوں کے پروں پہ رکھے قدرت کے دربار کھڑا تھا ۔۔۔ وہ دن بھی بہت بڑا تھا
دیوی اور انسان کی چاہت ایک طرف تھی
اک جانب دیوتاؤں کا تخت لگا تھا ۔۔
بات بجا تھی ان دونوں میں دل کے جذباتوں کے علاوہ سب جدا تھا ۔
قدرت نے پھر شرط یہ رکھی
اس وِتّی کو جسم کا سودا کرنا ہوگا
دیوی کو پانے کی خواہش بہت بڑی تھی
مگر وہ وِتّی اس سودے پر سوچ رہا تھا
جسم تیاگے ؟؟
نا نا ۔۔۔۔ وہ تو جسم و روح سے دیوی کی شکتی کے کارن دنیا تابع کر لیتا تو اچھا ہوتا
مگر وہ وِتّی روح کا تحفہ قدرت کی مھٹی میں دے کر دیوی پالے ؟
اتنا تو کم عقل نہیں تھا ۔
اس نے سوچا یہ میری تو دنیا میری ۔۔
قدرت مانے یا نہ مانے
دیوی کے انگوں کو چھو کر بات بنائی جاسکتی ہے
جان چھڑائی جاسکتی ہے ۔
قدرت سے تھوڑی مہلت لے کر دونوں پھر سے بن میں پہنچے اور جھرنے پر پیاس بجھائی
وتی نے پھر بات گھمائی
اپنی ساری مشکل رسمیں ریت رواجوں کے سب چہرے دیوی کے قدموں میں رکھ کر
قدرت سے بغاوت کر دینے کی راہ دکھائی ۔۔
دیوی چھل کو جان گئی تھی
اس کے ہاتھوں اور پیروں سے جان گئی تھی ۔۔۔
دل تھا باقی اور شاید امید بچی تھی ۔۔
وتی اپنی کہنی کہہ کر اپنی کرنی سے دیوی کو چھل کر اگلے سفر پر نکل پڑا تھا ۔۔۔
ان دیکھے شعلوں میں جل کر
دیوی کا من جھلس چکا تھا ۔۔
وہ اس جگہ سے ہل نہ پائی ۔۔
کھڑے کھڑے وہ پتھر بن گئی ۔۔
کومل انگ پتھر میں ڈھل گئے ۔۔
دل پتھر کا ۔
اتنی نرم کہ ہاتھ لگانے سے پہلے ہی
جسم تھرکنے لگا جاتا تھا
اب تو دیکھو اتنی سختی
کتنی صدیاں گزریں
وہ اب پتھر میں ڈھل کر آنے والے ہر وقتوں میں اپنے آگے ماتھا ٹیکنے والوں کی آہ وزاری سنتی ہے
اور ہنستی ہے ہنستی ہی چلی جاتی ہے

سمے کا آرا صدیاں ماہ و سال بناتا آج کے دن آپہنچا ہے۔۔ دیوی کے چاروں جانب بھگتوں کا اک دریا ہے
اونچا سا استھان جما ہے ۔
جس پر دیوی کھڑی ہوئی ہے
اُس اک پل سے اُس اک چھل سے
جب پریتم سے دھوکہ کھا کر ۔۔ وردانوں کو تیاگ دیا تھا ۔۔۔ سادھو آتے پنڈت آتے پرتگیا کے ہون کراتے ۔۔
جب جب کہتے تب تب پاتے ۔۔ دیوی نے پھر من پڑھنے کی کوشش کرنا چھوڑ ہی دی تھی ۔
اُس نے شاید اس دنیا سے رشتے ناطے ریت اور رسمیں چھوڑ ہی دیں تھیں ۔۔
پتھر تھی جب کیا کرسکتی تھی
قدرت اس کے در پر آنے والے ہر وتی کی ۔ آشا سنتی ۔۔
دیوی کے وردان کے صدقے وتی اپنی جھولی بھرتے ۔
آگے بڑھتے ۔۔
اک جولاہا اکثر آتا پر کچھ دن سے روز ہی آتا ۔
کچھ نہیں کہتا ۔۔
بس مندر میں پھول چڑھاتا ۔
دیوی کے قدموں کو چھوتا نیر بہاتا ۔۔
جانے کیسا روگی تھا وہ پتھر دیوی بھیگ رہی تھی ۔
اس کی خاموشی سے اس کے من کے بھید ٹٹول رہی تھی ۔ کچھ نہ جانی ۔ اتنا مانی ۔۔
ہے کوئی بھولا بھٹکا بادل امبر سے دھرتی پر آیا ۔
جانے اس کی اچھا ہے کچھ یا بس میری بھگتی کارن دنیا تیاگے بیٹھ گیا ہے ۔۔
جولاہا جب ہار پہناتا دیوی اندر مسکا جاتی
ور مالا ہی جان کر اس کو دل بہلاتی انگ لگاتی۔۔
روز جولاہا حاضر ہوتا پھول پروتا گجرا بندی تلک لگاتا ۔
دیوی پر سے خاک اڑاتا ۔اک اک انگ رگڑتا جاتا ۔۔۔
جولاہا جب سینے پر سے گزری شب کے پھول ہٹاتا ۔۔
دیوی کو سینے اندر جنبش ہوتی ۔
دھڑکن ہے کیا؟
پتھر کیسے دھڑک اٹھے گا؟؟ دیوی ہنستی ۔
صبح سے لیکر شام تلک... جولاہا اس کے چاروں طرف ۔ اپنی چاہت کے رنگ بکھیرے دھونی رمائے بیٹھا رہتا ۔
ساون رت تھی جب جولاہا اپنے گھر کو لوٹ نہ پایا ۔۔
اندر آ کر قفل لگایا
دیوی کے قدموں میں سر رکھے سسک پڑا تھا۔۔
کچھ نہیں کہتا ۔۔ دیوی کو اب یوں لگتا تھا ۔
جولاہے کی پریت وہی تھی ۔
پریت کی لیکن ریت وہی تھی ۔۔
پتھر میں دل بھی دھڑک اٹھا تھا
پریتم پھر قدموں میں پڑا تھا ۔
دیوی کے قدموں کو پکڑے من ہی من میں سوچ رہا تھا
کیسے اپنی بات کہوں میں ۔۔
کیسے دیوی کو بتلاؤں ۔
کیسے اپنے روگ بتاؤں۔ شش و پنج میں سمجھ نہ آیا ۔۔
ہونٹوں کو قدموں سے لگایا ۔۔
مانو کوئی طلسم تھا ٹوٹا صدیوں سے اک خول میں لپٹی کھڑی ہوئی تھی
بجلی کوندی دیوی کے ہاتھوں سے یگوں پرانا بندھن چھوٹا ۔
اک بوسے سے جان پڑی تھی
وہ جو کئی صدیوں سے کھڑی تھی ۔
جولاہے کے ہاتھ سے اپنے پیر چھڑا کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
جولاہےکے ریشم ایسے بالوں میں وہ
پریم سے انگلیاں پھیر رہی تھی ۔
قدرت سب کچھ دیکھ رہی تھی ۔۔
دیوی بولی ۔۔۔
کہہ دو پرتیم لوٹ آئے ہو میرے کارن ۔
کچھ تو بولو
کب سے تم کو سن لینے کی چاہ میں بیکل میرا تن من۔
ابھی جولاہا خواب سمجھ کر
آنکھیں ملتا دیکھ رہا تھا ۔۔
جس کی کہانی سنتے سنتے اس مندر تک آپہنچا تھا ۔ ساکشاک وہ دیوی اس سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔
مانگو مجھ سے جو چاہتے ہو ۔
دیوی خود کو دان میں دیتی مگر جولاہا آیا کیوں تھا ؟؟؟

دیوی میری پیاری دیوی ۔
تنگ ہوں میں جیون سے اپنے
دنیا مجھ سے روٹھ گئی ہے ۔۔۔ مایا کے چکر میں الجھا اپنے آپ سے باتیں کرتا
دکھ سکھ کہتا ایک قدیمی دوار پر پہنچا
اک سادھو جو من گیانی تھا ۔مجھ کو یہ منتر سمجھایا۔
تم کو پرسند کرلینے کا شلوک سکھایا ۔
دیوی اتنی حیرت میں تھی
مجھ کو پالینے کے کارن جولاہے نے جاپ کیا تھا
بیوی بچے چھوڑ کے دنیا سے منہ موڑ کے اس نے میری خاطر اپنا ہر سکھ دان کیا تھا ۔
دیوی مست ہوئی جاتی تھی چاہت کے جادو میں بہکی دیوی جولاہے سےیوں بولی ۔
میں نے بھی تو پتھر ہو کے سینے اندر سانسیں روکے
بس تیری پرتکشا کی ہے
کہہ دے
مانگ لے
اب تو جو کچھ چاہے ۔ قدرت ہم سے خوش لگتی ہے ۔ جولاہے نے بات شروع کی۔۔۔
دیوی میری چھ لڑکیاں ہیں اور میں اپنے باپ کا وارث ۔
میرا وارث کوئی نہیں ہے ۔
میرے ساتھ ہی میرے ونش کا نام مٹ جائے گا ۔
بس اک لڑکا اور خزانے۔۔۔۔۔ سکھی گھرہستی۔۔۔۔ چندن بیوی اور کوئی بھی لالچ ناہی ۔۔
دیوی اک سکتے کے عالم میں سنتی گئی۔۔۔۔
اپنے خول کا ٹکڑا ٹکڑا اپنی پلکوں کی جھالر پہ چنتی گئی کچھ نہ بولی ۔
دل پتھر کا ہونے لگا تھا ۔
پریتم نہ تھا یہ بھی دنیا ہی چاہتا تھا ۔۔
جا ری دیوی تیری قسمت ۔۔
تو کیا خوشیاں دان کرے گی ؟
تو خود جوگن تو برہن ہے ۔۔
دیوی کی آنکھوں کے آنسو جولاہے کی عرضی اوپر
پھول بن کر برس رہے تھے ۔ مانو عرضی سپھل ہوئی ہے ۔۔۔
جولاہا وردان کو پاکر اتنا خوش تھا اتنا خوش تھا
اور وہ دیوی بوجھل من سے اپنے دل کے ٹوٹے ٹکڑے چنتے چنتے
واپس اس استھان پہ جاکر کھڑی ہوئی تھی
مندر دوار سے جولاہے کو ونش و مایا دان ہوا تھا
قفل کھلا تو دیوی اپنی کل والی حالت میں واپس اسی جگہ پر جمی ہوئی تھی۔۔۔۔
(سلمیٰ سید )

متعلقہ خبریں