کوہ طور

2020 ,فروری 7



کوہ طور مقدس پہاڑ ہے۔ یہ اگر مقدس نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اس کی قسم نہ کھاتا۔

حضرت موسیٰ ؑ کو دنیا سے پردہ فرمائے تین ہزار دو سو سال ہو چکے ہیں، اور یہ پہاڑ اس وقت سے مقدس چلا آرہا ہے۔ زائرین تین ہزار سال تک کوہ طور پر ننگے پاؤں آتے رہے، سفر انتہائی مشکل اور دشوار ہوتا تھا، پتھر بھی نوکیلے تھے، چنانچہ %99 زائرین کے پاؤں زخمی ہو جاتے تھے، لوگ پہاڑ سے گر کر مر بھی جاتے تھے یوں ہر سال سیکڑوں لوگوں کی جان چلی جاتی تھی۔ لیکن میرے پیارو! سو سال قبل عیسائی، یہودی اور مسلمان علماء اکٹھے ہوئے اور زائرین کو جوتوں سمیت پہاڑ پر چڑھنے کی اجازت دے دی، یوں یہ سفر نسبتاً آسان ہو گیا ...

دوسرا کمال سینٹ کیتھرائن کے کسی نامعلوم درویش نے کیا، اس نے اکیلے پہاڑ تراشا اور زائرین کے لیے سیڑھیاں بنا دیں۔ اس ایک شخص نے 25 سال دن رات محنت کر کے تین ہزار سات سو پچاس (3750) سیڑھیاں بنائیں۔ کوہ طور کی چوٹی سر کرنا قطب شمالی، قطب جنوبی اور تبت کے اس علاقے، جہاں آکسیجن اتنی کم ہوتی ہے کہ ناک اور منہ سے خون آنا شروع ہو جاتا ہے، مقامات سے زیادہ مشکل ہے، اور وہاں کے مسافر لکھتے ہیں کہ :
اس چڑھائی کے دوران ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہاں سے اب واپس زندہ نہیں جایا جائے گا

عزیز دوستو! طور کے دامن میں عربی بدو آباد ہیں۔ انہوں نے ہر کلومیٹر بعد پہاڑ پر چائے خانے بنا رکھے ہیں۔ یہ کچے کوٹھے ہیں لیکن یہ زائرین کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ آخری چائے خانے میں کرائے پر کمبل بھی مل جاتے ہیں، کمبل گندے اور بدبودار ہوتے ہیں لیکن یہ شدید سردی میں کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے۔ لوگ کمبل اوڑھ کر چائے خانے کے کونوں میں دبک جاتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ چپک کر بھی بیٹھ جاتے ہیں۔ ہم اس چائے خانے میں داخل ہوئے تو دس بائی پندرہ فٹ کے اس کچے کوٹھے میں پچاس کے قریب لوگ کمبل اوڑھ کر بیٹھے تھے۔ اکثریت یورپی زائرین کی تھی، ان میں یہودی بھی تھے اور عیسائی بھی۔ کمبل اوڑھ کر کوہ طور پر سونے کی روایت یہودی ہے۔ یہ لوگ شادی کے فوراً بعد کوہ طور پر آتے تھے اور اپنی پہلی رات طور کے راستے میں کمبل کے اندر گزارتے تھے، ان کا خیال تھا یہ عمل صالح اولاد کے لیے ضروری ہے، یہ روایت آج بھی قائم ہے۔ طور کی چوٹی دنیا کا واحد مقام ہے جہاں تینوں آسمانی مذاہب کے زائرین اکٹھے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے ہیں ...

میرے پیارو! یہ وہ مقام ہے جہاں کوئی بندہ رہتا ہے، اور نہ کوئی بندہ نواز۔ لیکن جوں جوں سورج چڑھتا جاتا ہے اور لوگ طور سے نیچے اترتے جاتے ہیں، یہ لوگ توں توں دوبارہ یہودی، عیسائی اور مسلمان ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ طور کے دامن میں سینٹ کیتھرائن پہنچ کر یہ دوبارہ ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ یہ صرف کوہ طور کی برکت ہے جو چند لمحوں کے لیے تینوں مذاہب کے درمیان موجود دیواریں گر جاتی ہیں اور :
"اللہ کے بندے صرف اللہ کے بندے بن جاتے ہیں"

طور سے واپسی کا سفر چڑھائی سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ زائرین کھلی آنکھوں سے خطرناک سیڑھیاں اور ہولناک گھاٹیاں دیکھتے ہیں اور ہر بار رک رک کر یہ سوچتے ہیں کیا کل رات ہم اس مقام سے بھی گزرے تھے اور یہ سوچ کر ان کی روح تک کانپ جاتی ہے۔ پورے پہاڑ پر گھاس کا تنکا تک نہیں، کوئی پرندہ اور کوئی جانور بھی نہیں اور پانی کا کوئی چشمہ بھی نہیں۔ سورج براہ راست طور پر دستک دیتا ہے اور یوں صبح آٹھ بجے ہی گرمی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔ لوگ جیکٹس اور مفلر اتارتے چلے جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ :
" کوہ طور کا سیزن نومبر میں شروع ہوتا ہے اور اپریل میں ختم ہو جاتا ہے۔ باقی چھ ماہ رات کے وقت بھی ناقابل برداشت گرمی ہوتی ہے، پہاڑوں پر چڑھائی مشکل ہوتی ہے اور اترائی مشکل ترین ... "

عزیز دوستو! کوہ طور دنیا کے تمام پہاڑوں سے اس معاملے میں بھی آگے ہے اس کی اترائی گھٹنوں اور کمر کا سیدھا سادہ قتل ہوتا ہے، لہٰذا زائرین کے مطابق کہا جاتا ہے کہ سینٹ کیتھرائن واپس پہنچنے پر جسم کے تمام جوڑ پلاسٹک کے پائپ کی طرح کھوکھلے ہو چکے ہوتے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے جسم میں سے کڑک اور ٹھک ٹھک کی آوازیں آتی محسوس ہوتی ہیں۔ سینٹ کیتھرائن کوہ طور کے دامن میں ہے، یہ درگاہ چوتھی صدی عیسوی میں عیسائی پادریوں نے بنائی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ پر پہلی وحی یہاں اتری تھی۔ آپؑ آگ لینے کے لیے یہاں پہنچے تھے اور وہ جھاڑی آج تک قائم ہے جس میں آپؑ کو آگ دکھائی دی تھی۔ آپؑ نے جہاں اللہ کے حکم پر جوتے اتارے تھے وہ بھی موجود ہے۔ چرچ کی انتظامیہ نے وہاں لکڑی کی رکاوٹ لگا کر راستہ بند کر دیا ہے اور لوگ اس سے آگے نہیں جا سکتے۔ سامنے پتھر کا پلیٹ فارم ہے اور پلیٹ فارم کے اندر سے وہ جھاڑی باہر لٹک رہی ہے جہاں سے حضرت موسیٰ ؑ کو ندائے خداوندی سنائی دی تھی۔ یہ جھاڑی 33 سو سال سے ہری بھری ہے۔ نباتات کے ماہرین نے اس کے مختلف حصے دنیا کے مختلف خطوں میں کاشت کرنے کی کوشش کی لیکن یہ ناکام رہے۔ یہ دنیا کی کسی زمین پر کاشت نہ ہو سکی، آخری کوشش میں اس کی قلم جھاڑی سے چند فٹ کے فاصلے پر بودی گئی، پودہ نکل آیا لیکن وہ جھاڑی سے بالکل مختلف تھا۔ نباتاتی سائنس دانوں نے اس کے بعد جھاڑی کو معجزہ تسلیم کر لیا اور مزید کوشش ترک کر دی۔ یہودی تین ہزار سال سے جھاڑی کی زیارت کے لیے یہاں آ رہے ہیں ...

قارئین کرام! اس کے قریب ہی حضرت موسیٰ ؑ سے منسوب کنواں بھی ہے۔ مقامی لوگ اسے وہ کنواں کہتے ہیں جہاں حضرت موسیٰ ؑ حضرت شعیب ؑ کی صاحبزادیوں سے ملے تھے، لیکن یہ درست نہیں کیونکہ یہ ملاقات مدائن میں ہوئی تھی، اور مدائن اردن میں سعودی عرب کی سرحد پر واقع تھا۔ حضرت شعیب ؑ کا مزار اور مسجد بھی اردن میں ہیں۔ سینٹ کیتھرائن سے ذرا سے فاصلے پر حضرت ہارون ؑ کا مزار بھی موجود ہے لیکن میں نے یہ بھی پڑھا ہے کہ یہ مزار بھی درست نہیں۔ حضرت ہارون ؑ کا انتقال اردن میں پیٹرا کے قریب ہوا تھا اور وہ پیٹرا کے قریب جبل ہارون پر مدفون ہوئے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ جب تورات ملنے کے بعد کوہ طور سے واپس تشریف لائے تھے تو سامری جادوگر اور اس کے بچھڑے کا واقعہ پیش آگیا۔ بچھڑا بعد ازاں چٹان میں اتر گیا، چٹانوں میں آج بھی بچھڑے کے آثار موجود ہیں اور حضرت موسیٰ ؑ سامری جادوگر کے واقعے کے بعد حضرت ہارون ؑ اور بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر فلسطین کی طرف نکل گئے۔ حضرت ہارون ؑ دوران سفر پیٹرا کے قریب وصال فرما گئے، جب کہ حضرت موسیٰ ؑ نے بحر مردار (ڈیڈ سی) کے قریب کوہ نبو کے قریب وصال فرمایا۔ چنانچہ اس کم فہم کے ناقص مطالعہ کے مطابق سینٹ کیتھرائن اور گاؤں طور میں حضرت ہارون ؑ سے منسوب مزار درست نہیں۔ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ...

کوہ طور کی اترائی میں حضرت الیاس ؑ سے منسوب غار بھی موجود ہے، یہ طور پر واحد جگہ ہے جہاں دو قدیم درخت ہیں۔ یہ غار اور درخت طور سے اترتے ہوئے صاف دکھائی دیتے ہیں، حضرت الیاس ؑ بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے تھے۔ قرآن مجید نے انہیں الیاس! جب کہ بائبل نے ایلیا! کے نام سے مخاطب کیا۔ آپؑ بعلبک شہر کے رہنے والے تھے اور یہ شہر لبنان میں شام کی سرحد پر واقع ہے ...

حضرت ابراہیم ؑ نے بھی اس شہر میں قیام کیا تھا۔ اہل شہر بعل نام کے بت کی پرستش کرتے تھے، جو 60 فٹ بلند تھا اور سونے کا بنا ہوا تھا۔ یہ شہر بعد ازاں حضرت سلیمان ؑ نے حق مہر میں ملکہ بلقیس کو دے دیا تھا۔ حضرت الیاس ؑ کا مزار بعلبک میں ہے۔ آپؑ اپنی قوم سے تنگ آ کر کوہ طور تشریف لے آئے تھے۔ آپؑ نے یہاں قیام بھی فرمایا اور اعتکاف بھی۔ آپؑ واپس بعلبک تشریف لے گئے، لیکن آپؑ کا غار آج بھی برکتوں کا مرکز بن کر کوہ طور کی اترائیوں پر موجود ہے اور اہل ایمان یہاں کھڑے ہو کر دعا بھی کرتے ہیں۔ آپؑ سینٹ کیتھرائن میں بھی تشریف لائے تھے لیکن یہ مقام اس وقت تک چرچ نہیں بنا تھا، یہ محض ایک چٹان اور برننگ بش تک محدود تھا۔ آپؑ نے جہاں قیام فرمایا تھا وہاں بعد ازاں چرچ بن گیا، یہ چرچ آپؑ کی یادگار ہے ...

سینٹ کیتھرائن میں میرے نبی کریم خاتم النبیین سید المرسلین رحمت اللعالمین جناب رسالت مآب حضرت محمّد مصطفٰی سے منسوب وہ خط بھی موجود ہے جس پر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے دست مبارک کا نشان لگا کر عیسائی کمیونٹی کو قیامت تک جان، مال اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی گارنٹی دی تھی۔ عزیز دوستو یہ دلچسپ واقعہ کچھ یوں تھا کہ سینٹ کیتھرائن کے عیسائی پادری مدینہ منورہ آئے، تو میرے نبی کریم خاتم النبیین سید المرسلین رحمت اللعالمین جناب رسالت مآب حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے خود ان کی میزبانی فرمائی۔ وہ واپس جانے لگے تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا :
" میری! میرے ساتھیوں اور میری امت کی طرف سے قیامت تک آپ کی جان، مال اور عبادت گاہیں محفوظ ہیں ... "

پادریوں نے عرض کیا :
" آپ (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم) عہد نامہ تحریر فرما دیں ... "

تو سرور کائنات حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے عہدنامہ لکھوایا اور اپنے دست مبارک کا نشان لگا کر ان کے حوالے کر دیا۔ عہد نامے کی کاپی آج تک سینٹ کیتھرائن میں موجود ہے ...

متعلقہ خبریں