عشق رسالتؐ اور محبت اہلبیت ؑ کا بے نظیر سفر

2017 ,نومبر 10



لاہور(آغا سیدحامد علی شاہ موسوی):شہادت امام حسینؓ کے بعد اٹھنے والی آفاقی تحریک میں اربعین حسینیؓ ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اربعین سے مراد 40ہے یہ اس تاریخی دن کی یادگار ہے جب نواسی رسول ؐ سیدہ زینب بنت علیؓاور حضرت امام زین العابدینؓ کی سرکردگی میں اسیران کربلا کا قافلہ شام سے رہائی کے بعد روز عاشور61ھ کے شہداء کی زیارت کیلئے 20صفر کو کربلا پہنچا۔جب یہ اسیروں کا قافلہ کربلا کی سرزمین پر پہنچا تو وہاں صحابی رسول ؐ حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ نے مقصد حسینیت کو دائمی بقا بخشنے والی عظیم ہستیوں کا استقبال کیا ۔اسی مناسبت سے صحابی رسول ؐ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاریؓ کو روضہ امام حسین ؑ کا پہلا زائر اور مجاور بھی کہا جا تا ہے ۔20صفر ہی کے دن سر مبارک امام حسینؓ بدست امام زین العابدینؓ شام سے کربلا لایا گیا ہے اور آپ کے جسم اطہر کے ساتھ ملحق کیا گیا۔یہ روز بر صغیر میں چہلم شہدائے کربلا اور عرب و عجم میں اربعین حسینی کے نام سے منایا جاتا ہے ۔

تاریخی اسناد کے مطابق حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاری ؓنے عطیہ عوفی کے ہمراہ 20 صفر سنہ 61 ہجری کو کربلا آکر امام حسینؓکی زیارت کی۔جابرؓ جو اس وقت نابینا ہو چکے تھے نے نہر فرات میں غسل کیا اپنے آپ کو خوشبو سے معطر کیا اور آہستہ آہستہ امام کی قبر مطہر کی جانب روانہ ہوئے اور عطیہ بن عوفی کی رہنمائی میں اپنا ہاتھ قبر مطہر پر رکھا اور بے ہوش ہو گئے، ہوش میں آنے کے بعد تین باررسول خدا ؐکے پیارے نواسے کو پکار کر یا حسینؓ اور حسینؓ کہا اس کے بعد امام اور دیگر شہداء کی زیارت کی۔حضرت جابر ؓ نبی اکرمؓ کے بعد چونسٹھ سال یا اڑسٹھ برس تک زندہ رہے،حضور پاکؐ نے آپ کو امام حسینؓ کے پوتے امام زین العابدین ؓکے فرفرزند امام محمد باقرؓکو سلام پہنچانے کا کہا تھا۔

20صفر کے تاریخی واقعات کی یاد میںکئی کروڑ لوگ بلاتفریق مسلک و مکتب ومذہب 20صفر کے روز امام حسینؓ کے مرقد پر جمع ہوتے ہیں اور نواسہ رسولؐ ؐؐکے عظیم پیغام سے اپنی وابستگی کا اعلان کرتے ہیں ان زائرین کی اکثریت پاپیادہ کئی کئی سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے امام حسینؓ کے روضے تک پہنچتی ہے اور اسیران کربلا کی صعوبتوں کو یاد کرتے ہوئے دین اسلام اور انسانیت کیلئے ہر مصیبت برداشت کرنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے ۔اربعین کے روز اس قدر انسانوں کا روضہ امام حسینؓ پر ہجوم دانائے راز حکیم الامت علامہ محمد اقبال کے اس شعر کی عملی تفسیر ہے ۔

بیاں سر شہادت کی اگر تفسیر ہو جائے

مسلمانوں کا قبلہ روضہ شبیرؓجائے

جس حسین نےؓ خانہ کعبہ کی حرمت کی خاطر اپنا سر کٹایا تھا اپنے کنبہ کی لازوال قربانی پیش کی تھی رسولؐ زادیوں ۔۔۔۔۔۔کی چادریں قربان کی تھیں آج اللہ نے اس حسینؓ کویہ اعجاز بخشا ہے کہ آزادی و حریت کے اس عظیم پیشوا اور دین مصطفوی ؐ کے اس عظیم محافظ کو خراج پیش کرنے کیلئے دنیا جو ق در جوق چلی آرہی ہے ۔

اربعین حسینی کے موقع پر نجف سے کربلا تک پیدل واک جسے ’’مشی ‘‘ بھی کہا جاتا ہے خاص اہمیت کی حامل ہے نجف سے کربلا کا فاصلہ 85کلومیٹر کے لگ بھگ ہے ۔یہ طویل فاصلہ کئی کروڑ لوگ پیدل طے کرتے ہیں یوں اس پیدل واک کو کرہ ارض کی سب سے بڑی واک کا درجہ بھی حاصل ہے اور اسی طرح نجف سے کربلا تک جاری مسلسل دستر خوان کو دنیا کے سب سے برے دستر خوان کا درجہ بھی حاصل ہے جو 85کلومیٹر پر محیط ہے ۔اربعین حسینی ان مظلوم اسیروں کی فتح کی یادگار ہے ۔اربعین کربلا والوں کی یادگار ہے اور کربلا اسلام کے تحفظ کی ضمانت جس کا خوف ہر اسلام دشمن کے دل پر ہمیشہ کیلئے بیٹھ چکا ہے ۔۔۔۔۔کربلا کے اسیروں کی تاسی میں ان گنت انسانوں کا سرزمین کربلا پر ورود وارفتگی دین کے جذبے کا اظہار ہے کیونکہ کربلا کے اسیروں کی یہ واپسی ایک معنویت رکھتی ہے ۔بظاہر حضرت زینب بنت علیؑ اور حضرت امام زین العابدین ؑ کی ایک لٹے پٹے قافلے کے ساتھ آمد تو یقینا ایک درد سمیٹے ہوئے ہے کہ جس قافلے کے ساتھ جانے والے کئی کم سن بچے اور بچیاں کربال سے کوفہ اور کوفہ سے شام کے راستوں میں دم توڑتے رہے لیکن اسیران کربلا کے قافلے نے جو عظیم کام سر انجام دیا وہ شہادت حسین ؑ کے مقصد کو بازاروں اور درباروں میں اپنے خطبات کے ذریعے عام کرنا تھا۔ظالم حکومت نے عام لوگوں کے سامنے جھوٹا پروپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ حکومت نے کربلا میں بعض سرکش باغیوں کا سر کچلا ہے جو دین۔۔۔۔۔کے مخالف تھے لیکن جب اسیروں کا یہ قافلہ مختلف شہروں سے گزرتا رہا ویسے ویسے اپنے دلیرانہ خطبات کے ذریعے حکمرانوں کے چہروں پر پڑے جھوٹے اورمنافقانہ نقاب اتارتا رہا جس کی طاقت ور حکمرانوں کو ہر گز توقع نہ تھی۔اسیران کربلا کے یہ خطبات قرآن و حدیث سے لبریز ہوتے تھے جنہوں نے عوام الناس کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور وہ لوگ جو ایک شکست خوردہ لشکر اور اجڑے اسیروں کا تماشا دیکھنے کیلئے جمع ہوتے تھے وہ ان اسیروں کے خطبات سن کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگتے یوں ظالم حکومت کے خلاف ایک انقلاب نے انگڑائیاں لینی شروع کردیں ۔

جب نبی کریم کے گھرانے کی عفت مآب خواتین کو دربار یزید میں لایا گیا اورجب یزید کے دربار میں نواسی رسول ؐ حضرت زینب کبری سلام اللہ علیھا کی نظر اپنے بھائی امام حسینؑ کے کٹے ہوئے سر پر پڑی تو ایک نہایت ہی افسردہ آواز میں فریاد بلند کی:

اے حسینؑ اے محبوب رسول خدؐا،اے فرزند مکہ و منی ٰ، اے فرزند فاطمہ زہراؑ سیدۃ النساء العالمین اور اے فرزند بنت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔اس واقعے کے راوی نقل کرتے ہیں: خدا کی قسم حضرت زینبؑ کی اس فریاد کے ساتھ یزید کے دربار میں موجود تمام لوگوں نے رونا شروع کیا۔اسی اثنا میںیزید نے چھڑی کے ساتھ امام حسین ؑکے مبارک ہونٹوں کے ساتھ کھیلنا شروع کیا۔ "ابو برزہ اسلمیؓ" بعض روایات کے مطابق سہل ابن سعدؓ جو کہ پیغمبر اکرمؐ کے صحابہ میں سے تھے، وہ بھی یزید کے دربار میں حاضر تھے نے یزید سے مخاطب ہو کر کہا:اے یزید! آیا اس چھڑی کے ساتھ فاطمہ کے نور نظر، حسینؑ کے ہونٹوں سے کھیلتے ہو؟! میں نے اپنی آنکھوں سے پیغمبر اکرمؐ کو دیکھا جو حسینؑ اور اس کے بھائی حسنؑ کے ہونٹوں کا بوسہ لیتے ہوئے فرما رہے تھے: "آپ دونوں جنت کے حوانوں کے سردار ہیں خدا تمہیں شہید کرنے والے کو ہلاک کرے اور اس پر لعنت بھیجے اور اس کا ٹھکانہ جہنم قرار دے جو بہت بری جگہ ہے۔اس موقع پر یزید کو بہت غصہ آیا اور اس نے اس صحابی کو اپنی محفل سے نکال باہر کرنے کا حکم دیا پھر اس نے کچھ شعر گنگنانا شروع کیا جسے ابن زبعری نے غزوہ احد کے بعد گنگنایا تھا۔

’’کاش کہ میرے وہ بزرگ جو جنگ بدر میں قتل کر دیئے گئے تھے وہ آج ہوتے اور دیکھتے کہ کس طرح قبیلہ خزرج نیزہ مارنے کے بجائے گریہ وزاری میں مشغول ہیں۔

اس وقت وہ خوشی میں فریاد کرتے اور کہتے : اے یزید ! تیرے ہاتھ شل نہ ہوں!‘‘

یزید کا یہ فاسقانہ کلام سن کر نبی کی نواسی سیدہ زینب بنت علی ؑ کو جلا ل آیا اور انہوں نے تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا

سب تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے۔ اور خدا کی رحمتیں نازل ہوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اور ان کی پاکیزہ عترت و اہل بیتؑ پر۔ اما بعد ! بالاخر ان لوگوں کا انجام برا ہے۔۔۔۔۔

اربعین کے دن کو زندہ رکھنا اسے منانا آج امام حسینؓ کے عظیم مقصد سے وابستگی کی علامت بن چکا ہے ۔امام حسینؓ سے وابستگی آزادی و حریت کا درس دیتی ہے ۔امام حسینؓ سے وابستگی انسانی اقدار اور اعلی مقاصد کیلئے قربانی کے جذبے کو بیدار رکھتی ہے ،امام حسینؓ سے وابستگی ظالموں کا خوف دلوں سے ختم کردیتی ہے ۔

جس طرح ہر عبادت اپنے اندر ایک فلسفہ رکھتی ہے نمازانسان کو برائیوںاورمنکر ات سے بچاتی ہے، روزہ تزکیہ نفس کا درس دیتا ہے اسی طرح امام حسینؓ کویاد رکھنا ان کا تذکرہ کرنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے جذبے کو زندہ رکھتا ہے کیونکہ امام حسینؓ کا قیام کا مقصد ہی اسلام پر چھا جانے والی برائی کا خاتمہ اور رسول خداحضرت نبی کریمؐ کی شریعت کا احیاء تھا۔جب تلک کربلا والوں کا تذکرہ زندہ ہے دین پر فداکاری کا جذبہ بھی زندہ رہے گا۔جب تک کربلا کا ذکر باقی ہے کشمیر سے فلسطین تک نہتے حریت پسندجدید ترین ہتھیاروں سے لیس طاقتورترین قوتوںسے بے خوف ہو کر ٹکراتے رہیں گے ۔

جب تک اس خاک پہ باقی ہے وجود اشرار

دوش انساں پہ ہے جب تک حشم تخت کابار

جب تک اقدار سے اغراض ہیں گرم پیکار

کربلا ہاتھ سے پھیکے گی نہ ہرگز تلوار

کوئی کہہ دے یہ حکومت کے نگہبانوں سے

کربلا اک ابدی جنگ ہے سلطانوں سے

متعلقہ خبریں