جب حکمران معاملات چلانے کیلئے بہترین ٹیم کا انتخاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

2020 ,فروری 17



ہر حکمران معاملات چلانے کیلئے بہترین ٹیم کا انتخاب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کونسے معاملات چلانا چاہتا ہے یہ الگ بحث ہے۔ کئی کی مال بنانے میں دلچسپی ہوتی اور وہ اسی طرح کی ٹیم بناتے ہیں۔اچھی گورننس کیلئے عمران خان نے بھی بہتر لوگ لانے کی کوشش کی۔ ضروری نہیں آپ کا ہر انتخاب لا جواب ہو۔عمران کے چنیدہ وسیم اکرم‘ انضمام، وقار یونس،عاقب اور دیگر سپر سٹار بن گئے۔ ایک منصور اختر تھے، عمران خان نے اپنے ’ویو رچرڈز‘ کوآگے بڑھانے کیلئے پورا زور لگایا مگروہ قربانی کے بکرے کی طرح رسہ پیچھے کھینچتے رہے۔ عمران کی حکومتی ٹیم میںکچھ ماٹھے لوگ بھی ہونگے۔ البتہ کچھ کرگزرنے کا عزم و ارادہ رکھنے والوں کی کارکردگی خود بولتی ہے۔ مراد سعید‘ حماد اظہر، فواد چودھری اپنی وزارتیں بہتر چلا رہے ہیں ۔ شیخ رشیدکو منقارزیر ہی رہنا ہے۔ ٹرینوں کی آمدورفت بروقت‘ ریلوے خسارے سے نکلے‘ نئی ٹرین پر ٹرین چلے‘ وہ ریلوے کو جس قدر بھی جدتوں سے ہمکنار کریں‘ انکے حریف جو کبھی حلیف اور ’’شریف‘‘ تھے‘ وہ ریلوے کے بارے میں شیخ رشید کی کارکردگی نہیں‘ انکی شکل و شخصیت کو دیکھ کر نالائقی و نااہلی کا فتویٰ لگاتے ہیں۔ حادثات کے گراف کا موازنہ کریں،تو انکے کھاتے میں ضرورت پڑنے پر ایمرجنسی بریک لگانے کوبھی شامل کردیا جاتا:جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

یہ اپنی اپنی عینک کی بھی بات ہے، تنقید برائے اصلاح خوش آئند ، جو لوگ کوے کو سفید کہنے پر تل جائیں،علاجے نیست۔کوئی بغض سا بغض ہے جو کچھ عمران خان کر رہے ہیں‘ وہ سابقون کرتے تو بلے بلے‘ بہہ جا بہہ جا ہو جا تی۔ عمران خان کرے تو کیوں کرے،اسے کریڈٹ کیوں جائے۔ بہرحال سب مانتے ہیں، عمران خان کرپٹ نہیں۔ بس ایک یہی خوبی وزیراعظم کیلئے کافی ہے۔۔ عمران خان کے ہوتے ہوئے اعلیٰ ایوانوں سے کرپشن اور منی لانڈرنگ ممکن نہیں رہی۔ انکے بارے میں کرپشن فری ہونے کا تصور ہی کرپشن میں کمی کا باعث ہے۔نیت بر مراد: یہ سیٹ اپ قائم رہا توچند سال میں کرپشن کا نام و نشان بھی نظر نہیں آئیگا۔ابھی انکی ٹیم میں بھی دو نمبر لوگ ہونگے،بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی۔

متعلقہ خبریں