جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریاں ۔۔۔ آپ کس کس طرح ان کا شکار بن سکتے ہیں؟ سائنسدانوں نے مکمل تفصیلات بیان کردیں، آپ بھی جانئے

2017 ,مئی 6



لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) جنسی بیماریوں کے بارے میں عام تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ جنسی تعلقات سے پھیلتی ہے لیکن دراصل یہ بعض ایسے طریقوں سے بھی ایک فرد سے دوسرے میں منتقل ہو سکتی ہیں جن کا جنسی عمل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ 
جریدے کاسموپولیٹن کی رپورٹ کے مطابق جنسی خارش کی اقسام سمپلیکس ٹائپ 1 اور سمپلیکس ٹائپ 2 سے متاثرہ افراد کی استعمال کردہ لپ بام کے ذریعے بیماری کا وائرس دوسرے افراد میں منتقل ہوسکتاہے۔ اس بیماری سے بچنے کے لئے ہمیشہ کوشش کریں کہ کسی کے ساتھ لپ بام شیئر نہ کریں اور اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو جس شخص کی صحت کے متعلق پورا اعتماد ہو صرف اسی کے ساتھ شیئر کریں۔ 
چہرے بالوں کی صفائی نہ رکھنے کی صورت میں ان میں بھی جراثیم پید اہوجاتے ہیں۔ صفائی سے مسلسل غفلت کی صورت میں فنجائی اور جنسی خارش کے جراثیم بھی منتقل ہوسکتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ ساحل پر جلد کو دھوپ لگوانے کیلئے بھی دوسروں کے استعمال کردہ ٹیننگ بیڈ استعمال کرلیتے ہیں، جو جراثیموں کی منتقلی کا باعث بنتا ہے۔ 
جراثیم سے آلودہ آلات سے جسم پر ٹیٹو بنوانا بھی آپ کو جنسی انفیکشن میں مبتلا کرسکتاہے۔ ٹیٹو بنانے والی سوئیوں سے ہیپاٹائٹس بی اور سی اور ایڈز جیسی بیماریوں کی منتقلی کے واقعات بھی سامنے آچکے ہیں۔ جس نے بہت سے لوگوں پریشانی میں ڈال دیا ہے۔

متعلقہ خبریں