عرب ملک میں بندر کی نوجوان لڑکی کے ساتھ ایسی شرمناک حرکت کہ ہنگامہ برپا ہوگیا،16ہلاک، 50زخمی کیونکہ۔۔۔

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع نومبر 21, 2016 | 17:14 شام

تریپولی (شفق ڈیسک) بندر انتہائی شریف جانور ہے لیکن شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی بندر ایسی شیطانی حرکت بھی کر سکتا ہے کہ جس کی وجہ سے ایک ملک میں جنگ چھڑ جائے اور درجنوں افراد اس کے شعلوں کی بھینٹ چڑھ جائیں۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کیمطابق یہ حیرت ناک واقعہ لیبیا میں پیش آیا ہے جہاں صباح شہر میں ایک بندر کی وجہ سے خوفناک جنگ چھڑگئی ہے۔ رپورٹ کیمطابق غدافہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک دکاندار کا بندر دکان کے باہر بیٹھا تھا۔ دریں اثناء وہاں سے طالبات کا ایک گروپ گزرا

تو شیطان صفت بندر ان پر جھپٹ پڑا اور کچھ طالبات کے لباس نوچ ڈالے۔ اتفاق سے ان طالبات کا تعلق غدافہ قبیلے کے مخالف اولادِ سلیمان قبیلے سے تھا۔ جونہی انہیں پتہ چلا کہ غدافہ قبیلے کے بندر نے ان کی لڑکیوں پر شرمناک حملہ کیا ہے تو سینکڑوں لوگ ہتھیاروں سے لیس ہو کر غدافہ قبیلے پر حملہ آور ہو گئے۔ پہلے حملے میں غدافہ قبیلے کے تین افراد مارے گئے جبکہ طالبات پر حملہ کرنیوالے بندر کا بھی تعاقب کر کے اسے مار ڈالا گیا۔ اپنے تین آدمیوں کی ہلاکت پر غدافہ قبیلہ بھی شدید مشعل ہو گیا اور اسکے افراد نے بھی ہتھیار اٹھا لئے۔ اس کے بعد گھمسان کا ایسا رن پڑا کہ پورا شہر درہم برہم ہو کررہ گیا ہے۔ گزشتہ چار روز سے جنگ جاری ہے جس میں اب تک کی اطلاعات کیمطابق 16 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ زخمی ہونیوالوں کی تعداد کا تو کچھ حساب کتاب ہی نہیں۔ یاد رہے کہ یہ دونوں قبائل علاقے کی طاقتور ترین مسلح طاقتیں سمجھے جاتے ہیں۔ پانچ سال قبل لیبیا کے صدر معمر قذافی کا تختہ الٹنے کے بعد درجنوں قبائل نے اپنے لشکر تیار کرلئے ہیں۔ غدافہ اور اولادِ سلیمان قبائل کے بھی اپنے لشکر ہیں اور انکے پاس ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ راکٹ اور ٹینکوں جیسے ہتھیار بھی موجود ہیں۔ بندر کی وجہ سے شروع ہونیوالی جنگ میں دونوں اطراف ہر طرح کے ہتھیار استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے ہر جانب تباہی کے مناظر ہیں اور تاحال یہ جنگ جاری ہے۔