زندگی لیتی ہے کیسے کیسے امتحان نہ پوچھ۔۔۔

2021 ,دسمبر 29



زندگی لیتی ہے کیسے کیسے امتحان نہ پوچھ۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہے کہنے کو۔۔۔ صرف نام سے آشنا اور چند ایک ملاقاتوں کے سوا میرے پاس ان کا۔کوئی تعارف بھی نہیں ہے۔۔ بس جانتی ہوں تو اتنا کہ 25 اکتوبر2020ء کو ہونے والی ملاقات زندگی کی آخری ملاقات بن گئی۔۔ صدمے سے دوچار کبھی ہنستی ہوں تو کبھی آنکھوں کے گوشے صاف کرتی ہوں ۔۔۔ کیونکہ یقین اور بے یقینی کی یہ کیفیت انسان کو تھوڑا ابنارمل سا بنا دیتی ہے۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہی کیسے یقین کروں۔۔۔ کنفرمیشن کے لیے 3 جگہ کال کی ہے ۔۔ یہاں تک کہ۔گھر بھی فون کر کے اس بات کی تصدیق کر لی۔۔ گھر سے چیخ و پکار کی آوازیں اور ایمبولینس کا شور خود گواہی دے رہے تھے مگر۔۔۔ میری ان سے کوئی خاص اٹیچمنٹ نہیں تھی۔۔۔ لیکن پھر بھی آنکھ بار بار نم ہو رہی ہے اور دل سے آواز آ رہی ہے کہ وہ یہ نہیں ہو سکتیں۔۔۔ زبان تو وہ کلمات ادا کرنے سے بھی انکاری ہیں جو کسی کی موت کا سن کر فورا بولے جاتے ہیں۔۔۔ کہنے کو آج کچھ بھی نہیں۔۔۔ بس اتنا جانتی ہوں کہ زندگی کی حقیقت بس یہی ہے۔۔۔ اللہ پاک آپ کی مغفرت فرمائے۔۔ آپ کے درجات بلند ہوں۔۔ آپ کا اگلے کا سفر آسان ہو۔۔ الہی ثم آمین

متعلقہ خبریں