گر مشکل ہے حیات

2022 ,جنوری 5



مہر ماہ عموماًزندگی دھندلی پھیکی یا اس سے بڑھ کر تکلیف دہ اور اذیت ناک اس وقت ہوتی ہے جب اسے گزارنے کے ڈھنگ سے ہم بے بہرہ ہوتے ہیں۔زندگی میں پیسے کی بڑی اہمیت ہے۔ پیسے کی بہتات سے ہر آسائش حاصل کی جا سکتی ۔ پیسہ نہ ہو توروٹی روزی کے لالے پڑے رہتے ہیں۔کسی نے کہا تھا انسان دنیا میںغریب آئے تو اس کا قصور نہیں ہے۔ غربت سے کر مر جائے توقصوروار ہے۔دنیا میں رزق بکھراہوا ہے۔ انسان میں اسے سمیٹنے کاسلیقہ اور طریقہ ہونا چاہیے۔زندگی کی لطافت اور لطف پیسے سے نہیں ہے۔ زندگی گزارنے کے طور اور طرز سے ہے۔ ٹورسٹ یعنی سیاح کی طرح زندگی گزاریں تو زندگی کی بے اعتنائی بھی رعنائی میں بدل جاتی ہے۔ یا کم از کم بے کیف نہیں رہتی۔ٹورسٹ اور ٹریولر میںفرق ہے۔ٹورسٹ یعنی سیاح دنیا کو دیکھنے ،جاننے اور سیروسیاحت کے لئے گھر سے نکلتا ہے۔ ٹریولر یعنی مسافر نے کسی کام سے سفر کرنا ہوتا ہے۔ایک گاڑی میں جہاز یا رکشے میں سیاح اور مسافر جا رہے ہیں۔ عمومی طورپر دونوں کے احساسات الگ الگ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر گاڑی میں سفر ہو رہا ہے۔ راستے میں جگہ جگہ رش کی وجہ سے رکاوٹ آتی ہے۔ ڈرائیور کو کوفت ہوتی ہے۔ گاڑی میں دیگر مسافر ہیں تو وہ بھی لیٹ ہونے پر پریشانی اور کبھی تو بر گشتہ بھی ہو جاتے ہیں مگر ٹورسٹ ان لمحات سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے۔گاڑی کے آگے کوئی بائیک آگئی ، ریڑھی آگئی یا کچھ بھی تاخیر اور رکاوٹ کا سبب بن رہا ہے۔ اس پر اس کی توجہ ہوتی ہے۔ اس نے اپنی منزل پر پہنچنے کے لیے ایک ایک لمحے کو انجوائے کرتے ہوئے گزارنا ہوتا ہے۔ سیاح جلد باز نہیں ہوتا۔ اگر سیاح کی اگلی فلائٹ(کنیکٹڈ)مس ہوگئی ہے اس کے لیے یہ بھی ایک ایڈونچر ہوتا ہے۔ دنیا میں آپ جو کچھ بھی دیکھتے ہیں وہ آپ پہلی اور آخری بار دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ہاں ایسا ہی ہے بالکل ایسا ہی!۔ میرا یہ پوائنٹ سمجھ میں آ جائے تو کئی کے لئے زندگی کی کلفتیں ،حلاوتوں میں بدل سکتی ہیں ۔ میں جس جگہ بیٹھا لکھ رہا ہوں، میز کرسی وہی ہے۔ مگر کل اس میز پر جو کتاب پڑی تھی وہ آج نہیں ہے۔موبائل اور لیپ ٹاپ پر چند لمحے پہلے والا منظر نہیں ہے۔گھڑی میں سیکنڈ والی سوئی ایک فگر سے گزر گئی دوبارہ پھر گزرے گی اس وقت وہ منظر نہیں ہو گا جو،اب ہے۔ انسان کی طرح زندگی میں بھی کوئی لمحہ دوبارہ نہیں آتا۔ یہ حیات ایک بار ہی ہماری دسترس ہے۔زندگی میں آسانی کیسے لائی جاسکتی ہے۔ اسے خوبصورت اسی صورت بنایا جا سکتا ہے کہ ہر لمحے کو مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے۔

متعلقہ خبریں